1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی وزیرِ خارجہ کا غیر متوقع دورہِ عراق

25 اپریل 2009

عراق میں تشدّد کی حالیہ لہر کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن ایک غیر متوقع اور غیر اعلان شدہ دورے پر ہفتہ کے روزعراقی دارلحکومت بغداد پہنچ گئی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کانٹنتصویر: AP

جمعہ کے روز عراقی دارلحکومت بغداد میں دو خود کش حملہ آوروں نے شیعہ زائرین کے ایک اجتماع پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں عراقی حکّام کے مطابق ستر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اپریل کے مہینے میں کم از کم ڈھائی سو افراد عراق میں مختلف پر تشدّد کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیںتصویر: AP

جمعرات کو ایک اور خود کش حملے میں بھی درچنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اپریل مے مہینے میں متعدد پر تشدّد واقعات میں عراق میں کم از کم ڈھائی سو افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی نئی عراق پالیسی کے مطابق امریکی افواج ملک کے بڑے شہروں سے انخلاء کی تیّاریاں کر رہی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال کا جائزہ لینے عراق آئی ہیں اور وہ امریکی افواج کے عہدیداروں اور عراقی حکّام سے مل کر یہ جاننا چاہتی ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی اور دیگر حکّام سے بھی ملاقاتیں کریں گی


ہلری کلنٹن اس دورے میں عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی، صدر جلال طالبانی اور دیگر عراقی حکّام سے ملاقاتیں کریں گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ عراق میں نئے امریکی سفیر کرسٹوفر ہل کے اپنے انصب سنبھالنے کے فوراً بعد عمل میں آیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کہ مطابق تشدّد کی یہ نازہ لہر افسوس ناک ضرور ہے تاہم یہ دو ہزار چھ کے ان واقعات سے مختلف ہے جس میں عراق تقریباً خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد عراقی عوام اور حکّام پر واضح کرنا ہے کہ مشکل کے وقت میں امریکو عراق کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں