اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات نے متحدہ عرب امارات کو ایران کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ ابوظہبی دیگر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات نے متحدہ عرب امارات کو ایران کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے، فائل فوٹوتصویر: Evaldas Mikoliunas/imageBROKER/IMAGO
اشتہار
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) تقریباً 2,800 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
سن دو ہزار بیس میں امریکہ نے ابراہیمی معاہدے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروائے تھے۔
لندن میں قائم تھنک ٹینک RUSI کے ماہر مائیکل اسٹیفنز کے مطابق، ''یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایران کی جانب سے اس پر حملوں کی ایک بڑی وجہ ہیں، جیسے کہ یہ ایک طرح کی سزا ہو۔‘‘
اسٹیفنز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ 'اگر ہمیں اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے تو ہم اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنائیں گے‘۔
متحدہ عرب امارات کی اسرائیل اور امریکہ سے قربت
ایرانی حملوں کے جواب میں یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے پہلی بار اپنا آئرن ڈوم دفاعی نظام بھی یو اے ای میں تعینات کیا۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای جتنا اسرائیل کے قریب جاتا ہے، ایران کے لیے اسے نشانہ بنانے کی وجہ بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ ابو موسیٰ اور تنب جزائر کے تنازعے نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے ۔ ایران ان جزائر پر کنٹرول رکھتا ہے تاہم یو اے ای بھی ان پر دعویٰ کرتا ہے۔
وہ ممالک جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا
فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قیام 1948 میں عمل میں آیا تھا۔ اس بات کو سات دہائیوں سے زائد وقت گزر چکا ہے مگر اب بھی دنیا کے بہت سے ممالک نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ یہ ممالک کون سے ہیں؟
تصویر: Getty Images/AFP/M. Kahana
1. افغانستان
افغانستان نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات ہیں۔ سن 2005 میں اُس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر الگ فلسطینی ریاست بننے کا عمل شروع ہو جائے تو اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Marai
2. الجزائر
عرب لیگ کے رکن شمالی افریقی مسلم اکثریتی ملک الجزائر اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کرتا اس لیے دونوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔ الجزائر سن 1962 میں آزاد ہوا اور اسرائیل نے اسے فوری طور پر تسلیم کر لیا، لیکن الجزائر نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ اسرائیلی پاسپورٹ پر الجزائر کا سفر ممکن نہیں۔ سن 1967 کی جنگ میں الجزائر نے اپنے مگ 21 طیارے اور فوجی مصر کی مدد کے لیے بھیجے تھے۔
تصویر: picture-alliance/Zumapress/A. Widak
3. انڈونیشیا
انڈونیشیا اور اسرائیل کے مابین باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک کے مابین تجارتی، سیاحتی اور سکیورٹی امور کے حوالے سے تعلقات موجود ہیں۔ ماضی میں دونوں ممالک کے سربراہان باہمی دورے بھی کر چکے ہیں۔ سن 2012 میں انڈونیشیا نے اسرائیل میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن اب تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Rante
4. ايران
اسرائیل کے قیام کے وقت ایران ترکی کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والا دوسرا مسلم اکثریتی ملک تھا۔ تاہم سن 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ ایران اسرائیل کو اب تسلیم نہیں کرتا اور مشرق وسطیٰ میں یہ دونوں ممالک بدترین حریف سمجھے جاتے ہیں۔
تصویر: khamenei.ir
5. برونائی
برونائی کا شمار بھی ان قریب دو درجن ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک اسے تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی دونوں ممالک کے باہمی سفارتی تعلقات ہیں۔
تصویر: Reuters/A. Rani
6. بنگلہ دیش
بنگلہ دیش نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست نہیں بن جاتی تب تک ڈھاکہ حکومت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اسرائیل نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کی حمایت کی تھی اور اس کے قیام کے بعد اسے تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں اسرائیل کا شمار بھی ہوتا ہے۔
تصویر: bdnews24.com
7. بھوٹان
بھوٹان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں اور نہ ہی وہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ بھوٹان کے خارجہ تعلقات بطور ملک بھی کافی محدود ہیں اور وہ چین اور اسرائیل سمیت ان تمام ممالک کو تسلیم نہیں کرتا جو اقوام متحدہ کے رکن نہیں ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/P. Mathema
8. پاکستان
پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ پر یہ بھی درج ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے۔ عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے اسرائیل کے خلاف عسکری مدد روانہ کی تھی اور اسرائیل نے مبینہ طور پر پاکستانی جوہری منصوبہ روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ پاکستان نے بھی دو ریاستی حل تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
تصویر: Reuters/A. Soomro
9. جبوتی
جمہوریہ جبوتی عرب لیگ کا حصہ ہے اور اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم 50 برس قبل دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔
تصویر: DW/G.T. Haile-Giorgis
10. سعودی عرب
سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ نہ تو باقاعدہ سفارتی تعلقات ہیں اور نہ ہی اب تک اس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران تاہم دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری دکھائی دی ہے۔ سعودی شاہ عبداللہ نے سن 2002 میں ایک ہمہ جہت امن منصوبہ تجویز کیا لیکن تب اسرائیل نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔ سعودی عرب نے اسرائیل اور یو اے ای کے تازہ معاہدے کی حمایت یا مخالفت میں اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
ہمسایہ ممالک اسرائیل اور شام عملی طور پر اسرائیل کے قیام سے اب تک مسلسل حالت جنگ میں ہیں اور سفارتی تعلقات قائم نہیں ہو پائے۔ دونوں ممالک کے مابین تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ علاوہ ازیں شام کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ اسرائیل خود کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے شام میں کئی ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس شمالی کوریا نے سن 1988 میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
تصویر: Reuters/K. Kyung-Hoon
13. صومالیہ
افریقی ملک صومایہ بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی دونوں کے باہمی سفارتی تعلقات وجود رکھتے ہیں۔
تصویر: AFP/Getty Images/Y. Chiba
14. عراق
عراق نے بھی اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات ہیں۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ہی عراق نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ عراقی کردوں نے تاہم اپنی علاقائی حکومت قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
تصویر: DW
15. عمان
عرب لیگ کے دیگر ممالک کی طرح عمان بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا تاہم سن 1994 میں دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات قائم کیے تھے جو سن 2000 تک برقرار رہے۔ دو برس قبل نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل وفد نے عمان کا دورہ کیا تھا۔ عمان نے اماراتی اسرائیلی معاہدے کی بھی حمایت کی ہے۔ اسرائیلی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ عمان بھی جلد ہی اسرائیل کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے گا۔
تصویر: picture-alliance/dpa
16. قطر
قطر اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور نہ ہی اس نے اب تک اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات رہے ہیں۔ اسرائیلی پاسپورٹ پر قطر کا سفر نہیں کیا جا سکتا لیکن سن 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے اسرائیلی شہری بھی قطر جا سکیں گے۔ اماراتی فیصلے کے بارے میں قطر نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
تصویر: picture alliance/robertharding/F. Fell
17. کوموروس
بحر ہند میں چھوٹا سا افریقی ملک جزر القمر نے بھی ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ عرب لیگ کے رکن اس ملک کے تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
18. کویت
کویت نے بھی اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے سفارتی تعلقات ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تاریخی امن معاہدے کے بارے میں کویت نے دیگر خلیجی ریاستوں کے برعکس ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/J. Gambrell
19. لبنان
اسرائیل کے پڑوسی ملک لبنان بھی اسے تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے سفارتی تعلقات ہیں۔ لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین مسلسل جھڑپوں کے باعث اسرائیل لبنان کو دشمن ملک سمجھتا ہے۔ اسرائیل نے سن 1982 اور سن 2005 میں بھی لبنان پر حملہ کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AA/M. A. Akman
20. لیبیا
لیبیا اور اسرائیل کے مابین بھی اب تک سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور نہ ہی اس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔
21. ملائیشیا
ملائیشیا نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے سفارتی تعلقات ہیں۔ علاوہ ازیں ملائیشیا میں نہ تو اسرائیلی سفری دستاویزت کارآمد ہیں اور نہ ہی ملائیشین پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات قائم ہیں۔
تصویر: Imago/Zumapress
22. یمن
یمن نے بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی سفارتی تعلقات قائم کیے۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور یمن میں اسرائیلی پاسپورٹ پر، یا کسی ایسے پاسپورٹ پر جس پر اسرائیلی ویزا لگا ہو، سفر نہیں کیا جا سکتا۔
تصویر: Reuters/F. Salman
22 تصاویر1 | 22
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں بحرین، کویت اور قطر کی تیل برآمدات رک گئی ہیں جبکہ عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ابوظہبی نہ صرف اس اہم آبی راستے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر زیادہ سخت اقدامات کی اپیل بھی کر رہا ہے۔
اماراتی حکام نے دیگر خلیجی ممالک، جیسے سعودی عرب، عمان اور قطر کے مقابلے میں تہران کو زیادہ سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مائیکل اسٹیفنز کے مطابق اس طرز عمل نے انہیں امریکہ اور اسرائیل کے مزید قریب کر دیا ہے۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی تجزیہ کار چنزیا بیانکو کا کہنا ہے کہ تہران یو اے ای پر اتنا دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوجی مہم روکنے کا مطالبہ کرے۔
ان کے مطابق، ''یو اے ای کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران ملک کے اس بنیادی ماڈل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، جس کی بنیاد اس سوچ پر ہے کہ خلیجی خطہ عدم استحکام کے باوجود محفوظ اور خوشحال رہ سکتا ہے۔‘‘
اشتہار
یو اے ای کی بدلتی پالیسیاں
گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات نے اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے اسے تیل پر انحصار کم کرنے اور خود کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سیاحت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے مطابق ڈھالا ہے، جسے یو اے ای 2031 کا نام دیا گیا ہے۔
اس خلیجی ملک نے اپنے اہم ہمسایہ ملک سعودی عرب سے مختلف پالیسیاں بھی اختیار کی ہیں۔ جہاں یو اے ای اور بحرین اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، وہیں سعودی عرب نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں اور غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو روک دیا۔
ایک حالیہ تجزیے کے مطابق، ''یو اے ای کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ راستے طویل مدتی بنیادوں پر اہم وسائل اور تجارتی گزرگاہوں تک رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔‘‘ لاخر اس تجزیے کے شریک مصنف بھی ہیں۔ اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس تجزیے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھا گیا، ''اسی لیے فوجی مداخلت کو ان معاشی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘
تاہم یو اے ای اپنی فوج کسی دوسرے ملک میں شازونادر ہی تعینات کرتا ہے۔
لاخر کے مطابق، ''یو اے ای کی پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی فوج کم استعمال کرتا ہے اور لوکل پارٹنرز کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتا ہے، جیسے لیبیا میں خلیفہ حفتر یا سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے سربراہ محمد حمدان دقلو کے ذریعے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای غیر ملکی اور کرائے کے جنگجوؤں کو بھی مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے، جن میں لیبیا میں سوڈانی جنگجو اور حال ہی میں سوڈان میں کولمبیا کے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔
اگرچہ اماراتی حکام ان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی مسلسل تردید کرتے ہیں تاہم لاخر کے مطابق، ''دستیاب شواہد کافی مضبوط ہیں۔‘‘