1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران جنگ جاری رہی تو توانائی کی برآمدات رک سکتی ہیں، قطر

جاوید اختر روئٹرز کے ساتھ
6 مارچ 2026

قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ جاری رہی تو خلیج کے توانائی پیدا کرنے والے تمام ممالک کو چند ہفتوں کے اندر اپنی برآمدات روکنا پڑ سکتی ہیں۔

قطر پٹرولیم مصنوعات
اگر جنگ فوری طور پر بھی ختم ہو جائے تو قطر کو گیس کی سپلائی کو معمول پر لانے میں ''چند ہفتوں سے لے کر چند مہینوں‘‘ تک کا وقت لگ سکتا ہےتصویر: KARIM JAAFAR/AFP via Getty Images

فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جمعہ کو قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ جاری رہی اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو خلیج کے تمام توانائی پیدا کرنے والے ممالک کو چند ہفتوں کے اندر اپنی برآمدات روکنا پڑ سکتی ہیں۔

قطر نے پیر کے روز مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار روک دی تھی، کیونکہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قطر کی ایل این جی پیداوار دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد ہے اور یہ ایشیا اور یورپ دونوں میں گیس کی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

الکعبی نے کہا ''جن ممالک نے ابھی تک فورس میجر کا اعلان نہیں کیا، ہمیں توقع ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وہ اگلے چند دنوں میں ایسا کر دیں گے۔ خلیجی خطے کے تمام برآمد کنندگان کو فورس میجر کا اعلان کرنا پڑے گا۔‘‘

فورس میجر ایک قانونی اصطلاح ہے جس سے مراد ایسے غیر متوقع اور انسان کے اختیار سے باہر حالات ہوتے ہیں، جو کسی معاہدے پر عمل کرنا عارضی یا مستقل طور پر ناممکن بنا دیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ ہے اور خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتا ہےتصویر: Amr Alfiky/REUTERS

دنیا بھر میں اقتصادی ترقی متاثر ہونے کا خطرہ

قطری وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے کہا،''اگر یہ جنگ چند ہفتوں تک جاری رہی تو دنیا بھر میں اقتصادی ترقی متاثر ہو گی۔‘‘

ان کے مطابق ''توانائی کی قیمتیں ہر جگہ بڑھ جائیں گی، بعض مصنوعات کی قلت پیدا ہو گی اور فیکٹریوں کی سپلائی چین میں بھی ردعمل کے طور پر مسائل پیدا ہوں گے۔‘‘

الکعبی نے کہا کہ اگر جنگ فوری طور پر بھی ختم ہو جائے تو قطر کو گیس کی سپلائی کو معمول پر لانے میں ''چند ہفتوں سے لے کر چند مہینوں‘‘ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

ماہرینِ معیشت اور تجزیہ کاروں نے بھی اس جنگ کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی ہے۔

سعد الکعبی، جو دنیا کے بڑے ایل این جی پیدا کرنے والے اداروں میں سے ایک 'قطر انرجی‘ کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں، نے بتایا کہ کمپنی کے نارتھ فیلڈ توسیعی منصوبے کی پیداوار میں تاخیر ہو گی۔

انہوں نے کہا، ''اس سے ہمارے تمام توسیعی منصوبوں میں یقینی طور پر تاخیر ہوگی۔ اگر ہم ایک ہفتے میں معمول پر آ گئے تو اثر کم ہو گا، لیکن اگر یہ ایک یا دو مہینے تک جاری رہا تو صورتحال مختلف ہو گی۔‘‘

اس منصوبے کے تحت 2026ء کے وسط میں پیداوار شروع کرنا طے کیا گیا تھا۔

قطری وزیرِ توانائی نے پیش گوئی کی کہ دو سے تین ہفتوں میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہےتصویر: Ina Fassbender/AFP

خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک

قطری وزیرِ توانائی نے پیش گوئی کی کہ اگر جہاز اور آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے قابل نہ رہے، تو دو سے تین ہفتوں میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ ہے اور خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتا ہے۔

الکعبی کے مطابق گیس کی قیمتیں بھی بڑھ کر تقریباً 40 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ سکتی ہیں۔

ادارت: شکور رحیم

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں