1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اِن کی اُن سے ملاقات طے ہو گئی

29 مارچ 2018

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ستائیس اپریل کو منعقد ہونے والی ایک سمٹ میں صدر مون جے اِن شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ تقریبا ایک دہائی بعد ان کوریائی ریاستوں کے رہنما پہلی مرتبہ ملاقات کر رہے ہیں۔

Gipfeltreffen Süd- und Nordkorea in Panmunjom
تصویر: Reuters/Yonhap

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جنوبی کوریائی حکام کے حوالے سے جمعرات کے دن بتایا ہے کہ ’ساؤتھ نارتھ سمٹ 2018‘ کا انعقاد ستائیس اپریل کو سرحدی گاؤں ’پَن مُن جم‘  کے جنوبی علاقے میں قائم ’پیس ہاؤس‘ میں کیا جائے گا۔ اس موقع پر جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن براہ راست ملاقات میں جزیرہ نما کوریا پر پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

شمالی کوریائی رہنما جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرنے پر تیار

کوریائی امن کوششیں، چین اور روس کا خیرمقدم

شمالی کوریا امن چاہتا ہے، صدر ٹرمپ

جب شمالی کوریا کے فوجی نے بھاگنے کی کوشش کی

00:59

This browser does not support the video element.

جمعرات کے دن دونوں ممالک کے وفود نے ’پَن مُن جم‘ کے شمالی حصے میں واقع ’یونیفیکشن پویلین‘ میں ملاقات میں اس سمٹ کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وفود نے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ اِن اور اُن کی ملاقات سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اس موقع پر جنوبی کوریا کے وفد کے سربراہ چاؤ میونگ گیون نے کہا کہ اس سمٹ کے دوران دونوں رہنما ’بے تکلفانہ انداز میں تمام موضوعات‘ پر کھل کر گفتگو کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے موضوع پر بھی گفتگو ہو گی لیکن اس سمٹ کے ایجنڈے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئیں۔

اس موقع پر شمالی کوریائی وفد کے سربراہ ری سون گون نے کہا، ’’جو لوگ چاہتے ہیں، وہی ہمارا ایجنڈا ہے۔‘‘ دونوں ممالک کے وفود اس سمٹ سے قبل آئندہ بدھ ایک مرتبہ پھر ملیں گے، جس دوران اس سمٹ کے پروٹوکول اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر ممکن ہوئی ہے، جب کمیونسٹ ملک کے رہنما کم جونگ اُن نے چین کا اچانک دورہ کیا ہے۔ بطور شمالی کوریائی رہنما اُن کا یہ پہلا دورہ چین تھا، جس دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی۔

کم جونگ اُن کی طرف سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے کے اعلان کے بعد ایسی امید کی جا رہی ہے کہ کوریائی تنازعے کا حل پرامن مذاکرات سے ہو سکتا ہے۔

کم جونگ اُن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے اور توقع ہے کہ مئی میں یہ دونوں رہنما بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ بیجنگ حکومت نے کوریائی ریاستوں کے مابین اس سمٹ کو اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں علاقائی سطح پر سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ع ب / ش ح /  اے ایف پی

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں