1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمقبوضہ فلسطینی علاقے

اسرائیل میں انتخابات سے قبل مغربی کنارے میں بڑا آپریشن

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹرز | ادارت | شکور رحیم
25 اکتوبر 2026

اسرائیلی فوج نے اختتام ہفتہ پر ویسٹ بینک میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے جبکہ ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔

الخلیل کے شمالی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے کے بعد اسرائیلی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق واقعے میں دو مشتبہ فلسطینی حملہ آور ہلاک اور کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔ (اے ایف پی/حازم بدر)
اسرائیلی فوج نے اختتام ہفتہ پر ویسٹ بینک میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے، فائل فوٹوتصویر: Hazem Bader/AFP

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اتوار تک سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے جبکہ ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔

یہ کارروائی جمعہ کو الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے ایک مسلح حملے کے ردعمل میں کی گئی، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

یہ فوجی آپریشن ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے، جب اسرائیل میں منگل کے روز پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس الیکشن کو موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت اور گزشتہ تین برس کی جنگ کے دوران اپنائی گئی سکیورٹی پالیسیوں پر عوامی رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

الخلیل میں جمعے کو ہوئے حملے کے بعد اسرائیل میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کے تین وزراء نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

نیتن یاہو نے کہا، ''ہم نے چند ہفتے قبل خبردار کیا تھا کہ ہمارے دشمن انتخابات سے قبل ہمیں، ہمارے شہریوں اور ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔‘‘

نیتن یاہو پر دباؤ ہے کہ وہ فلسطینی حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مظاہرہ کریں تاکہ سکیورٹی کے حوالے سے فکر مند اسرائیلی ووٹرز کے سامنے اپنی مضبوط قیادت کا تاثر برقرار رکھ سکیں۔

جمعہ کو الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے ایک مسلح حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے، فائل فوٹوتصویر: Mahmoud Illean/AP Photo/picture alliance

الیکشن سے قبل سکیورٹی سخت

اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار اور پیر کو ورک پرمٹ رکھنے والے بیشتر فلسطینی مزدوروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں میں کام کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ اسرائیل میں داخلے کے تمام کراسنگ پوائنٹس منگل کو ہونے والے انتخابات تک بند رہیں گے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کے اختتام پر 400 سے زائد مقامات پر کارروائیاں کیں اور 40 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس یا فلسطینی اسلامی جہاد سے وابستہ تھے۔

اس آپریشن کے باعث سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہونے کے باعث بعض افراد کو پیدل کراسنگ پوائنٹس عبور کرنا پڑے۔

جمعہ کے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم چیک پوائنٹ پر روک لیے گئے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اہلکار اس علاقے میں ''درست، ہدفی اور جامع تلاشی کی کارروائیاں‘‘ کر رہے ہیں، جہاں حملہ آور سرگرم تھے اور اس نے دیر بہا نامی علاقے کے مکینوں کو، جسے مشتبہ حملہ آوروں کا محلہ قرار دیا گیا ہے، علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی۔

اس الیکشن کو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت اور سکیورٹی پالیسیوں پر عوامی ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، فائل فوٹوتصویر: Oded Balilty/AP Photo/picture alliance

الخلیل (ہیبرون) کی بلدیہ کے حکام کے مطابق دیر بہا اور اس سے ملحق چار علاقوں سے راتوں رات 200 سے 300 خاندان بے دخل ہوئے، جن میں سے بیشتر نے شہر کے دیگر حصوں میں پناہ لی۔

اس سال مغربی کنارے میں حملوں کے دوران چھ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ علاقہ حالیہ عرصے میں تشدد کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ اسی مدت کے دوران، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 112 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، یہ اعداد و شمار راملہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں۔

مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی اور 5 لاکھ 40 ہزار اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں۔ اسرائیل نے 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران اس علاقے پر قبضہ کیا تھا۔ الخلیل خطے کے سب سے کشیدہ شہروں میں شمار ہوتا ہے اور یہ واحد شہر ہے، جہاں اسرائیلی فوج کے تحفظ میں یہودی آبادکار گنجان فلسطینی آبادی کے وسط میں رہتے ہیں۔

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں