ايرانی جوہری ڈيل ميں توسيع، شرائط و فوائد
20 جولائی 2014
يورپی ملک آسٹريا کے دارالحکومت ويانا ميں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہفتہ انيس جولائی کو اعلان کيا گيا کہ ايران کے متنازعہ جوہری پروگرام کا طويل المدتی حل تلاش کرنے کے ليے رواں برس فروری سے جاری مذاکراتی عمل کو مزيد وقت دينے کے ليے گزشتہ برس نومبر ميں طے پانے والی ڈيل ميں مزيد چار ماہ کی توسيع پر اتفاق رائے ہو گيا ہے۔
اب عارضی ڈيل کی مدت چوبيس نومبر کو ختم ہو گی، جس دوران امريکا، برطانيہ، فرانس، جرمنی، روس اور چين پر مشتمل چھ عالمی قوتوں کا گروپ اور تہران حکومت کسی جامع اور طويل المدتی معاہدے کو حتمی شکل دينے کی کوشش کريں گے۔
ڈيل ميں توسيع کی شرائط
آئندہ چار ماہ کے دوران ايرانی حکومت عارضی ڈيل کی طے شدہ شرائط پر عمل در آمد جاری رکھے گی، جن ميں حساس ترين جوہری سرگرميوں کی معطلی، يورينيم کی بيس فيصد تک افزودگی کے عمل کو روکنا اور عالمی برادری کے خدشات کو دور کرنے کا عمل جاری رکھنا شامل ہيں۔ اس دوران تہران حکومت کو متنازعہ اراک ری ايکٹر کی تعمير و توسيع کا عمل بھی معطل رکھنا ہو گا۔
امريکی اہلکاروں نے ہفتے کے روز مطلع کيا ہے کہ نئی شرائط کے تحت ايران نے اس بات کی بھی حامی بھر لی ہے کہ وہ اپنے بيس فيصد تک افزودہ يورينيم کے ذخائر ميں سے دارالحکومت تہران کے ايک ريسرچ ری ايکٹر کے ليے ايندھن تيار کرے گا۔ ايران پہلے ہی يورينيم گيس کو آکسائڈ ميں تبديل کر چکا ہے اور اب اسے ايندھن کی شکل دينے سے يہ کافی مشکل ہو جائے گا کہ ايران اسے کسی جوہری ہتھيار کی تياری کے ليے استعمال کر سکے۔ امريکی اہلکاروں کے بقول ايران يورينيم گيس کے ذخائر کی قوت ميں بھی مزيد کمی کرے گا۔
ايران کو ملنے والے فائدے
جينوا معاہدے کی شرائط کے تحت ايران کو اپنے خلاف عائد چند پابنديوں سے چھوٹ ديے جانے کا عمل جاری رہے گا، جن ميں سونے کی تجارت، قيمتی دھاتوں، پيٹرو کيميکلز اور آٹو انڈسٹری پر پابنديوں کی چھوٹ شامل ہيں۔
بيرونی ممالک ميں اس وقت ايران کے قريب ايک سو بلين ڈالر منجمد ہيں۔ معاہدے ميں توسيع کے سبب آئندہ چار ماہ کی مدت ميں ايران کے ليے 2.8 بلين ڈالر جاری کيے جا سکتے ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ بيس جنوری سے لاگو ہونے والے عارضی معاہدے کے پہلے چھ ماہ ميں ايران کے 4.2 بلين ڈالرکو آٹھ اقساط ميں جاری کيا گيا تھا۔
اس دوران خام تيل، بينکنگ اور اقتصادی شعبوں پر عائد پابندياں جاری رکھی جائيں گی۔
معاہدے ميں توسيع پر اسرائيلی رد عمل
اسرائيلی وزير برائے جوہری امور Yuval Steinitz نے اس بارے ميں جاری کردہ اپنے بيان ميں کہا، ’’ ہم اس معاہدے ميں توسيع سے زيادہ خوش نہيں تاہم يہ کسی خراب ڈيل يا نا مکمل ڈيل سے بہتر ہے۔‘‘ نيوز ايجنسی روئٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے ان کا مزيد کہنا تھا کہ اسرائيل ايران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے معاملے ميں تہران کے مؤقف ميں کوئی واضح تبديلی نہيں ديکھ رہا اور نہ ہی ايسا معلوم ہوتا ہے کہ ايران مرکزی مسائل پر کچھ لچک دکھا رہا ہے۔
اسرائيلی وزير نے ايران کے ليے مزيد 2.8 بلين ڈالر کے اجراء کی مخالفت کرتے ہوئے چند ايسے مغربی سفارت کاروں کی بھی مذمت کی، جن کا ماننا ہے کہ توسيع کی مدت کے دوران ايرانی جوہری تنازعے کے حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
امريکا اور ديگر مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ايران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ ميں جوہری ہتھيار تيار کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ تہران حکومت اِس الزام کو رد کرتی ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ اُس کا ايٹمی پروگرام پُر امن مقاصد کے ليے ہے۔