1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ايران کے خلاف پابنديوں ميں نرمی ممکن، امريکا

عاصم سليم15 اکتوبر 2013

امريکا نے اس جانب اشارہ کيا ہے کہ اگر ايران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق بين الاقوامی برادری کے تحفظات دور کرنے ميں کامياب رہا تو اس کے خلاف عائد پابنديوں ميں نرمی کی جا سکتی ہے۔

تصویر: aeoi.org.ir

ايران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران انتظاميہ اور چھ عالمی طاقتوں کے درميان مذاکرات کا اگلا دور آج سے سوئٹزرلينڈ کے شہر جنيوا ميں شروع ہو رہا ہے، جو بدھ تک جاری رہے گا۔ مذاکرات ميں امريکا، روس، چين، فرانس، جرمنی اور برطانيہ کے نمائندگان شريک ہوں گے۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق واشنگٹن انتظاميہ کے ايک سينئر اہلکار نے رپورٹرز کو بتايا کہ فوری طور پر تنازعے کے حل کا کوئی امکان نہيں ہے۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس اہلکار کا يہ بھی کہنا تھا کہ اگر ايران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق بين الاقوامی برادری کے تحفظات اور بالخصوص يہ کہ اس کے پروگرام کا مقصد ايٹم بم تيار کرنا ہے، دور کرنے ميں کامياب رہا تو اس کے خلاف عائد پابنديوں ميں نرمی کی جا سکتی ہے۔ اس اہلکار نے واضح کيا کہ پابنديوں ميں نرمی کا براہ راست تعلق اس سے ہوگا کہ ايران کتی لچک دکھاتا ہے۔

ايرانی صدر حسن روحانیتصویر: picture alliance/Newscom

تہران انتظاميہ کے خلاف عائد پابنديوں ميں نرمی کے معاملے ميں امريکا کی سنجيدگی کا اشارہ اس بات سے بھی ملتا ہے کہ مذاکرات کے ليے امريکی وفد ميں وزارت خزانہ کے ڈائريکٹر ايڈم زوبن بھی شريک ہيں، جو پابنديوں کے معاملے میں مہارت رکھتے ہيں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مذاکرات ميں پابنديوں کے موضوع پر مہارت رکھنے والے يورپی يونين کے اہلکار بھی شرکت کريں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر اس مخصوص وقت پر ایران کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے تو یہ ’ایک تاریخی غلطی‘ ہو گی۔ ايک اسرائيلی اہلکار کے مطابق نيتن ياہو نے اس سلسلے ميں برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون اور فرانسيسی صدر فرانسوا اولانڈ کے ساتھ بذريعہ ٹيلی فون گفتگو بھی کی ہے، جس ميں ان کا کہنا تھا کہ پابندياں مغربی ممالک کے مقاصد کے حصول کے قريب ہيں۔

دريں اثناء مذاکرات سے قبل يورپی يونين کے خارجہ امور کی سربراہ کيتھرين ايشٹن، جو ان مذاکرات ميں چھ عالمی طاقتوں کے نمائندگی بھی کر رہی ہيں، نے ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف کے ساتھ ايک عشائيے ميں شرکت کی۔

ايران 2006ء سے يورينيم کو افزودہ کرنے کے عمل کو ترک کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطالبات مسترد کر رہا ہے۔ امريکا سميت کئی مغربی ممالک کا الزام ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ ميں در حقيقت ايٹمی ہتھيار تيار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ايران مسلسل اس الزام کو مسترد کرتا آيا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے ليے ہے۔

ايران ميں رواں سال جون ميں ہونے والے انتخابات کے بعد صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے حسن روحانی يہ کہہ چکے ہيں کہ وہ ملکی معيشت کی بہتری اور پابنديوں کے خاتمے کے ليے مغربی ممالک کے ساتھ روابط بہتر بنانے کے خواہاں ہيں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ نيو يارک ميں يہ بھی کہا تھا کہ وہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ تين سے چھ ماہ کے عرصے ميں کوئی ڈيل چاہتے ہيں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں