1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی فوجی کے والدین پر امید

7 جون 2013

سن دو ہزار نو سے پاکستانی طالبان کے زیر حراست امریکی فوجی کے والدین نے کہا ہے کہ انہیں ان کے بیٹے کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس سے انہیں امید ہو چلی ہے کہ ان کا بیٹا خیریت سے ہے۔

(Photo: Ishtiaq Mahsud/AP/dapd)
تصویر: AP

ستائیس سالہ امریکی فوجی بووی بیرگڈال کے والد باب بیرگڈال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اپنے بیٹے کی جانب سے موصول ہونے والا خط انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’’خط موصول ہونے کے بعد ہمارا خاندان بہت پر امید ہو گیا ہے کہ بووی خیریت سے ہے۔۔۔ اتنی خیریت سے جتنا کہ ان حالات میں توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘

امریکی فوجی کے والد نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹے کو رہا کر دیں۔ افغانستان میں تعینات اس امریکی فوجی کو سن دو ہزار نو میں اغوا کیا گیا اور اس کے بارے میں قیاس ہے کہ اسے طالبان نے پاکستان کے شمال مشرقی قبائلی علاقے میں زیر حراست رکھا ہوا ہے۔

بووی افغانستان کے شورش زدہ پکتیکا صوبے میں تعینات تھےتصویر: AP

بووی کے والد کا کہنا تھا: ’’ہمیں امید ہے کہ بووی کو یرغمال بنانے والے ہماری التجا پر غور کریں گے۔ جب تک وہ حراست میں ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ بووی کی صحت کا خیال رکھا جائے اور اسے ہم سے خط و کتابت کی اجازت دی جائے۔‘‘

امریکی ریاست آئیڈاہو سے تعلق رکھنے والے کرنل ٹِم مارسانو، جو کہ بووی فیملی کے لیے ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں، کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے لکھا ہوا خط اصل معلوم ہوتا ہے۔

خط کی نقل میڈیا کو فراہم نہیں کی گئی۔

مارسانو کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی انتظامیہ بووی کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ ’’ہم بووی کو نہیں بھولے اور نہ بھولیں گے۔ ہمارا مشن اسے بحفاظت امریکا اور اس کے والدین تک پہنچانا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ گو کہ بووی کافی عرصے سے خبروں میں نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی رہائی سے متعلق کوششیں سست ہو گئی ہیں۔

بووی افغانستان کے شورش زدہ پکتیکا صوبے میں تعینات تھے جب وہ تیس جون دو ہزار نو کو اچانک لاپتہ ہو گئے۔ ان کی افغانستان میں تعیناتی کو صرف دو ماہ ہی ہوئے تھے۔

shs/ai Reuters

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں