ایران جنگ: توانائی اور سپلائی چینز پر دیرپا اثرات چھوڑے گی
14 جون 2026
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے 100 روز مکمل ہو چکے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور امن معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی عالمی توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چینز کو معمول پر آنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔
بہت سے پالیسی ساز، کاروباری ادارے اور سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلتے ہی تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہو جائے گی اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ جائے گی۔ لیکن تیل، شپنگ اور اقتصادی شعبوں کے ماہرین اس خیال کو غیر حقیقی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور عالمی سپلائی نیٹ ورکس کی بحالی میں کئی ماہ بلکہ کئی سال لگ سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی، سعودی ارامکو، کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر کے مطابق اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر بھی کھول دی جائے تو عالمی منڈی کو دوبارہ متوازن ہونے میں کئی ماہ درکار ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ مزید چند ہفتوں تک بند رہی تو توانائی کی منڈیوں کی مکمل بحالی کا عمل 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔
جنگ کے اثرات کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہو چُکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت عالمی مہنگائی کو مزید ہوا دے رہی ہے، جبکہ سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر زرعی شعبہ دباؤ کا شکار ہے کیونکہ قدرتی گیس سے تیار ہونے والی کھاد مہنگی ہونے کے باعث کسانوں کے پیداواری اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کا اثر دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
شپنگ صنعت کے فوری معمول پر آنے کی توقع نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ امن معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی مکمل بحالی فوری طور پر ممکن نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی امن معاہدے کے بعد شپنگ کمپنیوں کو خلیجی خطے میں اپنے جہاز اور عملہ دوبارہ بھیجنے کے لیے اعتماد بحال کرنے میں وقت درکار ہو گا۔ اس مقصد کے لیے کم از کم 30 سے 45 روز تک صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے لیے بین الاقوامی بحری افواج کی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات بھی ناگزیر ہوں گے تاکہ جہازوں پر کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔
امریکی توانائی کمپنی، شیورون، کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مائک ورتھ نے گزشتہ جمعہ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملے اب بھی جاری ہیں اور صرف گزشتہ ہفتے متعدد بحری جہاز نشانہ بنے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی کا عمل ''رک رک کر آگے بڑھنے‘‘ والا ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ انٹیلی جنس ادارے، اسپارٹا کموڈیٹیز کے ریسرچ سربراہ نیل کروسبی کا کہنا ہے کہ صرف ایک حملہ مزید شپنگ کمپنیوں کو دوبارہ اس راستے سے گزرنے سے روک سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ قرار دی جائے گی تب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے درجنوں تیل بردار جہازوں کو بحفاظت باہر نکلنے میں وقت لگے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف اور دور دراز بندرگاہوں سے نئے جہازوں کو خلیج تک پہنچ کر تیل اور گیس کے نئے کارگو لوڈ کرنا ہوں گے۔
نیل کروسبی کے مطابق اس پورے عمل کو مکمل ہونے میں کم از کم آٹھ ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ بحالی کا دورانیہ ہر مرحلے کی رفتار اور سکیورٹی صورتحال پر منحصر ہوگا۔
توانائی تنصیبات کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں متاثرہ تنصیبات کی مرمت اور محفوظ انداز میں دوبارہ فعال بنانے کا عمل طویل اور پیچیدہ ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تنصیبات میں راس الفان انڈسٹریل سٹی شامل ہے، جو قطر کا سب سے بڑا ایل این جی کمپلیکس ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں اس تنصیب کی تقریباً 17 فیصد پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔
قطری حکام نے خبردار کیا ہے کہ راس الفان کمپلیکس کی مکمل بحالی اور مرمت میں تین سے پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل این جی پیدا کرنے والی کمپنیاں صرف تکنیکی مسائل ہی نہیں بلکہ قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کریں گی۔ توانائی کے شعبے کے قانونی ماہرین کے مطابق سپلائی میں تعطل کے باعث پیدا ہونے والے معاہداتی تنازعات کو حل کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، جبکہ کارگو شیڈولز پر اس کے اثرات 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب متعدد توانائی تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے سے قبل جامع حفاظتی معائنوں کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک بند رہنے والی تنصیبات میں ملبہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اس کی مشینوں میں زنگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی مکمل جانچ کے بغیر پیداوار بحال کرنا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی پیداوار کی بحالی صرف مرمت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک حساس حفاظتی عمل ہے، جس میں جلد بازی کسی بڑے صنعتی حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔
عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو وقتی سہارا دینے والے تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
نیل کروسبی کے مطابق موسم گرما تک دنیا کو 'ذخائر کے بحران‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق خلیجی خطے سے تیل کی فراہمی میں کمی کے اثرات کو اب تک عالمی منڈی کے دیگر ذرائع نے کسی حد تک متوازن رکھا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے ریکارڈ سطح پر تیل کی پیداوار بڑھائی، جبکہ چین نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر پر انحصار کرتے ہوئے خام تیل کی درآمدات میں یومیہ تقریباً 35 لاکھ بیرل کی کمی کی۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے )کے رکن ممالک نے بھی اپنے ہنگامی ذخائر استعمال کیے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف عارضی حل ثابت ہو سکتے ہیں۔
فیتھ برول جو آئی ای اے کے سربراہ ہیں، نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ جنگ سے قبل موجود تیل کی اضافی مقدار نے ابتدائی جھٹکے کو جذب کرنے میں مدد دی، لیکن ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث جولائی یا اگست میں عالمی تیل مارکیٹ ایک ''خطرناک مرحلے‘‘میں داخل ہو سکتی ہے۔
نیل کروسبی کے مطابق جب تیل کے ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں تو منڈی میں توازن بحال کرنے کا واحد راستہ قیمتوں میں اضافہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں ممکنہ طور پر دوگنی بھی ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں ایندھن، نقل و حمل، خوراک اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کساد بازاری کی طرف جا سکتی ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ