1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستاسرائیل

امریکی مڈ ٹرم الیکشن: اسرائیل کی امداد روکنا بھی ٹرمپ کے کام نہ آیا؟

جاوید اختر (روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ)
4 نومبر 2026

اسرائیل کے لیے مالی امداد امریکہ میں ہمیشہ سے ایک متنازع سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے عین قبل اسرائیل کو چار بلین ڈالر کی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں ہزیمت اٹھانی پڑی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر 2025 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں واقع اپنے مار اے لاگو کلب میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مصافحہ کرتے ہوئے ان کی جانب انگلی اٹھا رہے ہیں
مڈ ٹرم الکیشن کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ٹرمپ کی حریف جماعت ڈیموکریٹ نے سینیٹ کے ساتھ ہی ایوان نمائندگان یعنی کانگریس میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہےتصویر: Jonathan Ernst/REUTERS

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو غالباﹰ اس بات کا اندازہ تھا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو مالی امداد بند کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اکتوبر میں ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ''اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں وہ امداد مسلسل ملتی رہے گی جو میں نے دو مرتبہ حاصل کی، یعنی دفاعی بجٹ کے لیے دسیوں ارب ڈالر، تو خود کو تیار کر لیں اور اس حقیقت کی عادت ڈال لیں کہ ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ امریکہ بدل چکا ہے۔‘‘

مئی میں انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا تھا کہ وہ امریکی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی کانگریس نے 2020 میں اسرائیل کے لیے امداد کی اجازت دینے کا قانون منظور کیا تھا، تاہم ہر سال سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کو فنڈز کی تقسیم اور اجرا کے لیے الگ سے مالیاتی بل منظور کرنا ہوتے ہیں۔

مڈ ٹرم الکیشن کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ٹرمپ کی حریف جماعت ڈیموکریٹ نے سینیٹ کے ساتھ ہی ایوان نمائندگان یعنی کانگریس میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے۔

نیتن یاہو نے مئی میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا تھا کہ وہ امریکی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتے ہیں۔تصویر: Elizabeth Frantz/REUTERS

ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن میں ووٹنگ سے ذرا پہلے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت رواں سال کے بعد واشنگٹن اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالر کی مالی امداد بند کر دے گا۔

انہوں نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ سال کے اختتام پر امداد کس طرح بند کی جائے گی۔ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر فوجی امداد فراہم کرنے کا مفاہمتی معاہدہ ستمبر 2028 تک ختم نہیں ہو رہا۔

ٹرمپ نے کہا، ''اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔ اسرائیل ایک بہت خوشحال ملک ہے، اسے اس امداد کی ضرورت نہیں۔‘‘

امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق 1948 میں قیام کے بعد سے اسرائیل کو امریکی اقتصادی اور فوجی امداد کی مد میں 300 ارب ڈالر سے زیادہ مل چکے ہیں، جو اس عرصے میں کسی بھی دوسرے ملک کو دی جانے والی امداد سے کہیں زیادہ ہے۔

1948 میں قیام کے بعد سے اسرائیل کو امریکی اقتصادی اور فوجی امداد کی مد میں 300 ارب ڈالر سے زیادہ مل چکے ہیں،تصویر: Joe Raedle/AFP/Getty Images

ٹرمپ نے یہ اعلان کیوں کیا؟

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی، جو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی تھی، نے امریکہ میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو امداد بند کرنے کے حامی امریکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کو امداد، جو کئی دہائیوں تک امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کا معاملہ رہی، اب صدر ٹرمپ کے سیاسی نقصان کا سبب بن رہی ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے بارے میں فیصلہ کر لیا ہے۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز کے پروگرام 'فوکس اینڈ فرینڈز‘ میں کہا کہ اسرائیل کو اب اس مالی امداد کی ضرورت نہیں رہی اور بعض ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان امریکی مالی معاونت کو ری پبلکنز کے خلاف تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ادارت:صلاح الدین زین
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں