1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اوباما کرزئی ملاقات: امریکی دستوں کی تعداد سب سے اہم موضوع

11 جنوری 2013

امریکی اور افغان صدور کی آج واشنگٹن میں جو انتہائی اہم ملاقات ہو رہی ہے، وہ ممکنہ طور پر اس بات کا تعین کرے گی کہ مستقبل میں افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کے انخلاء کی رفتار کیا ہو گی۔

تصویر: AP

واشنگٹن سے خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اسی ملاقات میں ہونے والے مذاکرات کی روشنی میں ممکنہ طور پر یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ آیا 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد موجود رہے گی یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی کی میزبانی کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما کو اپنے دوبارہ انتخاب کی سیاسی مہم کے دوران کیے جانے والے وعدے کی وجہ سے اس چیلنج کا سامنا بھی ہو گا کہ افغانستان کی طویل جنگ اب آہستہ آہستہ اس کے خاتمے کی طرف لائی جانی چاہیے اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہندو کش کی اس ریاست سے نیٹو کے جنگی دستوں کے 2014ء کے آخر تک طے شدہ انخلاء کے بعد افغانستان میں نہ تو کوئی خلاء پیدا ہو اور نہ ہی وہ دوبارہ کسی داخلی انتشار کا شکار ہو۔

امریکا اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو دوطرفہ روابط میں کھچاؤ اور کشیدگی کا سبب بنے۔ افغان صدر حامد کرزئی ایک ایسے وقت پر امریکا کا کئی روزہ دورہ کر رہے ہیں، جب واشنگٹن میں اس بات پر مشاورت جاری ہے کہ انخلاء کے بعد افغانستان ميں کتنے امريکی فوجی تعينات رکھے جانے چاہييں۔ واضح رہے کہ امريکی اہلکار يہ بھی کہہ چکے ہيں کہ افغانستان سے تمام امريکی فوجیوں کا انخلاء خارج از امکان نہیں ہے۔

امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹنتصویر: AP

افغانستان ميں اس وقت قريب 66 ہزار امريکی فوجی تعينات ہيں۔ وائٹ ہاؤس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امريکی اہلکار نجی طور پر تين ہزار سے نو ہزار کے درميان فوجی متعين رکھنے کی تجاويز دے چکے ہيں۔

گزشتہ روز کرزئی اور امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن کے درميان ملاقات ہوئی۔ آج امريکی اور افغان صدور کی ملاقات کے بعد دونوں رہنما ايک پريس کانفرنس سے خطاب کريں گے جبکہ آنے والے دنوں ميں کرزئی کی ديگر اہم امريکی عہديداران سے ملاقاتيں متوقع ہيں۔

mm, sks (Reuters)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں