ایران جوہری مذاکرات، تازہ ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں
14 جولائی 2014
یہ اعلیٰ مغربی سفارت کار ایک ایسے موقع پر ویانا میں جمع ہوئے ہیں، جب ایرانی جوہری تنازعے کے حل سے متعلق کسی حتمی ڈیل تک پہنچنے کے لیے 20 جون کی ڈیڈ لائن انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا، ’آج کی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔‘
جان کیری نے اتوار کے روز ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں کی جانب سے اس سوال کے جواب میں کہ آیا، اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوئی، کیری کا کہنا تھا، ’ہم کام کر رہے ہیں، ہم کام کر رہے ہیں اور ہم اس معاملے کے حل کے لیے جتے ہوئے ہیں۔‘
جان کیری یورپ کے اس دورے میں ایران کے جوہری تنازعے پر بات چیت کے ساتھ ساتھ جرمنی کے ساتھ جاسوسی کے معاملے پر جاری کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ جب کہ اتوار کے روز انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران اپنے ہاں یورینیم کی افزودگی روکے جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ری ایکٹروں میں استعمال کے لیے درکار حد تک افزودہ یورینیم کی تیاری جاری رکھے گا۔ تاہم امریکا کو خدشات ہیں کہ کم درجے کی افزودہ یورینیم کی تیاری جاری رہی، تو ایران اسے زیادہ افزودہ کر کے ہتھیاروں کے استعمال کے قابل افزودگی تک لے جا سکتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے ویانا میں کہا، ’ایران کے ساتھ اس معاملے پر خلا بہت طویل ہے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ویانا پہنچنے کے بعد جرمن اور فرانسیسی وزیرخارجہ کچھ دیر قیام کے بعد واپس اپنے اپنے وطن لوٹ گئے، تاہم ہیگ اور کیری نے ایرانی وفد سے بات چیت کے لیے ویانا میں اپنے قیام میں ایک روز کی توسیع کر لی۔
واضح رہے کہ تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان عبوری معاہدہ گزشتہ برس کے اختتام پر طے پایا تھا، تاہم اس سلسلے میں حتمی معاہدے کے لیے 20 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔ ایرانی صدر حسن روحانی کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت کی پوری کوشش ہو گی کہ اس سلسلے میں کوئی حتمی ڈیل طے پا جائے۔