1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایشیا

ایران جنگ کے سائے میں شمالی کوریا کا میزائلوں کا تجربہ

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | مقبول ملک
14 مارچ 2026

جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی جانب تقریباً 10 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ چند روز قبل ہی کمیونسٹ کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں پر ’’انتہائی خوفناک نتائج‘‘ کی دھمکی دی تھی۔

کم جونگ اُن
کم جونگ آن نے جنوبی کوریا کی طرف سے قیام امن کی کوششوں کو ‘دھوکہ دہی‘ قرار دے دیا ہے، فائل فوٹو سن 2025تصویر: KCNA/Korea News Service/AP Photo/picture alliance

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روز تقریباً دس بیلسٹک میزائل بحیرہ جاپان کی طرف فائر کیے۔ پیونگ یانگ نے کچھ روز قبل ہی کہا تھا کہ علاقے میں جاری جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں پر اس کے تحفظات ہیں۔ ساتھ ہی شمالی کوریا نے ’’انتہائی خوفناک نتائج‘‘ کی دھمکی بھی دی تھی۔

پیونگ یانگ نے یہ بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا کی طرف سے امن کی تازہ کوششیں ’’بھونڈی اور دھوکہ دہی پر مبنی‘‘ ہیں۔

سیول کی فوج نے ایک بیان میں کہا، ’’جنوبی کوریا کے وقت کے مطابق بعد دوپہر 1:20 بجے شمالی کوریا کے سونان علاقے سے تقریباً دس بیلسٹک میزائل ایسٹ سی کی جانب داغے گئے۔‘‘

فوج کے مطابق میزائلوں نے تقریباً 350 کلومیٹر فاصلہ طے کیا اور امریکی اور جنوبی کوریائی حکام ان میزئلوں کی خصوصیات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (JCS) نے کہا کہ جنوبی کوریائی فوج کسی بھی اشتعال انگیزی کا ''فی الفور اور بھرپور جواب‘‘ دینے کے لیے تیار ہے۔

جاپان کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو تقریباً 80 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر، جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے نزدیک سمندر میں گرے۔

سیول نے ان میزائل تجربات کو ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی پر مبنی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا اور پیونگ یانگ سے فوری طور پر ایسی سرگرمیاں ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی صدر کیا شمالی کوریائی رہنما سے ملاقات کریں گے؟

یہ میزائل ایک ایسے وقت پر لانچ کیے گئے، جب جنوبی کوریا اور امریکہ مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف ہیں۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل ہی جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کم من سوک نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات ’’اچھی‘‘ ہو گی۔

واشنگٹن دہائیوں سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے لیکن سربراہی ملاقاتیں، پابندیاں اور سفارتی دباؤ اب تک بے اثر ہی رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ مہینوں میں پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں اور اس سال کم جونگ اُن کے ساتھ ممکنہ ملاقات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مارچ کے اختتام پر صدر ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے موقع پر یہ ممکنہ ملاقات ہو سکتی ہے۔

‌صدر ٹرمپ نے گزشتہ اکتوبر میں ایشیا کے دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے ’’100 فیصد تیار‘‘ ہیں لیکن شمالی کوریا نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تھا۔

کئی ماہ تک ان کوششوں کو نظر انداز کرنے کے بعد کم جونگ اُن نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر واشنگٹن پیونگ یانگ کی جوہری طاقت کی حیثیت کو تسلیم کرے، تو دونوں ممالک ’’اچھی طرح سے گزارا کر سکتے ہیں۔‘‘

شمالی کوریا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اپنی بحریہ کو ’’جوہری ہتھیاروں سے لیس‘‘ کرنے کے عمل میں ہے، فائل فوٹوتصویر: KCNA/REUTERS

’انتہائی خوفناک نتائج‘ کی دھمکی

تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سے ہفتے کے روز داغے گئے میزائلوں کی تعداد غیر معمولی ہے اور وقت کا انتخاب بھی اہم ہے۔

کوریا انسٹیٹیوٹ فار ملٹری افیئرز کے سینئر محقق ہونگ سونگ پیو نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس وقت عالمی توجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر مرکوز ہے اور شمالی کوریا کی تاریخ یہی رہی ہے کہ وہ عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسی اشتعال انگیز سرگرمیاں کرتا رہتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس لانچنگ کی ایک ممکنہ وجہ یہی ہو سکتی ہے۔

سیول اور واشنگٹن نے ’’فریڈم شیلڈ‘‘ نامی موسم بہار کی اپنی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز پیر کو کیا تھا۔ ان مشقوں میں جنوبی کوریا کے تقریباً 18,000  فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مشقیں 19 مارچ تک جاری رہیں گی۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک شمالی کوریا ان مشقوں کو حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔ اسی ہفتے کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے خبردار کیا تھا کہ یہ فوجی مشقیں ’’ناقابل تصور خوفناک نتائج‘‘ کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشقیں ایسے وقت پر ہو رہی ہیں، جب عالمی سکیورٹی ڈھانچہ تیزی سے بکھر رہا ہے اور دنیا بھر میں جنگیں بھڑک رہی ہیں۔

شمالی کوریا نے ایران پر حملوں کی مخالفت کی

پیونگ یانگ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حملے امریکہ کی ’’بدمعاش‘‘ فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں شمالی کوریا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ ملک اپنی بحریہ کو ’’جوہری ہتھیاروں سے لیس‘‘ کرنے کے عمل میں ہے۔

سیول کی ایوہا یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر لییف ایرک ایسلی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ طور پر روس کی مدد سے بحریہ پر زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے، ’’لیکن کم جونگ اُن نے یہ بھی دیکھا ہے کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ کا زیادہ تر حصہ ایک ہفتے میں ہی تباہ کر دیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس لیے امکان ہے کہ پیونگ یانگ ایسے تجربات کرے اور جوہری کمانڈ، کنٹرول اور ڈلیوری سسٹمز پر بیانات جاری کرے تاکہ یہ تاثر دے سکے کہ اگر اس کی بحری قوت پر کوئی حملہ ہوا، تو وہ (دشمن کو) ناقابل قبول نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘

روس، شمالی کوریا، چین اور ایران کے بڑھتے تعلقات

02:00

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں