امریکی اعلیٰ جاسوس نے جرمنی چھوڑ دیا
18 جولائی 2014
وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو برلن میں تعینات سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کے جرمنی چھوڑنے کی تصدیق کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سی آئی اے نے اس حوالے سے بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔
تاہم قبل ازیں ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سی آئی اے کے اسٹیشن چیف رواں ہفتے کے آخر تک جرمنی سے نکل جائیں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کو جرمنی سے بے دخل نہیں کیا گیا اور نہ ہی جرمن حکومت نے انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے بلکہ انہیں صرف ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق اس بات کا خدشہ تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ملک نہ چھوڑتے تو جرمنی انہیں بے دخل کر ہی دیتا۔
جرمن وزارتِ خارجہ نے گزشتہ جمعرات کو دارالحکومت برلن سے سی آئی اے کے اس اہلکار سے کہا تھا کہ وہ جرمنی چھوڑ دیں۔ اس کے ردِ عمل میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ امریکا جاسوسی کے تنازعے پر جرمنی کے ردِ عمل پر نالاں ہے۔
گزشتہ ہفتے برلن حکومت نے کہا تھا کہ اسے اپنی وزارتِ دفاع میں ایک مشتبہ امریکی جاسوس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ اس سے قبل جرمنی کی انٹیلیجنس ایجنسی بی این ڈی کے ایک ملازم کو امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی انکشاف پر جرمنی اور امریکا کے درمیان یہ نیا تنازعہ کھڑا ہوا۔ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مشتبہ جاسوس نے امریکا کو خفیہ دستاویزات فروخت کی تھیں۔
بتایا گیا تھا کہ اس مشتبہ جاسوس نے پچیس ہزار یورو کے عوض ایک نامعلوم امریکی خفیہ ایجنسی کو دو سو اٹھارہ خفیہ دستاویزات فروخت کیں۔ تاہم بی این ڈی کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات میں کسی طرح کی حسّاس معلومات شامل نہیں تھیں۔
امریکا کے سابق اور موجودہ اہلکاروں نے جرمن حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا پر جاسوسی کے حوالے سے انگلی اٹھانے میں منافقت سے کام لے رہی ہے۔ ان کے مطابق اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بعض اوقات جرمنی نے بھی امریکا کی جاسوسی کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ویک اینڈ پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک انٹرویو میں اس بات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا کہ امریکا جرمنی کے خلاف جاسوسی کی کارروائیاں ترک کر دے گا۔