1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’’اگر میرے بچے نہیں ہوتے، تو میں نے خود کشی کرلی ہوتی۔‘‘

03:29

This browser does not support the video element.

عرفان آفتاب Schülke, Birgitta
30 جولائی 2018

شمالی عراق میں سِنجار کی ایزدی آبادی سے تعلق رکھنے والی ایک مظلوم ماں، کوثر اپنے بچوں کی داعش کی قید سے بازیابی کے لیے دن رات دعاگو ہیں۔ تاہم وہ یہ نہیں جانتی کہ ان کے بچے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ دہشت گرد گروہ داعش نے کوثر اور ان کے بچوں کو دو سال سے زائد عرصے تک غلاموں کی طرح قید میں رکھا۔ اس عرصے میں جنگجؤں نے بے شمار مرتبہ کوثر کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں