’امریکی جاسوسی غیر قانونی‘
24 جنوری 2014
امریکی ادارے Privacy and Civil Liberties Oversight Board (پی سی ایل او بی) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ وسیع پیمانے پر خفیہ معلومات جمع کرنے کا یہ منصوبہ متعدد وجوہات کی بنا پر غیر قانونی ہے اور اس سے انسداد دہشت گردی کے لیے کی جا رہی کوششوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے کام کرنے کے طریقے پر کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق یہ پروگرام ’حب الوطنی ایکٹ‘ کی روح کے منافی ہے۔ یہ قانون گیارہ ستمبر 2001ء کے روز امریکا پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔
238 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قوم کو ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے بچانے کے لیے اس پروگرام کی اہمیت انتہائی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاسوسی کے اس پروگرام کی وجہ سے آزادی رائے اور غیر ضروری تلاش کے خلاف بنائے جانے والے قانون کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔
پی سی ایل او بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ این ایس اے کی وجہ سے صحافت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ صحافیوں کو اہم معلومات فراہم کرنے والے ذرائع اس خوف سے خاموش ہو جائیں گے کہ کوئی ان تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایس اے نے اس حوالے سے بھی خود ساختہ تشریحات کر رکھی ہیں کہ دہشت گردانہ تحقیقاتی عمل کے لیے کیا کیا ضروری ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ جاسوسی کا یہ پروگرام نائن الیون جیسے حملے روکنے میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اس پروگرام نے متعدد ناکام حملوں سے قبل ان کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ ان سلسلے میں نیو یارک شہر کے انڈر گراؤنڈ ریلوے نظام پر حملے کی سازش، کرسمس کے دن ایک مسافر طیارے پر حملے کی ناکام کوشش اور ٹائمز اسکوائر پر ناکام حملے جیسی مثالیں دی گئی ہیں۔
اس رپورٹ کو تیار کرنے والے پانچ رکنی پینل میں سے دو اراکین نے این ایس اے کی کارروائیوں کے جائز اور مؤثر ہونے کے حوالے سے اخذ کیے گئے نتائج سے اختلاف کیا ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ اس پروگرام کو قانونی اور جائز سمجھتی ہے تاہم پھر بھی صدر اوباما جاسوسی کے اس پروگرام میں اصلاحات کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔
دوسری طرف مفرور امریکی شہری اور این ایس اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے اس رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اپنے ملک واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا میں انہیں منصفانہ مقدمے کی امید نہیں ہے۔ یہ تیس سالہ سابق امریکی کنٹریکٹر انتہائی خفیہ معلومات عام کرنے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب ہیں۔
سنوڈن کے علاوہ انسانی حقوق کے دیگر متعدد کارکنان نے بھی پی سی ایل او بی کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کو ستائشی نگاہوں سے دیکھا ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین سے منسلک جمال جعفر نے خبرساں اداے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کے نتائج درست ہیں، ’’یہ (پروگرام)غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔ اس سے شہری آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔‘‘
امریکا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ زیک جانسن نے بھی ایسے ہی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو چاہیے کہ وہ اس پروگرام کو بند کر دے۔