امریکی صدر اوباما برلن پہنچ گئے
19 جون 2013
امریکی صدر گزشتہ روز دورہء جرمنی پر برلن پہنچے۔ آخری مرتبہ انہوں نے 2008ء میں برلن کا دورہ کیا تھا، جب وہ امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ایک امیدوار تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اوباما نے یورپ میں بہت سے لوگوں کو ناامید کیا ہے، جو سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کے مقابلے میں انہیں امریکا کے زیادہ دوستانہ چہرے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
جرمنی میں باراک اوباما کی مقبولیت قائم ہے۔ ڈیموکریٹ امریکی صدر کے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ گرمجوشی پر مبنی تو نہیں لیکن دونوں حکومتوں کے مابین خاصے اچھے تعلقات قائم ہے۔
بدھ کے روز امریکی صدر برلن ہی میں جرمن چانسلر، صدر یوآخم گاؤک اور اپوزیشن کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما پیر شٹائنبرؤک سے ملاقات کریں گے۔ صدر اوباما بعد میں چانسلر میرکل کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ روئٹرز کے مطابق جرمنی میں انتخابات سے چند ماہ قبل اوباما کے اس دورے نے چانسلر میرکل کے سیاسی قد میں اضافہ کر دیا ہے۔
اوباما کے اس دورے کا زیادہ دلچسپ پہلو برلن کے برانڈنبرگ گیٹ پر ان کا عوامی خطاب ہے۔ سابقہ امریکی صدر رونالڈ ریگن نے یہاں 1987ء میں خطاب کرتے ہوئے سابقہ سوویت لیڈر میخائل گورباچوف سے کہا تھا کہ وہ ’ دیوار برلن کو گرا ڈالیں‘۔ برلن ہی میں شونیبرگ سٹی ہال کے اندر سابقہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے ٹھیک پچاس برس قبل ’اش بن آئن برلنر‘ یعنی ’میں برلن کا ایک باسی ہوں‘ کے تاریخی کلمات ادا کرکے جرمن عوام کو خوش کر دیا تھا۔ اوباما 2008ء میں برلن کے ٹیئرگارڈن کے پارکنگ احاطے میں قریب بیس ہزار افراد سے خطاب کرچکے ہیں۔ اس بار بھی ان کی تقریر سننے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود رہیں گے۔
امکان ہے کہ وہ جرمن اور دیگر یورپی اقوام پر زور دیں کہ وہ مشترکہ تاریخ اور قریبی تعاون کی بنیاد پر 21 ویں صدی کے چیلنجز کا حل تلاش کریں۔ برلن پہنچنے سے قبل امریکی صدر کے طیارے ایئر فورس ون پر قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روڈز نے کہا کہ ماضی میں آزاد دنیا کے کردار کے حوالے سے امریکی صدور نے برلن میں جو خطاب کیے تھے، اوباما بھی انہی خطوط پر موجودہ دور حاضر کے مسائل کے حل کی ضرورت کو اجاگر کریں گے۔
روئٹرز کے مطابق اس ضمن میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، موسمیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ، انسداد دہشت گردی اور جمہوری اقدار کو دنیا بھر میں فروغ دینے کے امور خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔
sks/ ab (Reuters