ایران احتجاج: ہلاکتوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی
12 جنوری 2026
ایران میں سخت کریک ڈاؤن کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران میں ہونے والے احتجاج میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 538 ہو گئی ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کا کہنا ہے کہ اب تک تقریبا 10,600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اس ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی فورسز کے ارکان شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے اندر وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش اور بلاک شدہ فون لائنوں نے بیرون ملک سے بدامنی کے پیمانے کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا کہ اس کے اعداد و شمار ایران کے اندر اور باہر سرگرم کارکنوں کی کراس چیک رپورٹس پر مبنی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ بدامنی کی پچھلی لہروں کے دوران اس نے ہلاکتوں کی درست تعداد فراہم کی تھی۔ ایران کی حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کے مجموعی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
اسی دوران ایران کی حکومت نے پیر کے روز سے ایک "قومی مزاحمتی مارچ" کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔
ایران مذاکرات کا خواہاں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران "مذاکرات کرنا چاہتا ہے" اور اس حوالے سے ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مظاہرین کے خلاف جاری تشدد اور ملک میں بدامنی کے پیش نظر امریکہ کو ملاقات سے قبل ہی "کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے"۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "میرے خیال میں وہ امریکہ کے ہاتھوں بار بار کی مار سے تھک چکے ہیں۔"
ایران 'سرخ لکیر' عبور کر رہا ہے، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں بعض فوجی اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، "ایران نے میری سرخ لکیر عبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، فوج بھی اس کا جائزہ لے رہی ہے، اور ہم بعض بہت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں اسٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی کے امکان پر ایلون مسک سے بات کریں گے، تاکہ ایرانی عوام کو معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے۔
ایرانی حکومت کا 'قومی مزاحمتی مارچ'
ایران کے سرکاری ٹیلیویژن کے مطابق حکومت نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مظاہروں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے احتجاج کو "فسادات" قرار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو "شہید" قرار دیا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف ایک "قومی مزاحمتی جنگ" کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے احتجاجی تحریک کو غیر ملکی مداخلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپنے جغرافیائی حریفوں پر الزامات عائد کیے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز ایک قومی مزاحمتی مارچ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کا 'انتہائی ضبط' سے کام لینے کا مطالبہ
اس دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سیکریٹری جنرل کو ایران کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے غیر متناسب استعمال سے صدمہ پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔"
ان کے بیان میں ایرانی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط کا مظاہرہ کریں، غیر ضروری طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مواصلاتی پابندیاں ختم کر کے عوام کو معلومات تک رسائی فراہم کریں۔
ادارت: جاوید اختر