1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اگر ووٹ صرف خواتین دیں تو جرمنی کیسا ہو؟

8 مارچ 2024

جرمنی میں خواتین کو تقریباﹰ ایک سو برس قبل ووٹنگ کا حق ملا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر جرمنی میں صرف خواتین ہی ووٹ ڈالتیں تو کون سی جماعتیں کامیاب ہوتیں اور آج کا جرمنی کتنا مختلف ہوتا؟

What if only women voted in Germany

جرمنی میں 1918ء میں وائمر ریپبلک کے دور میں خواتین کو ووٹ کا حق ملا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جمہوری جرمنی میں خواتین کو ووٹ کا اختیار حاصل رہا ہے۔ اس وقت جرمنی میں ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مردوں اور خواتین کی شرح برابر ہے۔

خواتین کن جماعتوں کو ووٹ دیتی ہیں؟

دوسری عالمی جنگ کے بعد پارلیمانی انتخابات (جو اس وقت صرف مغربی جرمنی میں ہوا کرتے تھے) میں خواتین کی رائے میں خاصا فرق آیا ہے۔

ایک طویل عرصے تک سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ مقبول رہی۔ ہاگن یونیورسٹی میں خواتین کی سیاست میں نمائندگی پر تحقیق کرنے والے ایلکے وائشمان کے مطابق 1950ء سے 1960ء  کے درمیان نصف سے زائد خواتین اسی جماعت کو ووٹ دیتی رہیں۔ اس کی ممکنہ وجہ بظاہر مسیحی روایات اور خاندانی اقدار پر زور تھا۔ ''مذہب، خاندان اور گھریلو زندگی خواتین کی توجہ میں قدرے کم سطح پر آئیں تو یہ انتخاب بھی تبدیل ہوا۔‘‘

وہ مزید کہتی ہیں، ''ہمیں لگتا ہے کہ انگیلامیرکل کی وجہ سے کسی حد تک سی ڈی یو کو اس کی پالیسیوں سے ہٹ کر بھی کچھ بونس ملا، مگر میرکل کے عہد کے ساتھ ہی یہ معاملہ بھی ختم ہو گیا۔‘‘

دوسری عالمی جنگ کے بعد قدامت پسدوں کو خواتین کے ووٹ زیادہ ملتے تھےتصویر: Joerg Schimmel/Funke Foto Services/IMAGO

خواتین زیادہ پروگریسیو

انگیلا میرکل نے جب دوبارہ انتخاب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس جماعت کا خواتین کے اضافے ووٹوں کا معاملہ یک سر ختم ہو گیا۔

وائشمان کے مطابق، ''حالیہ انتخابات میں خواتین زیادہ پروگریسو دکھائی دیں۔ اگرووٹ کا حق صرف خواتین کے پاس ہوتا تو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے چانسلر اولاف شولس کے ووٹوں کی شرح زیادہ ہوتی اورگرین پارٹی کے ووٹوں کی شرح ان سے بھی زیادہ ہوتی جب کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی اور نیولبرل فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی کئی نشستیں ہار جاتی۔‘‘

وائشمان کا کہنا ہے کہ خواتین انتخابی سیاست کو مردوں کے مقابلے میں بدستور قدرے مختلف دیکھتی ہیں ۔ ''وہ اب بھی کام اور کیریئر کے ساتھ ساتھ بچوں اور گھر سے متعلق زیادہ ذمہ داریوں کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں۔‘‘

وائشمان مزید کہتی ہیں، ''خواتین نئی ہائی وے پر بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کو فوقیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایس پی ڈی گرینز یا لیفٹ، جیسی جماعتوں کو ووٹ دیتی ہیں، جو صنفی مساوات کی ترویج کرتی ہیں۔‘‘

تاہم یہ بات اپنی جگہ ہے کہ  خواتین  اپنی منتخب جماعتوں کی جانب سے  سماجی تبدیلیوں کے وعدوں پر عمل درآمد کے علاوہ پارلیمان میں خواتین کی زیادہ نمائندگی چاہتی ہیں تاکہ طاقت پر ان کے براہ راست اختیار میں اضافہ ہو سکے۔

ع ت، ش ر (کیرا شاخت)

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں