ایران جنگ: پاکستان کی ثالثی پر سوالات
16 مئی 2026
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن کوششوں میں غیر معمولی طور پر فعل کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے مذاکرات کی میزبانی کی ہے اور ابھی تک متحارب فریقین کے درمیان خفیہ سفارت کاری میں بطور واسطہ خدمات انجام دے رہا ہے۔
اسلام آباد کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اسلام آباد خلیج میں استحکام کو پاکستان کے اپنے اقتصادی اور سلامتی مفادات سے جڑا ہوا سمجھتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی تجارتی راستوں کو متاثر کر سکتی ہے، توانائی کا بحران مزید گہرا کر سکتی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکا سکتی ہے اور ایران کے ساتھ پاکستان کے حساس سرحدی علاقوں کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
پاکستانی حکومت کے لیے اس کا اپنا بین الاقوامی وقار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے، کیونکہ وہ پوری دنیا کو متاثر کرنے والے اس تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس کی یہ کوششں خطرات سے خالی نہیں اور وہ اس کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر امریکہ، ایران مذاکرات کو بحال کرنے کی اس کی کوششیں ناکام ہوئیں تو پاکستان کو بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس نے علیٰ الاعلان ثالثی میں سرفہرست کردار اپنایا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد پاکستان کے اختیارات محدود ہیں، کیونکہ ایک ثالث دو گہری بے اعتمادی رکھنے والے فریقوں کو مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتا۔‘‘
اسلام آباد کا سی بی ایس کی 'گمراہ کن‘ رپورٹ پر ردعمل
مذاکراتی عمل میں شامل ایک سینئر سرکاری اہلکار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان دونوں فریقوں کو بات چیت میں مشغول رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''ہم علاقائی اور عالمی سلامتی کے مفاد میں فوری کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی حمایت کے لیے تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کے پابند ہیں۔‘‘
اسی ہفتے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے ایران تنازعے میں پاکستان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا۔ سی بی ایس نیوز نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے ایران کو اپنے فضائی اڈوں پر طیارے کھڑے کرنے کی اجازت دی، جس سے وہ امریکی حملوں سے محفوظ ہو گئے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس رپورٹ کو ''گمراہ کن‘‘ اور ''قیاس آرائی پر مبنی‘‘ قرار دیا۔ سرکاری بیان میں اسلام آباد نے کہا کہ طیاروں کی آمدورفت جاری امن کوششوں سے جڑے سفارتی اور لاجسٹک انتظامات کا حصہ تھی اور اس میں متعدد فریقین کے اہلکار شامل تھے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ ''غیر مصدقہ اور سنسنی خیز رپورٹنگ‘‘ حساس سفارتی اقدامات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتی ہے۔
چین چاہتا ہے کہ پاکستان 'ثالثی میں آگے بڑھے‘
ایران میں امریکی جنگ کے صریح حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سی بی ایس رپورٹ کے بعد پاکستان پر کھل کر تنقید کی۔ ان کے بیانات کچھ امریکی پالیسی سازوں کے وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے تہران کے ساتھ حد سے زیادہ نرم رویہ اپنا رہا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے حریف چین نے پاکستان کی جانب سے اپنا سفارتی کردار وسیع کرنے کی کھل کر حوصلہ افزائی کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں ''تیز کرے‘‘ اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد علاقائی استحکام میں مدد دے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے کتنا کچھ کر سکتا ہے؟ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا لیکن پاکستان کی براہ راست مذاکرات کے انعقاد کی بعد ازاں کوششیں ناکام رہیں۔
تجزیہ کار امتیاز گل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مذاکرات کا نتیجہ کبھی یقینی نہیں تھا اور نہ ہی یہ پاکستان کے ہاتھ میں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''سب کچھ اس بات پر منحصر تھا کہ ٹرمپ ایران کی دس نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ معاہدہ اس بات سے بھی مشروط تھا کہ ایران تمام مطالبات پر قائم رہتا ہے یا درمیانی راستہ اپناتا ہے۔‘‘
گل نے مزید کہا، ''میرے خیال میں امریکہ اور دیگر نے ایرانی کردار کو غلط سمجھا اور ان کے عزم کو کم تر جانا۔ اس ناکامی کی یہی وجہ بنی۔ مجھے یقین نہیں کہ متعلقہ فریقین کا پاکستان پر اعتماد اب بھی اتنا ہی بلند ہے، جتنا ثالثی کے آغاز پر تھا۔‘‘
'ہر طرف بے اعتمادی‘
اسلام آباد امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن ہر سفارتی قدم کسی نہ کسی فریق میں شک پیدا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔ واشنگٹن میں ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان تہران کے ساتھ بہت نرم تو نہیں، جبکہ ایرانی حکام محتاط ہیں کیونکہ پاکستان کے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ فوجی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔
پاکستان کی طرف سے کوئی ایک غلط قدم چین یا مشرق وسطیٰ میں ایران کے حریفوں کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ کر سکتا ہے۔
ایران، پاکستان تعلقات جیسے امور کی ماہر فاطمہ امان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان غالباً کوشش جاری رکھے گا لیکن توقعات محدود رہنی چاہئیں۔ اسلام آباد امریکہ-ایران کشیدگی کو کسی بڑے طریقے سے متاثر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا بنیادی کردار رابطے کو اس وقت کھلا رکھنا ہے، جب براہ راست روابط مشکل ہو جائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی تنازعات جیسے پابندیاں، علاقائی سلامتی اور جوہری مسائل پاکستان کے اثر و رسوخ سے باہر ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان ایران، امریکہ اور خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے میں جدوجہد کرتا ہے، جس سے ہر طرف بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے کے ساتھ یہ توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
ٹرمپ کی پاکستان کی تعریف کے ممکنہ نتائج
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا حقیقت پسندانہ کردار دونوں حریفوں کے درمیان کوئی بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرنے کے بجائے رابطے کی سہولت فراہم کرنے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
کوگل مین نے خبردار کیا کہ ایران کے پاکستان کو امریکہ کے بہت قریب سمجھنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار پاکستان کی تعریف کے پیش نظر۔
امریکہ میں مقیم اس ماہر نے کہا، ''پاکستان، جو سب سے عملی قدم اٹھا سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس میں توسیع پر آمادہ کرے۔ ساتھ ہی پاکستان کو ایران کے ساتھ اپنی ساکھ احتیاط سے محفوظ رکھنی ہو گی۔ اس طرح کی رپورٹیں کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان مؤقف کو درست طریقے سے نہیں پہنچا رہا، ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اس کے کردار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘‘
ادارت: شکور رحیم