1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

جو بائیڈن نے اپنے مجوزہ دورہ سعودی عرب کا دفاع کیا

11 جولائی 2022

جو بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے اپنے ایک مضمون میں سعودی عرب کے اپنے طے شدہ دورے کا دفاع کیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بائیڈن نے اس ملک کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اب وہ اسی ہفتے جدہ پہنچنے والے ہیں۔

 Joe Biden und Sultan bin Abdul-Aziz Al Saud
تصویر: Hassan Ammar/AP/picture alliance

امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے اپنے دورے سے قبل معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے ایک خاص مضمون میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال مملکت کے ساتھ تعلقات کو "دوبارہ ترتیب" دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صدر جو بائیڈن 13 سے 16 جولائی کے دوران مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی پہلی منزل اسرائیل ہے پھر وہاں سے وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے اور واپسی سے قبل آخر میں وہ سعودی عرب پہنچیں گے۔

جو بائیڈن نے اپنے اس مضمون میں لکھا، "مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میرے سعودی عرب کے اس سفر کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں،’’تاہم انسانی حقوق کے بارے میں میرے خیالات واضح اور دیرینہ ہیں، اور جب بھی میں بیرون ملک سفر کرتا ہوں تو بنیادی آزادی ہمیشہ ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے۔"

یہ کہا جاتا ہے کہ انقرہ میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کا سن 2018  میں جو قتل ہوا، اس کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی تھے، وہ فی الوقت سعودی عرب کے حقیقی رہنما ہیں۔

بائیڈن نے لکھا کیا ہے؟

امریکی صدر نے اپنے مضمون میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے مشرق وسطیٰ کو ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے حالات کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور محفوظ بنایا ہے۔

انہوں نے امریکہ کی سلامتی کو روسی جارحیت کا سامنا کرنے اور چین کے ساتھ مقابلہ کرنے سے بھی جوڑا اور یہ دلیل دی کہ ان تمام پہلوؤں سے نمٹنے میں سعودی عرب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے لکھا، "بطور صدر، یہ میرا کام ہے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط اور محفوظ رکھیں۔ ہمیں روس کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، چین کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ممکنہ حد تک بہترین پوزیشن میں رکھنا ہے، اور دنیا کے جس خطے پر اس کے اثرات زیادہ مرتب ہوتے ہیں، اس کے استحکام کے لیے اور زیادہ کام کرنا ہے۔"

انہوں نے مزید لکھا، "ان چیزوں کو کرنے کے لیے، ہمیں ان ممالک کے ساتھ براہ راست رابطہ کرنا ہو گا جو اس کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب ان میں سے ایک ہے، اور جمعے کے روز جب میں سعودی رہنماؤں سے ملاقات کروں گا، تو میرا مقصد آگے بڑھانے والی اسٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہو گا، جو ہمارے باہمی مفادات اور ذمہ داریوں پر مبنی ہے، اس کے ساتھ ہی ہم بنیادی امریکی اقدار پر بھی قائم رہیں گے۔"

سعودی عرب امریکہ کے لیے اہم کیوں ہے؟

بائیڈن نے  اپنے مضمون میں لکھا کہ ان کے دورے کا مقصد ایک ایسے ملک کے ساتھ تعلقات کو "توڑنے کے بجائے انہیں از سر نو ترتیب دینا ہے" جو گزشتہ تقریبا 80 برسوں سے خطے میں امریکہ کا اہم اسٹریٹیجک شراکت دار رہا ہے۔

سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد  کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور توقع ہے کہ بائیڈن سعودی پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یومیہ تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرے۔

 جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدے کیے تھے کہ وہ سعودی عرب کو انسانی حقوق کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں گے اور اس کے لیے اس پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ اس پس منظر میں ان کے دورہ سعودی عرب پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سب سے بڑے اور اہم مسائل میں سے ایک سن 2018 میں امریکہ میں مقیم صحافی جمال خاشقجی کا ترکی میں قتل کیا جانا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کے قتل کا حکم ممکنہ طور پر سعودی عرب کے حقیقی رہنما اور ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

تاہم اس وقت جغرافیائی اور سیاسی اعتبار سے واشنگٹن کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے اور سفارتی سطح پر پالیسی میں تبدیلی اسی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے جب ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، تو آخر کار، تیل سے مالا مال سعودی عرب ہی نے، تیل کی پیداوار کو کافی حد تک بڑھانے میں مدد کی۔

ادھر امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ، خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ سے بھی خطرات لاحق ہیں، اسی لیے واشنگٹن اب سعودی عرب کی سرگرمیوں کی مخالفت یا اس سے متعلق اپنی پالیسیوں پر کوئی واضح اشارہ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔

ص ز/ ج ا (رؤٹرز، اے پی، اے ایف پی)

سعودی شہزادے کو خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کا سامنا کرنا چاہیے

02:24

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں