ایبولا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ہوائی اڈوں پر کنٹرول سخت تر
17 اکتوبر 2014
یونین میں شامل ممالک نے ایبولا وائرس کے سبب بحرانی صورتحال سے دوچار مغربی افریقی ممالک کے ہوائی اڈوں پر غیر ملکی پروزاوں کے مسافروں کے طبی معائنے کی سختی سے چھان بین کا عندیہ دیا ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کے میڈیا میں یورپی عوام کو مہلک ایبولا وائرس کے خطرات سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات پر غیر معمولی زور دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے وزیر صحت اور یورپی کمیشن کی طرف سے تاہم اس بارے میں سکون و اطمنان کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یورپی کمیشن ایبولا سے سب سے زیادہ متاثرہ تین مغربی افریقی ممالک لائبیریا، سیرا لیئون اور گنی کے ہوائی اڈوں سے غیر ممالک کی طرف پرواز کرنے والے مسافروں کی طبی جانچ پڑتال پر زور تو دے رہا ہے تاہم صحت کے امور کے کمشنر تونیو بورگ نے کہا ہے، ’’ہم اس بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا مذکورہ ممالک کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی مناسب اور مؤثر جانچ پڑتال کی جا رہی ہے یا نہیں۔‘‘ یورپی کمشنر نے کہا ہے کہ اب اس بارے میں عالمی ادارہ صحت کی معاونت اور اشتراک عمل سے ان ہوائی اڈوں پر ہونے والی چھان بین کا جائزہ لیا جائے گا۔
ہوائی اڈوں پر سخت کنٹرول
یورپی یونین کے چند رکن ممالک کے نزدیک یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔ برطانیہ کے بعد اب فرانس نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ اُس کے ہوائی اڈوں پر اترنے والے غیر ملکی مسافروں کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور کسی مسافر کے جسم کے درجہ حرارت کے بڑھے ہونے جیسی طبی علامات کی صورت میں اُس کا مکمل معائنہ کیا جائے گا۔ لندن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیتھرو پر یہ سلسلہ گزشتہ ہفتے ہی شروع ہو چُکا ہے اور وہاں خاص طور سے اِن ڈائریکٹ فلائٹس کے مسافروں کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یورپی یونین کے ماہرین متاثرہ ممالک سے آنے والی ڈائرکٹ یا براہ راست پروازوں کے مسافروں کا معائنہ کر نے پر ہی زور دے رہے ہیں۔ یورپی ایئر لائنز میں محض ایئر فرانس اوربرسلز ایئر لائنز کی فلائیٹس براہ راست یا ڈائرکٹ ہیں۔ گزشتہ روز یعنی جمعرات کو اسپین میں میڈرڈ ایئر پورٹ پر مغربی افریقہ سے براہ راست آنے والے ایئرفرانس کے ایک طیارے میں ایبولا کے ایک مبینہ کیس کی خبر تھی۔
اطلاعات کے تبادلے کا بہتر نظام
جرمنی کے وفاقی وزیر برائے صحت ہیرمن گروہے کے مطابق اِن ڈائریکٹ فلائٹس کے مسافروں میں ایبولا وائرس کی علامات کا پتہ لگانے کے لیے اب تک طبی معائنے کا سہارا نہیں لیا گیا ہے۔ جرمن وزیر نے ایبولا سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کے روٹ سے متعلق تفصیلی معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ ہیرمن گروہے نے تجویز دی کہ ’’اس کے لیے ویزہ انفارمیشن سسٹم کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔‘‘
جرمن وزیر نے ایئر پورٹ اور فضائی عملے کے لیے ایک ایسی تربیتی ورکشاپ کی تجویز پیش کی ہے جس میں انہیں بیمار مسافروں یا ایسے مسافر جن میں کسی قسم کے عارضے کی کوئی علامات پائی جاتی ہیں، کے ساتھ ڈیل کرنے کے بارے میں تجربہ کار عملے کی طرف سے باقاعدہ تربیت دی جائے۔
مالی امداد میں اضافہ
یورپی یونین کے ممبر ممالک کے وزراء اور یونین کے نمائندوں نے اس امر کی ضرورت کو پھر دہرایا ہے کہ ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی ممالک کی انتظامہ اور حکام کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کر کے ہی اس وباء سے یورپی ممالک کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
یورپی کمیشن نے ان ممالک کے لیے امدادی رقوم کی حد بڑھا کر 180 ملین یورو کر دی ہے جبکہ محض جرمنی نے متاثرہ ممالک کو براہ راست 85 ملین یورو کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔