1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران جوہری مذاکرات، تازہ ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں

عاطف توقیر14 جولائی 2014

اتوار کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے جرمن، برطانوی اور فرانسیسی ہم منصبوں کی ویانا میں ایرانی مذاکرات کاروں سےملاقات میں ایرانی جوہری تنازعے کے حل کے حوالے سے کسی حتمی ڈیل کی بابت کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

تصویر: JOE KLAMAR/AFP/Getty Images

یہ اعلیٰ مغربی سفارت کار ایک ایسے موقع پر ویانا میں جمع ہوئے ہیں، جب ایرانی جوہری تنازعے کے حل سے متعلق کسی حتمی ڈیل تک پہنچنے کے لیے 20 جون کی ڈیڈ لائن انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا، ’آج کی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔‘

جان کیری نے اتوار کے روز ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں کی جانب سے اس سوال کے جواب میں کہ آیا، اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوئی، کیری کا کہنا تھا، ’ہم کام کر رہے ہیں، ہم کام کر رہے ہیں اور ہم اس معاملے کے حل کے لیے جتے ہوئے ہیں۔‘

جان کیری نے ویانا میں جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر سے بھی ملاقات کیتصویر: REUTERS

جان کیری یورپ کے اس دورے میں ایران کے جوہری تنازعے پر بات چیت کے ساتھ ساتھ جرمنی کے ساتھ جاسوسی کے معاملے پر جاری کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ جب کہ اتوار کے روز انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران اپنے ہاں یورینیم کی افزودگی روکے جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ری ایکٹروں میں استعمال کے لیے درکار حد تک افزودہ یورینیم کی تیاری جاری رکھے گا۔ تاہم امریکا کو خدشات ہیں کہ کم درجے کی افزودہ یورینیم کی تیاری جاری رہی، تو ایران اسے زیادہ افزودہ کر کے ہتھیاروں کے استعمال کے قابل افزودگی تک لے جا سکتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے ویانا میں کہا، ’ایران کے ساتھ اس معاملے پر خلا بہت طویل ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ویانا پہنچنے کے بعد جرمن اور فرانسیسی وزیرخارجہ کچھ دیر قیام کے بعد واپس اپنے اپنے وطن لوٹ گئے، تاہم ہیگ اور کیری نے ایرانی وفد سے بات چیت کے لیے ویانا میں اپنے قیام میں ایک روز کی توسیع کر لی۔

واضح رہے کہ تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان عبوری معاہدہ گزشتہ برس کے اختتام پر طے پایا تھا، تاہم اس سلسلے میں حتمی معاہدے کے لیے 20 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔ ایرانی صدر حسن روحانی کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت کی پوری کوشش ہو گی کہ اس سلسلے میں کوئی حتمی ڈیل طے پا جائے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں