ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا دورنیویارک میں
20 اپریل 2014
امریکی شہر نیویارک میں ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا دور اگلے مہینے کے پہلے ہفتے کے دوران شروع ہو گا۔ اعلان کے مطابق چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران حکومت کا یہ راؤنڈ پانچ سے نو مئی کی تاریخوں پر رکھا گیا ہے۔ نئے مذاکراتی سلسلے میں فریقین ایرانی جوہری پروگرام کے تکنیکی پہلوؤں پر معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ ایرانی جوہری پروگرام پر چار روزہ مذاکراتی دور اقوام متحدہ میں انسداد جوہری پھیلاؤ (NPT) کانفرنس کے حاشیے میں ہو گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت سابقہ ادوار کی طرح حمید بعید نجاد کریں گے۔ اس ابتدائی مذاکراتی سلسلے کے بعد تیرہ مئی سے جامع مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ اس میں سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے اعلیٰ سفارت کار شریک ہو سکتے ہیں۔ جامع مذاکراتی عمل میں بعض پیچیدہ امور کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ رواں مہینے ہونے والی بات چیت میں فریقین اگلے مرحلے میں بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہوئے تھے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے گزشتہ برس نومبر میں عبوری ڈیل طے پائی تھی اور اب مذاکرات کار جولائی تک حتمی ڈیل کو طے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حتمی ڈیل کی صورت میں امکاناً ایران کو اپنے بہت سارے سینٹری فیوجیز کو بند کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب ایران نے حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر کہا ہے کہ اسے اپنی جوہری تنصیبات کے لیے مزید طاقتور سینٹری فیوجیز درکار ہیں۔ اسی دوران انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی تازہ رپورٹ میں ایران کی جوہری سرگرمیوں میں کمی کا بتایا گیا ہے۔
اپریل کے مذاکراتی راؤنڈ کے بعد نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات میں انتہائی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ظریف کا مزید کہنا تھا کہ فریقین کے مابین اختلافات دور ہوئے ہیں اور ڈیل کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں پچاس تا ساٹھ فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اِسی موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد کے ساتھ گفتگو تفصیل کے ساتھ اور بامعنی رہی لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے ابھی جانفشانی اور لگن کے ساتھ مزید کام اور گفتگو کی ضرورت ہے۔
اُدھر ایران کے جوہری محکمے کمے سربراہ علی اکبر صالحی کا کہنا ہے کہ اراک کے جوہری پروگرام کے لیے بھاری پانی کا معاملہ ورچوئلی طے پا چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے العالم ٹیلی وژن چینل کو بتائی۔ صالحی کے مطابق اراک کے جوہری پلانٹ کے بارے میں ایران نے جو تجاویز عالمی طاقتوں کو مذاکرات کے دوران پیش کی تھیں وہ تمام قبول کی جا چکی ہیں۔ اراک کا جوہری ری ایکٹر ایرانی دارالحکومت سے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر کی دوری پر نصب ہے۔