امریکی صدر جنوبی افریقہ میں
29 جون 2013
امریکی صدر باراک اوباما تین افریقی ملکوں کے دورے کی دوسری منزل جنوبی افریقہ پہنچ چکے ہیں۔ اس تین روزہ دورے پر اُن کے ہمراہ اُن کا خاندان بھی شریک ہے۔ جنوبی افریقی دورے کے دوران وہ کیپ ٹاؤن کے قریب رابن جزیرے پر بھی جائیں گے جہاں نیلسن منڈیلا نے 27 سالہ قید میں سے اٹھارہ برس گزارے تھے۔ جنوبی افریقی صدر جیکب زوما سے ملاقات کرنے کے علاوہ وہ نواحی علاقے سوویٹو بھی جائیں گے اور طلبا سے خطاب کریں گے۔ سوویٹو میں انہیں جوہانس برگ یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈگری بھی دے جائے گی۔ اتوار کو امریکی صدر کیپ ٹاؤن یونیورسٹی بھی جائیں گے۔
اوباما کا یہ براعظم افریقہ کا دوسرا دورہ ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کا دوسرا دورہ کر رہے ہیں۔ بطور سینیٹر وہ سن 2005 میں نیلسن منڈیلا سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اپنے موجودہ دورے کے دوران منڈیلا کی عیادت کو ان کے خاندان کی اجازت سے نتھی کیا ہے۔ اوباما کے مطابق وہ صرف تصویر بنانے کے لیے منڈیلا کی عیادت نہیں کرنا چاہتے۔
باراک اوباما براعظم افریقہ کے آٹھ روزہ سہ ملکی دورے پر ہیں۔ وہ جمعے کی شام میں سینیگال سے جنوبی افریقہ پہنچے تھے۔ ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد امریکا اور جنوبی افریقہ کے اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اوباما کا افریقی ملکوں کا دورہ جمعرات سے سینیگال سے شروع ہوا تھا۔ سینیگال پہنچ کر انہوں نے میزبان ملک کے صدر میکی سال (Macky Sall) سے ملاقات کی، جس میں تجارتی تعلقات کو فوقیت حاصل رہی تھی۔ اوباما نے سینیگال کے لیے 177 ملین ڈالر امداد کا بھی وعدہ کیا جو فوڈ سکیورٹی اور ساحل علاقے کی خوشحالی پر خرچ کی جائے گی۔سینیگال میں امریکی صدر نے ڈاکار حکومت کے ساتھ غربت کم کرنے اور زرعی شعبے میں ترقی کے لیے پارٹنر شپ شروع کرنے پر اصولی اتفاق بھی کیا۔
اوباما نے سینیگال کو براعظم افریقہ میں ایک مستحکم جمہوریت کا حامل ملک قرار دیا۔ جنوبی افریقہ کے بعد اوباما تین روزہ دورے پر تنزانیہ پہنچیں گے۔ اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران وہ افریقی ملک گھانا کا مختصر دورہ کر چکے ہیں۔ موجودہ دورے میں اوباما کے ہمراہ تاجر برادری کا ایک بڑا وفد بھی شریک ہے جو اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔ یہ وفد آج ہفتے کے روز جنوبی افریقی کاروباری حلقے سے ملاقاتیں کرے گا۔
سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار سے جنوبی افریقی شہر جوہانس برگ کی جانب دوران پرواز امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افریقی براعظم میں حاکمیت کی چپقلش کے بڑھتے امکانات کو رد کر دیا۔ امریکی صدر نے براعظم افریقہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس براعظم میں چین، بھارت، ترکی اور برازیل سمیت کئی دوسرے ملکوں کی جانب سے سرمایہ کاری حوصلہ افزاء ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے واضح کیا کہ سرد جنگ جیسی کسی اقتصادی کشیدگی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مارچ میں چین کے نئے صدر افریقی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔
جمعے کے روز جنوبی افریقہ میں سینکڑوں مظاہرین امریکی صدر کے جنوبی افریقی دورے کے موقع پر ایک پر امن احتجاج میں شریک ہوئے۔ پریٹوریا میں نکالی گئی اس ریلی کا انتظام ٹریڈ یونینز اور ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ پرامن مظاہرین نے کیوبا، افغانستان میں جاری جنگ، گلوبل وارمنگ اور ایسے ہی دوسرے معاملات پر امریکی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کیپ ٹاؤن میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بھی ایک مظاہرے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ ایسے ہی مزید مظاہرے ہفتے اور اتوار کو بھی پلان کیے گئے ہیں۔
(ah/ai(dpa, AP