1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران خامنہ ای کے بعد: آگے کیا ہوسکتا ہے؟

جاوید اختر مصنفہ: شبنم فون ہائن
2 مارچ 2026

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای چھتیس برس اقتدار میں رہنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے قائم کردہ نظام کی گرفت کو مضبوط رکھنے اور جنگ جاری رکھنے کا کام ایک عبوری قیادت کونسل کرے گی۔

ایرانی مظاہرین امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے تہران کی سڑکوں پر نکل آئے
ایرانی مظاہرین امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے تہران کی سڑکوں پر نکل آئے۔تصویر: Majid Asgaripour/REUTERS

آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملے کے تقریباً 12 گھنٹے بعد ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے مذہبی رہنما  اور سپریم لیڈر کی وفات کی تصدیق کی۔

یہ کمپلیکس، جسے 'بیتِ رہبری‘ کہا جاتا ہے، دارالحکومت تہران کے وسط میں واقع ہے۔ یہ عمارت 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اولین اہداف میں سے ایک تھا۔

چھیاسی سالہ آیت اللہ چند دنوں میں ممکنہ حملے کے شدید خدشے کے باوجود اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہیں موجود رہے۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں لوگوں کو خامنہ ای کی موت پر جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران کے اندر لوگ انہیں کس حد تک دیکھ پا رہے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ روز کے حملوں کے بعد ملک میں انٹرنیٹ سروسز بڑی حد تک معطل کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب سرکاری ٹیلی وژن ملک بھر میں اسلامی جمہوریہ کے حامیوں کے اجتماعات نشر کر رہا ہے، جہاں خامنہ ای کی وفات پر سوگ منایا جا رہا ہے۔ سرکاری طور پر 40 روزہ سوگ اور ایک ہفتے کی سرکاری چھٹیوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

حملے کا مقصد ایران کی بحریہ اور میزائل تباہ کرنا ہے، ٹرمپ

01:21

This browser does not support the video element.

امریکی۔اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ قیادت ہلاک

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے علاوہ ایران کی اہم شخصیات بھی دفاعی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران ہلاک ہو گئیں۔ ان میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور، وزیرِ دفاع عزیز نصیرزادہ، اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی شامل ہیں۔

اس کے باوجود ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اقتدار کی سیاسی منتقلی کی نگرانی کے لیے جلد ہی ایک عبوری قیادت کونسل قائم کی جائے گی۔

لاریجانی نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے جاری رکھے گا۔

اتوار کو جاری ایک سرکاری بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے انتقام کا عزم ظاہر کیا اور اعلان کیا کہ خامنہ ای کے متعین کردہ راستے کو جاری رکھا جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ کی اس ایلیٹ فوجی فورس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا، ''اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف ایرانی مسلح افواج کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی کارروائیاں جلد شروع ہوں گی۔‘‘

 جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل گورننس سینٹر میں مشرقِ وسطیٰ میں معاشی پابندیوں اور سکیورٹی امور کے ماہر فرزان ثابت کے مطابق خامنہ ای کے قتل سے قلیل مدت میں جنگ کی سمت تبدیل نہیں ہو گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرے خیال میں انفرادی رہنماؤں کی ہلاکت فوری طور پر نظام کے تیز رفتار انہدام کا سبب نہیں بنے گی۔‘‘

انہوں نے کہا، ''فوجی اور سلامتی پالیسی کے نقطہ نظر سے ایران تقریباً ڈیڑھ ماہ سے ممکنہ کشیدگی کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے اور گزشتہ موسمِ گرما کی 12 روزہ جھڑپوں کا تجربہ بھی اس کے پاس ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ''اس کے نتیجے میں ملک بھر میں موجود چھوٹی فوجی یونٹس پہلے سے تیار کردہ عملی منصوبوں کی بنیاد پر براہِ راست مرکزی ہیڈکوارٹر کے احکامات کے بغیر بھی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا غیرمرکزی نظام اپنی عملی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صورت حال مزید شدت اختیار کر سکتی ہےتصویر: Thaier Al-Sudani/REUTERS

علاقائی کشیدگی کے خدشے میں اضافہ

اپنے بیانات کے باوجود اسلامی جمہوریہ اس وقت اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہے جس کا اعلان اس نے موجودہ تنازع شروع ہونے سے قبل کیا تھا۔ یعنی ایک ہمہ گیر علاقائی جنگ کو بھڑکانا۔

اب تک ایران نہ صرف خطے میں امریکی فوجی اڈوں، جیسے قطر اور بحرین میں موجود اڈوں، کو نشانہ بنا چکا ہے بلکہ اس نے مشرقی سعودی عرب میں تیل کے بنیادی ڈھانچے اور گنجان آباد شہری مراکز جیسے دبئی پر بھی حملے کیے ہیں۔

ایرانی امور کے ماہر اور یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں مشرقِ وسطیٰ کے مطالعات کے لیکچرار ارمان محمودیان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''کوئی بھی حقیقت پسندانہ منظرنامہ ایسا نہیں جس میں تہران امریکی یا اسرائیلی مسلح افواج پر فوجی برتری ثابت کر سکے۔‘‘

تاہم ان کے مطابق ایران جنگ کو اس حد تک بڑھا سکتا ہے کہ فوجی لحاظ سے برتر فریق خود اسے ختم کرنے پر مجبور ہو جائے۔ انہوں نے کہا، ''مقصد یہ ہے کہ پورے خطے کو غیر مستحکم کر کے جنگ کی شدت کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔‘‘ ان کے بقول صورتِ حال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Sussex یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی محقق سارہ کرمانیان کے مطابق، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی ممکنہ معطلی، جیسا کہ ہفتے کے روز پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی تھی، یا عراق میں الحشد الشعبی اور یمن میں حوثی تحریک جیسی اتحادی ملیشیاؤں کو فعال کرنا بھی اس حکمتِ عملی کے مزید عناصر ہو سکتے ہیں۔

فریقین کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہےتصویر: Atta Kenare/AFP

جنگ کی بھاری قیمت کے باوجود استحکام

اگرچہ دونوں فریقوں کی فوجی طاقت میں عدم توازن کے باعث اس جنگ کی قیمت ایران کے لیے بہت زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم یہ اب بھی نمایاں اسٹریٹیجک مضبوطی کی حامل ہے۔

سارہ کرمانیان کے مطابق، ''اسلامی جمہوریہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور ایک غیر جمہوری نظام ہونے کے باعث اسے انسانی یا مالی نقصانات کے حوالے سے اندرونی دباؤ نسبتاً کم درپیش ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ''اگر ایران اندرونی اقتدار کی کشمکش کے بغیر اس تنازع سے نکل آتا ہے تو اسے ایک اسٹریٹیجک کامیابی سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو امریکہ کو زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

ان حالات میں بالآخر سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کون زیادہ دیر تک دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کو بلا شبہ فوجی برتری حاصل ہے، لیکن اس بات کا تعین کرنے میں کہ دونوں فریق جنگ کی کتنی قیمت برداشت کرنے کو تیار ہیں، یہ امر نسبتاً کم اہم ہے۔

ایرانی حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس نے سال کے آغاز میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ثابت کیا کہ وہ اپنی بقا کے لیے عوام سے کسی بھی حد تک قیمت وصول کرنے کو تیار ہے۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مزید کشیدگی کا دور امریکہ اور ایران کے ازسرِنو تشکیل شدہ سیاسی نظام کے بااثر عناصر کے درمیان مذاکرات کا باعث بنے گا یا نہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟ ان کی زندگی اور موت پر ایک نظر!

04:41

This browser does not support the video element.

ادارت: کشور مصطفیٰ

یہ مضمون جرمن زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے۔

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں