1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اِسلام مخالف پیگِیڈا تحریک کا خالق: لُٹس باخمان

عابد حسین12 جنوری 2015

جرمنی میں مقبول ہوتی اسلام مخالف تحریک پیگِیڈا کا خالق تقریباً تین ماہ قبل تک ایک غیر معروف شخص تھا۔ وہ ایک تربیت یافتہ باورچی ہے۔ اُس کے خلاف فوجداری کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ اب وہ جرمنی میں ایک بڑی تحریک کا لیڈر ہے۔

Lutz Bachmann auf PEGIDA-Demonstration in Dresden
لُٹس باخمانتصویر: Reuters/H. Hanschke

لُٹس باخمان (Lutz Bachmann) سابقہ کمیونسٹ مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن کا پیدائشی ہے۔ اِسی شہر میں اُس نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور وہ پیگیڈا (PEGIDA) کہلاتی ہے۔ اس تحریک کا مکمل نام انگریزی میںPatriotic Europeans Against the Islamisation of the Occident" ہے۔ اِس کے پہلے جلوس میں تقریباً پانچ سو افراد شریک تھے۔ باخمان نے تبھی فیصلہ کیا تھا کہ پیگیڈا تحریک ہر پیر کے روز احتجاجی ریلی نکال کر یورپی باشندوں کو اپنی اقدار محفظ رکھنے کی تلقین کرے گی۔ دیکھتے دیکھتے یہ تحریک اب ہزاروں افراد کو اپنے دامن میں سمیٹ چکی ہے۔ پچھلے پیر کے روز نکالی گئی ریلی میں کم از کم اٹھارہ ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

لُٹس باخمان نے پیگیڈا تحریک کی شروعات سوشل نیٹ ورکنگ انٹر نیٹ سائٹ فیس بُک سے شروع کی تھی۔ فیس بُک پر باخمان کو دھڑا دھڑ ساتھی ملتے چلے گئے اور پھر ریلی کے لیے وقت اور دِن کا انتخاب کیا گیا۔ باخمان کی عمر اکتالیس برس ہے۔ اُس نے سن 1992 سے ایک چھوٹی موٹی اشتہاری ایجنسی بھی کھول رکھی ہے۔ وہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو سے پرہیز کرتا ہے۔ وہ صرف فیس بُک کے پیج سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتا ہے۔ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کے حلقے میں کئی مسلمان دوست بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب جرمن ذرائع ابلاغ پر اُس کے کریمنل ریکارڈ کی بھی خاصی تشہیر کی جا چکی ہے۔

لُٹس باخمان نے پیگیڈا تحریک کی شروعات سوشل نیٹ ورکنگ انٹر نیٹ سائٹ فیس بُک سے شروع کی تھی۔تصویر: picture-alliance/dpa/Arno Burgi

باخمان کو سن 1998 میں ساڑھے تین برس کی قید سزا سنائی گئی تھی۔ اُسے چوری اور ڈکیتی کے فوجداری مقدمات کا سامنا تھا۔ وہ کچھ وارداتوں کے بعد جنوبی افریقہ فرار ہو کر چلا گیا تھا، جب اُسے جنوبی افریقہ سے ملک بدر کر کے واپس جرمنی پہنچایا گیا تو وہ گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں اُس پر منشیات کے الزامات کو عدالت میں استغاثہ نے درست ثابت کر دیا۔ انہی جرائم کی بنیاد پر عدالت نے اُسے سزا سنائی تھی۔ آج کل وہ اپنی پیگیڈا تحریک میں اکثر ’پارکا جیکٹ‘ میں ملبوس ہوتا ہے اور ریلی کے شرکا سے اپنا خطاب انتہائی نرم لہجے کے ساتھ ’شام بخیر ڈریسڈن‘ سے شروع کرتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ کئی جانے پہچانے نیونازی جرمن باخمان کی پیگیڈا تحریک میں شامل دیکھے گئے ہیں۔ یہ نیو نازی اِس تحریک میں تواتر سے شریک ہوتے ہیں۔ اِن افراد کو پیگیڈا موومنٹ کی ریلیوں میں نازی مخالفین کا بھی سامنا ہے۔ اسی تناظر میں باخمان کا بھی کہنا ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے ساتھ کوئی گروپ بندی نہیں قائم کرنا چاہتا۔ پیگیڈا اِن دِنوں یورپی اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات رکھنے والی نئی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ (AfD) کے ساتھ عبوری بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیگیڈا تحریک کے منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کوئی سیاسی جماعت کی صورت اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ پیگیڈا کی جانب سے ایک انیس نکاتی منشور بھی جاری کیا گیا ہے اور اِس میں مجرم پناہ گزینوں کو قطعاً برداشت نہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اِس تحریک کا کہنا ہے کہ وہ یہودی و مسیحی اقدارکے تحفظ کے سلسلے میں متحرک ہے۔ اِس تحریک نے جرمن معاشرے میں ضم مسلمانوں کو تسلیم کرنے کا بھی عندیہ دے رکھا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں