کانگریس سے خطاب: ٹرمپ کے ’غلط اور گمراہ کن دعووں‘ پر ایک نظر
25 فروری 2026
امریکی خبر رساں ادارے ایسویس ایٹڈ پریس نے واشنگٹن سے بدھ 25 فروری کے روز اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین کہلانے والے اپنے سالانہ خطاب میں گزشتہ رات ایسی بہت سی باتیں کہیں، جو پوری طرح حقائق پر مبنی نہیں تھیں۔ مثلاﹰ انہوں نے اپنے خطاب میں ''طویل عرصے تک کے لیے حالات کا رخ موڑ دینے‘‘ کا جو دعویٰ کیا، وہ بھی اگر غیر جانبدارانہ طور پر جائزہ لیا جائے، تو پرکھے جانے کے امتحان میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر پچھلا ایک سال اپنی کامیابیوں کے بلند بانگ دعوے کرتے اور اپنے پیش رو صدر جو بائیڈن کی کارکردگی کا مذاق اڑاتے ہوئے گزارا۔ لیکن موجودہ امریکی صدر کے ایسے بیانات زیادہ تر ''غلط معلومات‘‘ پر مبنی تھے، اور اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بھی انہوں نے ایک بار پھر ایسی ہی کئی باتیں کہیں۔
ٹرمپ کے خطاب میں کیے گئے دعووں اور اصل حقائق پر ایک قریبی نظر:
معیشت
ٹرمپ: ''جب میں نے 12 ماہ قبل ایسے ہی ایک اجلاس سے خطاب کیا تھا، تو قوم بحران کا شکار تھی اور معیشت جمود کا شکار۔‘‘
حقیقت: بالکل ایسا تو نہیں تھا۔ 2024ء کے الیکشن میں ووٹر افراط زر کی اونچی شرح پر ناخوش تھے، لیکن امریکی معیشت تب کسی جمود سے تو بہت ہی دور تھی۔ 2024ء میں امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار میں نمو کی شرح 2.8 فیصد رہی تھی، جو گزشتہ برس ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے پہلے سال کی شرح 2.2 فیصد کے مقابلے میں تو واضح طور پر زیادہ تھی۔
’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس آج، شہباز شریف بھی شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے
امریکی عوام کی آمدنی میں اضافہ
ٹرمپ: ''آمدنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہماری گرج دار معیشت اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جتنی گھن گرج پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔‘‘
حقیقت: ایسا نہیں ہے۔ 2025ء میں امریکی شہریوں کی آمدنی میں، ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد اور افراط زر کے اثرات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد، 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔ 2024ء میں، جو کہ بائیڈن کی صدارت کا آخری سال تھا، امریکی شہریوں کی آمدنی میں اوسط اضافہ 2.2 فیصد رہا تھا۔
سرمایہ کاری
ٹرمپ: ''میں نے یہ یقین دہانیاں حاصل کیں کہ دنیا بھر سے امریکہ میں 18 ٹریلین ڈالر سے زائد کی رقوم سرمایہ کاری کے لیے آئیں گی۔‘‘
حقیقت: ٹرمپ نے ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے کہ انہوں نے امریکہ میں داخلی یا بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اتنی بڑی رقوم کی یقینی دہانیاں حاصل کی ہیں۔ مختلف کاروباری اداروں، بیرونی ممالک اور خود وائٹ ہاؤس کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں، ان میں قیاس آرائی بہت نمایاں ہے اور یہ اصل رقوم سے انتہائی زیادہ ہیں۔ خود وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر اس ممکنہ سرمایہ کاری کی مالیت بہت کم، یعنی 9.6 ٹریلین ڈالر بتائی گئی ہے۔
ملازمتیں
ٹرمپ: ''ہمارے ملک کی تاریخ کے کسی بھی دوسرے دور کے مقابلے میں آج امریکیوں کی کہیں زیادہ تعداد برسرروزگار ہے اور کام کر رہی ہے۔‘‘
حقیقت: درست، لیکن امریکہ میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی میں اضافے کے ساتھ بھی تو بڑھتی ہے۔ شرح روزگار کے معاملے میں تعداد سے زیادہ اہم ملکی آبادی میں کام کرنے والے افراد کا تناسب ہوتا ہے۔ اپریل 2000ء میں ایسے امریکی شہریوں کی شرح بہت زیادہ یعنی 64.7 فیصد تھی، جن کے پاس روزگار تھا۔ جنوری میں یہ شرح مقابلتاﹰ کافی کم یعنی 59.8 فیصد بنتی تھی۔ اس وقت امریکہ میں بےروزگاری کی شرح کم ہے، جو 4.3 فیصد بنتی ہے۔ لیکن جنوری 2025ء میں جب بائیڈن ابھی صدارتی منصب پر فائز تھے، یہی شرح کم تر تھی اور چار فیصد بنتی تھی۔ اس کے علاوہ جو بائیڈن ہی کے دور صدارت میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ 50 برسوں کی اپنی نچلی ترین سطح یعنی 3.4 فیصد تک آ گئی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کا ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف
غیر ملکی جنگیں
ٹرمپ: ''میں نے اپنے دور صدارت کے پہلے 10 ماہ کے دوران آٹھ جنگیں ختم کرائیں۔‘‘
حقیقت: صدر ٹرمپ کی طرف سے بار بار پیش کردہ یہ اعداد انتہائی حد تک مبالغے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اگرچہ کئی ممالک کے مابین تعلقات کے عمل میں ثالثی کی ہے، تاہم اس کے نتائج اتنے واضح اور روشن نہیں، جتنے وہ دعوے کرتے ہیں۔ ٹرمپ کم ا زکم دو ایسے واقعات میں بھی اپنے لیے قیام امن کے دعوے کرتے ہیں، جن مین کوئی ایسی جنگ جاری ہی نہیں تھی، جسے ختم کرایا جاتا۔ ایک سربیا اور کوسووو کے درمیان، اور دوسری مصر اور ایتھوپیا کے مابین رابطہ کاری حالانکہ ان دونوں ممالک کے مابین کوئی جنگ نہیں ہو رہی تھی بلکہ ایک ڈیم کی وجہ سے محض کشیدگی تھی۔
باقی ایسی جنگیں، جن کے بارے میں ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے وہ جنگیں رکوا کر تصفیے کرا دیے، وہ حماس اور اسرائیل کی جنگ، اسرائیل اور ایران کی جنگ، بھارت اور پاکستان کے مابین فوجی تصادم، روانڈا اور کانگوکے درمیان تنازعہ، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جھگڑا، اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے مابین کشیدگی تھیں۔ ان تمام تنازعات میں ٹرمپ کا اثر و رسوخ کافی متنوع اور ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے۔
ٹریڈ ٹیرفس
ٹرمپ: ''ٹریڈ ٹیرفس سے حاصل ہونے والی آمدنی ہمارے ملک کو بچا رہی ہے، وہ سرمایہ جو ہمیں حاصل ہو رہا ہے۔‘‘
حقیقت: ٹرمپ نے دیگر ممالک سے امریکہ میں درآمدات پر بہت زیادہ امپورٹ ٹیرفس عائد کیے ہیں، لیکن ان سے ہونے والی آمدنی اتنی زیادہ تو نہیں کہ امریکی حکومت کو وفاقی بجٹ میں ہر سال ہونے والے ہوش ربا خسارے پر کوئی بڑا اثر ڈال سکے۔ ان ٹیرفس سے پیداواری شعبے میں ملازمتوں کے نئے مواقع پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے حال ہی میں ٹرمپ کے عائد کردہ ان ٹیرفس کے خلاف اکثریتی فیصلے سے پہلے کانگریس کے بجٹ آفس نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ نئے ٹیکسوں کی وجہ سے اگلے دس برسوں میں تقریباﹰ تین ٹریلین ڈالر کی اضافی آمدنی ہو گی۔ یہ رقم اوسطاﹰ سالانہ قریب 300 بلین ڈالر بنتی ہے۔ ان رقوم سے تو 4.7 ٹریلین ڈالر کی وہ مالیاتی کمی بھی پوری نہیں ہو سکتی، جو امریکی شہریوں کے لیے ٹیکسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی اعلان کردہ چھوٹ کی وجہ سے پیدا ہو گی۔
ٹرمپ کا مودی سے گفتگو کے بعد بھارت کے ساتھ 'تجارتی معاہدے' کا اعلان
دیگر شعبوں میں ٹرمپ کے دعوے اور حقائق
صدر ٹرمپ نے اپنے سالانہ خطاب میں منگل کی رات جن دیگر شعبوں میں ایسے بیانات دیے یا دعوے کیے، جو حقائق سے کہیں دور تھے یا جن کے منافی اے پی نے اپنے تجزیے میں اصل صورت حال بیان کی ہے، انہیں بھی اس امریکی نیوز ایجنسی نے ''غلط اور گمراہ کن‘‘ ہی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نیٹو افواج کے کردار کے تاریخی حقائق سے انحراف نہ کریں، جرمن چانسلر
ٹرمپ کے صدارتی خطاب میں یہ دعوے امریکہ میں صحت عامہ کے نظام، ادویات کی قیمتوں، ملک میں جرائم کی شرح، تارکین وطن کی آمد یا موجودگی، اور ماضی کے امریکی انقلاب سے متعلق تھے۔
ٹرمپ: ''وہ انقلاب جو 1776 میں شروع ہوا، وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ یہ انقلاب ہر محب وطن امریکی کے دل میں آزادی کے شعلے کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔‘‘
حقیقت: سچ یہ ہے کہ امریکی انقلاب 1776ء میں نہیں، بلکہ اس سے ایک برس قبل 19 اپریل 1775ء میں شروع ہوا تھا۔ نوآبادیوں نے اپنی آزادی کا اعلان 1776ء میں کیا تھا اور تین ستمبر 1783ء کو یہ انقلاب اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تھا۔
ادارت: جاوید اختر