امریکی مڈ ٹرم الیکشن: اسرائیل کی امداد روکنا بھی ٹرمپ کے کام نہ آیا؟
4 نومبر 2026
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو غالباﹰ اس بات کا اندازہ تھا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو مالی امداد بند کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اکتوبر میں ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ''اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں وہ امداد مسلسل ملتی رہے گی جو میں نے دو مرتبہ حاصل کی، یعنی دفاعی بجٹ کے لیے دسیوں ارب ڈالر، تو خود کو تیار کر لیں اور اس حقیقت کی عادت ڈال لیں کہ ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ امریکہ بدل چکا ہے۔‘‘
مئی میں انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا تھا کہ وہ امریکی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی کانگریس نے 2020 میں اسرائیل کے لیے امداد کی اجازت دینے کا قانون منظور کیا تھا، تاہم ہر سال سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کو فنڈز کی تقسیم اور اجرا کے لیے الگ سے مالیاتی بل منظور کرنا ہوتے ہیں۔
مڈ ٹرم الکیشن کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ٹرمپ کی حریف جماعت ڈیموکریٹ نے سینیٹ کے ساتھ ہی ایوان نمائندگان یعنی کانگریس میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن میں ووٹنگ سے ذرا پہلے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت رواں سال کے بعد واشنگٹن اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالر کی مالی امداد بند کر دے گا۔
انہوں نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ سال کے اختتام پر امداد کس طرح بند کی جائے گی۔ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر فوجی امداد فراہم کرنے کا مفاہمتی معاہدہ ستمبر 2028 تک ختم نہیں ہو رہا۔
ٹرمپ نے کہا، ''اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔ اسرائیل ایک بہت خوشحال ملک ہے، اسے اس امداد کی ضرورت نہیں۔‘‘
امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق 1948 میں قیام کے بعد سے اسرائیل کو امریکی اقتصادی اور فوجی امداد کی مد میں 300 ارب ڈالر سے زیادہ مل چکے ہیں، جو اس عرصے میں کسی بھی دوسرے ملک کو دی جانے والی امداد سے کہیں زیادہ ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان کیوں کیا؟
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی، جو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی تھی، نے امریکہ میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو امداد بند کرنے کے حامی امریکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کو امداد، جو کئی دہائیوں تک امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کا معاملہ رہی، اب صدر ٹرمپ کے سیاسی نقصان کا سبب بن رہی ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے بارے میں فیصلہ کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے فوکس نیوز کے پروگرام 'فوکس اینڈ فرینڈز‘ میں کہا کہ اسرائیل کو اب اس مالی امداد کی ضرورت نہیں رہی اور بعض ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان امریکی مالی معاونت کو ری پبلکنز کے خلاف تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین