امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات سے ایران کی توقعات کیا؟
20 اپریل 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اختتام ہفتہ سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ''کافی زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم کسی ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ صدر ٹرمپ کی مراد ایران کے ساتھ اسلام آباد میں 11 اپریل کو ہونے والے اور بے نتیجہ ہی ختم ہونے والے براہ راست امن مذاکرات کے بعد اس بات چیت کے اس دوسرے ممکنہ دور سے تھی، جس کے انعقاد کی پاکستان کی طرف سے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کل اتوار 19 اپریل تک واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا یہ جا رہا تھا کہ اس بات چیت کے لیے ایک امریکی وفد آج پیر 20 اپریل کو پاکستان پہنچ جائے گا۔ لیکن تازہ صورت حال میں ایران نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ وہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ اس متوقع بات چیت میں شرکت کرے گا۔
ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان
اس ایرانی ہچکچاہٹ کی بڑی وجوہات دو ہیں: ایک تو امریکی بحریہ نے ابھی تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ امن بات چیت کے دوسرے دور سے قبل یہ ناکہ بندی ختم ہونا چاہیے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اسی امریکی ناکہ بندی کے دوران امریکی دستوں نے کل اتوار کے روز ایک ایسے ایرانی مال بردار بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کی، جو آبنائے ہرمز میں بندر عباس نامی ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔
اس بحری جہاز کو روکنے کی کوشش میں امریکی نیوی نے اس جہاز پر فائرنگ کر کے اس کے انجن روم کو تباہ بھی کر دیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ایرانی کارگو شپ اب امریکہ کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت کی سفارتی محاذ پر دوہری کاوشیں
اس نئی پیش رفت سے قبل امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ بندی ڈیل کرنا چاہتا ہے اور اس ڈیل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی خاطر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں موجودہ دو ہفتے کی فائر بندی کی مدت میں توسیع کا بھی سوچ سکتے ہیں۔
ایران کی کم امیدی
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران حکومت اب امریکہ کے ساتھ پہلے کے مقابلے میں زیادہ قومی وحدت کے ساتھ ملکی مذاکراتی ٹیم کی حمایت کر رہی ہے۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ملکی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں اور ایران کے سرکاری میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے ساتھ مکالمت کے حوالے سے ایران میں موجودہ سوچ ''کامیاب سفارت کاری کے باعث کہیں زیادہ ہو چکی قومی طاقت‘‘ کی عکاس ہے۔
ایران میں ہسپتال اور ادویہ ساز فیکٹریاں بھی جنگ کی زد میں
دوسری طرف ایران میں اس وجہ سے بھی کم امیدی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ مبینہ طور پر دو ہفتے دورانیے کی موجودہ فائر بندی کو اس تنازعے میں اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔
اس ایرانی نقطہ نظر کو تقویت اس وجہ سے بھی مل رہی ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی بحری طاقت اور دستوں کی تعداد دونوں بڑھاتا جا رہا ہے۔
امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ
اس پس منظر میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کی طرف ایران احتیاط پسندی کے ساتھ آگے بڑھ تو رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ہر طرح کے خطرات کا سامنا کرنے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر بڑی رکاوٹیں
جرمنی کے شہر بون میں قائم تنازعات کے مطالعے کے بین الاقوامی مرکز کے ڈائریکٹر اور امن و تنازعات پر تحقیق کرنے والے ماہر کونراڈ شیٹر کہتے ہیں، ''اب تک کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ ابھی تک کلیدی اہمیت کے حامل معاملات میں ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکے۔ نہ تو تہران سے کیے گئے امریکی مطالبات کے حوالے سے اور نہ ہی واشنگٹن سے کیے گئے تہران کے مطالبات کے لحاظ سے۔‘‘
جرمنی میں بین الاقوامی اور سکیورٹی امور کے انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر، حامد رضا عزیزی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' اسلام آباد میں ایرانی امریکی مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا تھا۔ اب پاکستانی دارالحکومت میں ہی دوسرے دور کے مذاکرات کا انعقاد متوقع ہے، لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ وہ کسی بڑی پیش رفت کی وجہ بن سکے گا۔‘‘
حامد رضا عزیزی کے مطابق ایران اور امریکہ کی ایک دوسرے پر بداعتمادی کسی ممکنہ ڈیل تک پہنچنے کی راہ میں سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستانی سفارت کاری میں تیزی لیکن امریکہ اور ایران میں تناؤ برقرار
ان کے مطابق متنازعہ مسئلہ صرف ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل ہی کا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کا بھی ہے اور ایران کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیوں کے ساتھ ساتھ خطے میں ان مسلح گروپوں کے لیے ایرانی امداد کے خاتمے کا بھی، جنہیں ایران کی ''ریجینل پروکسیز‘‘ کہا جاتا ہے۔
کونراڈ شیٹر کے خیال میں ایران کے لیے کسی ڈیل تک پہنچنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کیا ہے اور وہ کیوں چاہتا ہے کہ اس کی ان رکاوٹوں کو عبور کر لینے سے متعلق تواقعات پوری ہوں، یہ واضح ہو جانے کے بعد سوال یہ ہے کہ ان بڑے اختلافات کو مذاکرات میں ختم کر لینے کی امیدیں کتنی حقیقت پسندانہ ہوں گی؟
ایران جنگ کے سبب غزہ کا تنازعہ بین الاقوامی توجہ سے اوجھل
شیٹر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امریکہ کے لیے یہ بات بمشکل ہی حقیقت پسندانہ ہو گی کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایران کے خلاف پھر سے فوجی کارروائیاں شروع کر دے۔ لیکن تہران کے ساتھ مل کر کوئی مصالحتی حل نکال لینا اب بھی مشکل ہے۔‘‘
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ماہرین کسی ممکنہ ایرانی امریکی ڈیل کو مشکل تو سمجھ رہے ہیں لیکن ناممکن نہیں، اور جو کچھ سیاسی طور پر اب تک مشکل نظر آ رہا ہے، اسے لچک دار سوچ کے ساتھ آسان بنانے کی سفارتی اور ثالثی کوششیں جاری ہیں۔
ادارت: جاوید اختر