ایران: امریکی بحری بیڑا خطے میں اور فوجی مشقوں کا اعلان
28 جنوری 2026
امریکہ میں سرگرم کارکنوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ایران بھر میں جاری احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم از کم 6,159 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کے مطابق، حکومت مخالف مظاہرے جاری رہنے کے سبب متعدد دیگر افراد کے ہلاک ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
یہ امریکی گروپ ایران میں موجود کارکنان کے ذریعے ہلاکتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ ادھر ایرانی حکام نے مسلسل تیسرے ہفتے بھی انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 5,804 مظاہرین ہیں جبکہ 214 سیکورٹی اہلکار ہیں۔ اس میں 92 بچے اور 49 ایسے عام شہری بھی شامل ہیں جو احتجاج میں شامل نہیں تھے۔ ایچ آر اے این اے نے یہ بھی بتایا کہ ان ہلاکتوں کے علاوہ اب تک تہران کی جانب سے 42,200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اس ایجنسی نے ماضی میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران کے جو اعداد و شمار جمع کیے، وہ درست ثابت ہوئے۔
ایرانی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 3,117 ہے، جو کہ اس ایجنسی کی جانب سے بتائی گئی تعداد سے کہیں کم ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 عام شہری اور سکیورٹی اہلکار تھے، جبکہ باقی کو اس نے "دہشت گرد" قرار دیا ہے۔
طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں پہنچ گئے
ہلاکتوں کی یہ تازہ ترین تعداد امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے ایک گروپ کے خطے میں پہنچنے کے ایک دن بعد آئی ہے۔ اس کی وجہ سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بحران کے جواب میں فوجی کارروائی کرنے کے مزید امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز کے ہمراہ آمد کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ خلیج میں موجود اپنے اڈوں سے نکلے بغیر ایران پر حملہ کر سکتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب خطے کے دیگر ممالک نے کسی بھی حملے سے خود کو الگ رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اس دوران امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فضائیہ کی ایک مشق کا بھی اعلان کیا ہے جو کئی دن جاری رہے گی اور اس کا مقصد پورے خطے میں "جنگی فضائی طاقت کی تعیناتی، پھیلاؤ اور اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت" کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ بات امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائیہ کے شعبے نے ایک بیان میں کہی ہے۔
امریکی فوج نے مشق کی تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
ممکنہ حملوں کے لیے ایران کی تیاری اور ہمسایہ ممالک کو تنبیہ
ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورسز کے نمائندے محمد اکبرزادہ نے سرکاری فارس نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ اگر تہران کے ہمسایہ ممالک کی سرزمین سے ایران پر کوئی بھی حملہ کیا گیا تو انہیں "دشمن" سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا، "ہمسایہ ممالک ہمارے دوست ہیں، لیکن اگر ان کی زمین، فضا یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوئے تو انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔"
خطے میں ایران سے وابستہ دو مسلح گروہوں نے بھی کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ تہران کی حمایت کریں گے۔
یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کے نتیجے میں حملہ آوروں کو "موت کی بدترین شکل" کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ لبنان میں قائم عسکری تنظیم حزب اللہ کے رہنما شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ تنظیم "ممکنہ جارحیت" کے لیے تیار ہے اور اس کے خلاف دفاع کے لیے "پرعزم" ہے۔
ادارت: جاوید اختر