1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستامریکہ

امریکی وی‍زا کے لیے سوشل میڈیا کی جانچ کا اصل مقصد کیا ہے؟

جاوید اختر (تحریر: میٹ پیئرسن)
21 دسمبر 2025

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے نئے منصوبوں کے تحت امریکہ آنے والے مسافروں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ظاہر کرنے پر مزید مجبور کیا جائے گا۔ ان تازہ اقدامات نے آزادیِ اظہار کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاونٹ کا اسکرین شاٹ
ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ آنے والے مزید مسافر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کریںتصویر: Christoph Hardt/Panama Pictures/picture alliance

روایتی طور پر امریکہ کے کم خطرے والے اتحادی سمجھے جانے والے ممالک کے شہریوں کو بھی جلد ہی امریکہ پہنچنے پر اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز فراہم کرنا ہوں گے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ(ڈی ایچ ایس) کی جانب سے اس ہفتے اعلان کردہ منصوبوں کے مطابق جرمنی، اسرائیل، آسٹریلیا اور جاپان سمیت 42 ممالک کے مسافر بھی اب اسی سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں آئیں گے جس کا سامنا 2019 سے دنیا کے دیگر ممالک کے مسافروں کو ہے۔

اب تک ان 42 ممالک کے مسافروں کو 'ویزا ویور پروگرام‘ کی سہولت حاصل تھی، جس کے تحت وہ الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول آتھرائزیشن(ای ایس ٹی اے) کے ذریعے ویزا کے بغیر 90 دن تک امریکہ سفر کر سکتے تھے۔ تاہم نئی تجاویز کے تحت مسافروں کو غالباً جلد ہی سفری اجازت کے عمل کے حصے کے طور پر اپنی سوشل میڈیا کی ہسٹری، فون نمبرز اور ای میل  بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

ڈی ایچ ایس کے مطابق یہ تجویز، جو عدالتی چیلنج نہ ہونے کی صورت میں 8 فروری 2026 سے نافذ ہونے کی توقع ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں جاری کردہ اس حکم سے سامنے آئی ہے جس میں امریکہ آنے والوں کی ''زیادہ سے زیادہ حد تک جانچ اور اسکریننگ‘‘ کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ اقدام اگست میں امریکی محکمۂ خارجہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق تمام امریکی ویزا ہولڈرز کو سوشل میڈیا سمیت 'مسلسل نگرانی‘ کے عمل سے گزارا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجاویز کے تحت امریکہ آنے والے مسافروں کو غالباً جلد ہی سفری اجازت کے لیے اپنی سوشل میڈیا کی ہسٹری، فون نمبرز اور ای میل  بھی فراہم کرنا ہوں گےتصویر: picture alliance/imageBROKER

مسافروں کے لیے سوشل میڈیا کی جانچ کیسے کام کرے گی؟

اگرچہ مسافروں کو اپنے داخلے کے فارم میں گزشتہ پانچ سال کے دوران استعمال کیے گئے سوشل میڈیا ہینڈلز اور فون نمبرز، اور گزشتہ دس سال کے ای میل ایڈریس فراہم کرنا ہوں گے، تاہم انہیں اپنے اکاؤنٹس کے لاگ اِن کی تفصیلات دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

لہٰذا، نظریاتی طور پر امریکی حکومت صرف وہی معلومات دیکھ سکے گی جو عوامی طور پر دستیاب ہوں اور یہ کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے براہِ راست مزید تفصیلات حاصل کرے، جس کا امکان دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا۔ تاہم ان میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ جب ''ممکن ہو‘‘، تو بایومیٹرک ڈیٹا اور درخواست گزاروں کے خاندان کے افراد سے متعلق متعدد ذاتی معلومات کو بھی داخلے کی شرائط میں شامل کیا جائے گا۔

اس تجویز میں اس بات کی تفصیلات کم ہیں کہ فراہم کردہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کس طرح کی جائے گی یا اس وقت یہ عمل کیسے انجام دیا جا رہا ہے۔ تاہم اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس کی فعال نگرانی کے عملی پہلو کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں، جیسا کہ انگلینڈ کی یونیورسٹی آف باتھ سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل رویوں کے ماہر ڈیوڈ ایلس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا۔

انہوں نے کہا، ''وہ اس تمام ڈیٹا کو کیسے منظم کریں گے؟ کیا انہیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، یا یہ بھی کہ آپ کیا مواد دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں؟‘‘

یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیجیٹل سکیورٹی اینڈ بیہیویئر سے وابستہ ایلس نے مزید کہا، ''زیادہ تر لوگ آن لائن زیادہ کچھ نہیں کہتے، لیکن ظاہر ہے ہم سب آن لائن ایسا مواد دیکھتے ہیں جس سے ہم متفق نہیں ہوتے یا جسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ تو پھر وہ (امریکی حکومت) اس بات میں فرق کیسے کریں گے کہ کون سی چیز خطرے کی علامت ہے، اور کون سی محض ایسا مواد ہے جو آپ کے سامنے آ گیا اور آپ نے تین سیکنڈ کے لیے دیکھ لیا؟‘‘

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی تبدیلیوں کے نتیجے میں امریکہ آنے والا ہر فرد اس وقت تک نگرانی میں رہ سکتا ہے، جب تک حکومت چاہےتصویر: Bertrand Guay/AFP/Getty Images

امریکی حکومت سیاحوں کی سوشل میڈیا پوسٹس میں کیا تلاش کرے گی؟

اس تجویز کے متعلق صدارتی حکم نامے میں بیرونِ ملک سے آنے والے افراد پر توجہ بڑھانے کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی سے متعلق خدشات بتائی گئی ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے،''امریکہ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جن غیر ملکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے، یا جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہوں، وہ اس کے شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بانی اصولوں کے خلاف دشمنانہ رویّے نہ رکھتے ہوں، اور نہ ہی نامزد غیر ملکی دہشت گردوں یا ہماری قومی سلامتی کے لیے دیگر خطرات کی وکالت کریں، ان کی مدد کریں یا حمایت کریں۔‘‘

ڈیوڈ ایلس کے نزدیک،''دشمنانہ رویے‘‘ جیسی اصطلاحات خطرناک حد تک مبہم ہیں اور ممکن ہے کہ انہیں ایسے افراد کے خلاف بھی استعمال کیا جائے جنہوں نے کسی ایسے مواد کو لائک، دیکھا یا شیئر کیا ہو جس سے وہ خود بھی متفق نہ ہوں۔

انہوں نے کہا،''آپ کسی شخص کی ٹک ٹاک ہسٹری دیکھ سکتے ہیں اور یہ پتا چل سکتا ہے کہ اس نے انتہا پسند خیالات کو فروغ دینے والی کوئی ویڈیو دیکھی، لیکن اس نے وہ ویڈیو صرف ایک سیکنڈ کے لیے دیکھی ہو۔ تو کیا یہ 30 سیکنڈ دیکھنے سے بہتر ہے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا،''اخلاقی طور پر انہیں وجہ بتانی چاہیے، لیکن وہ محض یہ کہہ سکتے ہیں کہ 'ہمیں آپ کے سوشل میڈیا کے استعمال کا طریقہ پسند نہیں آیا‘ اور اس طرح نیک نیتی سے ملک میں آنے کے خواہش مند افراد کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں۔‘‘

اس بات کی کوئی واضح نشاندہی نہیں کی گئی کہ کن بنیادوں پر کسی شخص کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ تاہم ایک اشارہ امریکی حکومت کی'کیچ اینڈ ریووک‘پالیسی سے ملتا ہے، جسے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے''ون اسٹرائیک پالیسی‘‘قرار دیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کی نشاندہی کر کے انہیں ملک سے نکالنا ہے،چاہے خلاف ورزی کی نوعیت یا شدت کچھ بھی ہو۔

اس پروگرام میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) پر مبنی نگرانی کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے امریکہ میں موجود غیر ملکیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ پروگرام خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بناتا ہے جو فلسطینی حقوق کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے امریکہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد تنظیموں، جیسے حماس یا حزب اللہ، کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

ایلس کا خیال ہے کہ نئی تجویز کے تحت سیاحوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی، اگر نہیں تو بالکل وہی، ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا،''یہ تقریباً لازمی طور پر اے آئی ہی ہو گا۔ اتنے وسائل نہیں کہ کوئی دستی طور پر یہ سب کچھ دیکھ سکے۔ انہیں مخصوص سوالات اور چیزوں کی تلاش کے لیے خودکار نظام استعمال کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں جو بھی فیصلہ کیا جائے، اس کی مالی اور ماحولیاتی لاگت بہت زیادہ ہو گی۔ مجھے واقعی شک ہے کہ اس پر کتنا غور کیا گیا ہے اور یہ درحقیقت کتنے 'برے لوگوں‘ کو پکڑ پائے گا۔‘‘

نئے ضابطوں کی وجہ سے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے سفر کرنے والے لاکھوں افراد کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آ رہے ہیںتصویر: Evan Vucci/AP Photo/picture alliance

کیا پرائیویسی سے متعلق خدشات ہیں؟

سب سے واضح بات یہ ہے کہ جو لوگ آن لائن گمنام طور پر پوسٹ کرتے ہیں، انہیں امریکہ میں داخلے کی صورت میں اپنی رازداری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے بھی سنجیدہ خدشات پائے جاتے ہیں۔ یورپی یونین میں صارفین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان کے بارے میں کون سا ڈیٹا رکھتی ہیں، لیکن امریکہ میں افراد کے لیے ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں امریکہ آنے والا ہر فرد اس وقت تک نگرانی میں رہ سکتا ہے، جب تک حکومت چاہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی قانون ساز مشیر کیرولین ڈی سیل نے بتایا،''تقریباً ہر وہ غیر امریکی شہری جو امریکہ میں داخل ہونا یا وہاں قیام کرنا چاہتا ہے، امریکی حکومت کی جانب سے غیر معینہ مدت تک سوشل میڈیا نگرانی کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘

امریکی آئین کی فرسٹ امینڈمنٹ مذہبی آزادی، آزادیٔ اظہار، آزادی صحافت اور پُرامن اجتماع کی ضمانت دیتی ہے۔ ڈی سیل ان افراد میں شامل ہیں جنہیں خدشہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے باعث امریکہ کا سفر یا وہاں رہائش اختیار کرنے کے خواہش مند افراد کو سوشل میڈیا پر اپنی بات کہنے میں خود سنسرشپ اختیار کرنا پڑے گی۔

اسی طرح 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے سفر کرنے والے لاکھوں افراد کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آ رہے ہیں، جو کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں منعقد ہو گا۔ ٹرمپ کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کے باعث ایران اور ہیتی کے شائقین پہلے ہی مایوس ہو چکے ہیں۔ فٹبال سپورٹرز یورپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رونن ایوین نے کہا کہ کھیل دیکھنے کے لیے سفر کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا،''آزادیٔ اظہار اور رازداری کا حق عالمی انسانی حقوق ہیں۔ کوئی بھی فٹبال شائق صرف سرحد عبور کرنے سے ان حقوق سے دستبردار نہیں ہو جاتا۔ یہ پالیسی نگرانی کی ایک خوفناک فضا پیدا کرتی ہے … اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔‘‘

ادارت: رابعہ بگٹی

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں