1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی فوج کے خفیہ خلائی جہاز کی واپسی

عابد حسین18 اکتوبر 2014

انتہائی خفیہ رکھا جانے والا امریکی روبوٹ خلائی جہاز تقریباً 22 مہینے خلا میں زمینی مدار میں گزارنے کے بعد بخیریت واپس زمین پر اتر گیا ہے۔ امریکی فوج اِس مشن کو انتہائی خفیہ قرار دیتی ہے۔

Feuerprobe für mysteriöses neues US-Raumflugzeug "X-37B"
تصویر: picture-alliance/dpa

بغیر کسی انسان کے خلا میں بھیجا گیا روبوٹ خلائی جہاز گیارہ دسمبر سن 2012 کو روانہ کیا گیا تھا۔ اِس خلائی جہاز کا نام ایکس تھری سیون بی (X-37B) رکھا گیا تھا۔ جہاز کی واپسی کے حوالے سے امریکی فوج کے تیسویں خلائی ونگ کے کمانڈر کیتھ بالٹس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی ٹیم کی جانب سے روانہ کیے گئے تیسرے خلائی مشن نے بخیریت لینڈنگ کر لی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایکس تھری سیون بی امکاناً خلا میں جاسوسی کی فوجی کارروائی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ یہ خلائی جہاز امریکی ایئر فورس (Air Force's Rapid Capabilities Office) کا حصہ ہے۔

امریکی فوجی حکام نے اُس تاثر کو ابتداء میں رد کر دیا تھا کہ ایکس تھری سیون بی خلائی ہتھیار سازی کا حصہ ہے اور اِس کے ذریعے دوسرے ملکوں کے خلائی سیٹلائٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جمعے کے روز مکمل ہونے والا مشن ترتیب کے اعتبار سے تیسرا اور طویل ترین تھا۔ اِس خفیہ خلائی فوجی مشن کے سلسلے کا آغاز سن 2010 میں کیا گیا تھا۔ افتتاحی مشن کا جہاز خلا میں آٹھ ماہ تک رکھا گیا تھا۔ اسی سلسلے کا دوسرا مشن پندرہ ماہ تک خلا میں رہا۔ استعمال کیا جانے والا بغیر پائلٹ کے خلائی جہاز بین الاقوامی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کا تیار شدہ ہے۔ اِس کا وزن پانچ ٹن اور لمبائی 29 فِٹ ہے۔ اِس کی بیٹریوں کے لیے شمسی توانائی کا پینل نصب کیا گیا ہے۔

ایکس تھری سیون بی روانگی کے وقتتصویر: Reuters

خلا میں زمینی مدار کے گرد ایکس تھری سیون بی آواز کی رفتار سے 25 گنا زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتا رہا ہے۔ خلائی ادارے ناسا کی خلائی شٹل کے مقابلے میں اِس کے پچھلے حصے میں ایک کے بجائے دو اسٹیبلائزر نصب ہیں اور اِس طرح اِس کی شکل انگریزی حرفِ تہجی ’وی‘ جیسی دکھائی دیتی ہے۔ خلا میں 674 دن گزار کر ایکس تھری سیون بی جمعے کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب کیلیفورنیا کے وینڈن بیرگ ایئر بیس پر اترا۔ اِس جہاز نے خلا میں پونے سات سو ایام کے دوران کیا کیا، یہ سب انتہائی خفیہ ہے۔

اِس خلائی جہاز کے حوالے سے کئی کہانیاں گردش میں ہیں۔ یہ تمام کہانیاں اندازوں پر مبنی ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ پرواز مختلف خلائی جاسوسی کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ کچھ نے اِسے جیمز بانڈ فلم سیریز کے انداز کے کسی خلائی مشن کے انداز میں دیکھا۔ اِن کے مطابق خلا میں امریکی خلائی جہاز ایکس تھری سیون بی دوسری اقوام کے خلائی سیٹلائٹس کو ہڑپ کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ بعض کا گمان ہے کہ ایکس تھری سیون بی امکاناً چینی خلائی لیبارٹی پر جاری سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایکس تھری سیون بی کا چوتھا مِشن اگلے برس فلوریڈا کے کیپ کینیورَل سے روانہ کیا جائے گا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں