اسرائیل میں انتخابات سے قبل مغربی کنارے میں بڑا آپریشن
25 اکتوبر 2026
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اتوار تک سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے جبکہ ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔
یہ کارروائی جمعہ کو الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے ایک مسلح حملے کے ردعمل میں کی گئی، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
یہ فوجی آپریشن ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے، جب اسرائیل میں منگل کے روز پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس الیکشن کو موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت اور گزشتہ تین برس کی جنگ کے دوران اپنائی گئی سکیورٹی پالیسیوں پر عوامی رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
الخلیل میں جمعے کو ہوئے حملے کے بعد اسرائیل میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کے تین وزراء نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔
نیتن یاہو نے کہا، ''ہم نے چند ہفتے قبل خبردار کیا تھا کہ ہمارے دشمن انتخابات سے قبل ہمیں، ہمارے شہریوں اور ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔‘‘
نیتن یاہو پر دباؤ ہے کہ وہ فلسطینی حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مظاہرہ کریں تاکہ سکیورٹی کے حوالے سے فکر مند اسرائیلی ووٹرز کے سامنے اپنی مضبوط قیادت کا تاثر برقرار رکھ سکیں۔
الیکشن سے قبل سکیورٹی سخت
اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار اور پیر کو ورک پرمٹ رکھنے والے بیشتر فلسطینی مزدوروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں میں کام کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ اسرائیل میں داخلے کے تمام کراسنگ پوائنٹس منگل کو ہونے والے انتخابات تک بند رہیں گے۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کے اختتام پر 400 سے زائد مقامات پر کارروائیاں کیں اور 40 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس یا فلسطینی اسلامی جہاد سے وابستہ تھے۔
اس آپریشن کے باعث سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہونے کے باعث بعض افراد کو پیدل کراسنگ پوائنٹس عبور کرنا پڑے۔
جمعہ کے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم چیک پوائنٹ پر روک لیے گئے۔
فوج کا کہنا ہے کہ اہلکار اس علاقے میں ''درست، ہدفی اور جامع تلاشی کی کارروائیاں‘‘ کر رہے ہیں، جہاں حملہ آور سرگرم تھے اور اس نے دیر بہا نامی علاقے کے مکینوں کو، جسے مشتبہ حملہ آوروں کا محلہ قرار دیا گیا ہے، علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی۔
الخلیل (ہیبرون) کی بلدیہ کے حکام کے مطابق دیر بہا اور اس سے ملحق چار علاقوں سے راتوں رات 200 سے 300 خاندان بے دخل ہوئے، جن میں سے بیشتر نے شہر کے دیگر حصوں میں پناہ لی۔
اس سال مغربی کنارے میں حملوں کے دوران چھ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ علاقہ حالیہ عرصے میں تشدد کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ اسی مدت کے دوران، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 112 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، یہ اعداد و شمار راملہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں۔
مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی اور 5 لاکھ 40 ہزار اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں۔ اسرائیل نے 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران اس علاقے پر قبضہ کیا تھا۔ الخلیل خطے کے سب سے کشیدہ شہروں میں شمار ہوتا ہے اور یہ واحد شہر ہے، جہاں اسرائیلی فوج کے تحفظ میں یہودی آبادکار گنجان فلسطینی آبادی کے وسط میں رہتے ہیں۔