1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایرانی جوہری مذاکرات: یورپی یونین کی تجویز، تہران تاحال خاموش

5 جنوری 2013

یورپی یونین نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے نئے دور کے لیے تاریخ اور مقام تجویز کر دیا ہے۔ تاہم یورپی یونین کے ترجمان میشائل مان کے مطابق تہران حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

تصویر: picture-alliance/abaca

ایران اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کو تقریباً چھ ماہ گزر گئے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے بات چیت کے نئے دور کے لیے تاریخ اور مقام کو تجویز کر دیا گیا ہے۔ یونین کے خارجہ امور کے شعبے کی چیف کیتھرین ایشٹن کے ترجمان میشائل مان نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ یورپی یونین نے مذاکرات کی بحالی کے لیے کون سی تاریخ اور مقام تجویز کیا ہے۔ مذاکرات کے تین ادوار گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ مغربی اقوام کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول چاہتا ہے تاہم ایران ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

سعید جلیلی اور کیتھرین ایشٹنتصویر: AP

ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کے نمائندوں کی ایران کے ساتھ مذاکرات میں قیادت یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف کیتھرین ایشٹن کرتی ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے سوال پر بذریعہ ای میل جواب دیتے ہوئے یورپی یونین کے خارجہ امور کے شعبے کی چیف کے ترجمان میشائل مان نے تحریر کیا کہ 31 دسمبر کے روز یورپی یونین اور ایران کے اعلیٰ حکام نے مذاکرات کے نئے دور کو شروع کرنے کی بابت گفتگو کی تھی۔ مان نے یہ بھی لکھا کہ مذاکراتی عمل جلد ممکن ہے۔

ماسکو مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے تھےتصویر: picture-alliance/dpa

اس سے قبل ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ رواں مہینے کے دوران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کے لیے رضامند ہے۔ نئی دہلی میں ان خیالات کا اظہار ایرانی مذاکرات کار اعلیٰ سعید جلیلی نے کیا تھا۔ سعید جلیلی اس وقت ایران کے قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں۔ جلیلی کے مطابق ان کا ملک اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکراتی عمل قریب چھ ماہ سے معطل ہے۔

تہران حکومت اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ عالمی طاقتوں کو خدشہ لاحق ہے کہ ایران پرامن جوہری سرگرمیوں کی آڑ میں نیوکلیئر ہتھیار سازی کے خفیہ پلان کو جاری رکھے ہوئے۔ اس مناسبت سے اب تک جتنے بھی مذاکرات ہوئے ہیں ایران عالمی طاقتوں کے خدشات کو مناسب شواہد کے ساتھ زائل کرنے میں ناکام ہوا ہے اور اس طرح تمام بات چیت کے ادوار بغیر کسی نتیجے پر ختم ہوئے۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان آخری مذاکرات روس کے دارالحکومت ماسکو میں گزشتہ برس جون میں ہوئے تھے۔

ah / ab ( Reuters)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں