1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران جنگ بندی کی کوششیں، قطر پس پردہ سفارت کاری میں متحرک

شکور رحیم جینیفر ہولیز
13 مئی 2026

ایران جنگ کے باعث فضائی حملوں اور تیل کی منڈیوں تک رسائی متاثر ہونے کے باوجود قطر اپنی علاقائی ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ لیکن کیا دوحہ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو سفارتی اثرورسوخ میں بدل سکتا ہے؟

اپریل میں دوحہ میں قطری حکام  پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف کا استقبال کرتے ہوئے
اپریل میں دوحہ میں قطری حکام نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ پاکستان اور قطر، دونوں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش پیش ہیںتصویر: Qatar News Agency/Handout/REUTERS

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور یہ خلیجی ریاست اس عمل میں ایک اہم پسِ پردہ کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی  نے ایران، سعودی عرب، پاکستان، ترکی، کویت اور دیگر ممالک کے حکام سے رابطے کیے، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور تناؤ کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ہفتے اور اختتامِ ہفتہ پر قطری وزیر اعظم  نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ایران نے فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف جوابی کارروائیوں میں قطر کو بھی متعدد بار ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایاتصویر: Mohammed Salem/REUTERS

اگرچہ قطر نے بارہا کہا ہے کہ وہ ثالثی میں پاکستان کے مرکزی کردار کی مکمل حمایت کرتا ہے تاہم مبصرین کے مطابق دوحہ اپنی سفارتی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کر رہا ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ ماہر سانم وکیل کے مطابق قطر تہران اور واشنگٹن کے درمیان فاصلے کم کرنے میں خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول قطر کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور وہ ایک  ثالث کا کردار مؤثر انداز میں نبھا رہا ہے۔

واشنگٹن میں قائم عرب گلف اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ کی ماہر اینا جیکبز کے مطابق قطر کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا طویل تجربہ حاصل ہے اور وہ خلیجی سلامتی کی صورتحال کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے۔

قطر کے لیے یہ ثالثی داخلی طور پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قطر کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی تقریباً تمام برآمدات اسی بحری راستے سے ہوتی ہیں۔

قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، خطے اور عالمی سطح کے اہم فریقوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، جن میں سعودی عرب کے عملی حکمران محمد بن سلمان بھی شامل ہیںتصویر: Bandar Algaloud/Saudi Royal Court/REUTERS

ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران  نے قطر میں واقع اہم گیس تنصیبات اور امریکی فوجی اڈے العدید کے قریب بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد قطر کو مارچ میں گیس کی پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑی۔

ادھر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار قطر سے پاکستان جانے والا مائع گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد ازاں ایک دوسرے گیس بردار جہاز کی بھی پاکستان روانگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران نے اس ترسیل کی اجازت ثالثی کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے دی۔

قطر کئی دہائیوں سےسفارت کاری اور ثالثی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بنائے ہوئے ہے۔ دوحہ کے امریکہ، ایران، طالبان، حماس اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ روابط اسے خطے میں اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اصل فیصلہ اب بھی امریکہ اور ایران کے ہاتھ میں ہے، اور موجودہ بحران کے خاتمے کی راہ ابھی طویل دکھائی دیتی ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی ماہر برجو اوزجیلک کے مطابق ثالثی کی موجودہ کوششیں ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، کیونکہ یہ تنازع صرف علاقائی سفارت کاری سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

ان کے بقول کسی بھی مستقبل کے امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے لیے خلیجی ممالک کی حمایت اور ان کے مفادات کا تحفظ ناگزیر ہو گا۔

ادارت: جاوید اختر

’قطر پر حملہ بزدلانہ امر ہے‘، قطری امیر

02:33

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں