ایرانی جوہری مذاکرات: امریکا سمیت چار وزرائے خارجہ کی شرکت
12 جولائی 2014
گزشتہ ہفتے سے ایران اور چھ مغربی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مذاکراتی عمل میں فریقین کی کوشش ہے کہ بیس جولائی تک حتمی معاہدے کو کوئی شکل دے دی جائے وگرنہ اس طے شدہ مدت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ مغربی سفارتکاروں نے واضح کیا ہے کہ کم از کم اِس ویک اینڈ پر کسی قسم کی ڈیل متوقع نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکی وزیر خارجہ امکاناً اختلافی اور پیچیدہ معاملات کے حل میں معاون ہو سکتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران مختلف پہلووں اور دوسرے آپشنز پر بھی غوروفکر جاری ہے۔
یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے ملک کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ اُن کے مدِ مقابل چھ عالمی طاقتوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے ہمراہ جرمنی شامل ہے۔ مغربی و عالمی طاقتوں کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی قیادت یورپی یونین کے خارجہ امور کی چیف کیتیھرین ایشٹن کر رہی ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا حالیہ راؤنڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں چھ عالمی طاقتوں میں سے چار کے وزرائے خارجہ ویانا پہنچ رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے علاوہ برطانیہ کے ولیم ہیگ، جرمنی کے فرانک والٹر اشٹائن مائر اور فرانس کے لاراں فابیوس کے مذاکراتی عمل میں شریک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ لاراں فابیوس ہفتے کے روز مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے البتہ وہ اتوار کو لازمی شریک ہوں گے۔ اِن وزرائے خارجہ کو میٹنگ میں شرکت کی دعوت کیتھرین ایشٹن نے دی ہے۔ روسی نیوز ایجنسی ایتا باس کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ویانا نہیں جا رہے۔ اُن کی نمائندگی سینیئر روسی سفارتکار ولادیمیر ورونکوف کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ بھی ویانا نہیں پہنچ رہے۔ مبصرین کے خیال میں روسی وزیر خارجہ کی عدم موجودگی نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں شریک چھ عالمی طاقتیں بھی مختلف معاملات پر اپنا اپنا نکتہ نظر رکھتی ہیں۔ ویانا کے اخبار وائنر سائٹُنگ میں شائع ہونے والے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے انٹرویو کے مطابق حتمی ڈیل یقین سے دُور ہے اور آخری مذاکراتی راؤنڈ میں تمام آپشنز کو سامنے رکھ کر بات کی جائے گی۔
دوسری جانب اسی تناظر میں فرانس کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل میں تمام چھ عالمی طاقتوں کا مؤقف یکساں اور اُن میں اتحاد و اتفاق موجود ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان رومیں ندال کے مطابق چھ عالمی طاقتوں کا ایک مقصد ہے اور وہ ہے ایک پائیدار اور مستحکم سمجھوتا ، جس میں ایران تمام ضروری ضمانتیں فراہم کرے کہ وہ جوہری ہتھیار سازی کا متمنی نہیں ہے۔