1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران: طلبہ بھی مظاہروں میں شامل، صدر کی مذاکرات کی پیشکش

صلاح الدین زین اے ایف پی، ڈي پی اے روئٹرز کے ساتھ
31 دسمبر 2025

ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ دکانداروں اور تاجروں کے مظاہروں کے بعد صدر نے مظاہرین کو بات چیت کی پیش کش کی ہے۔

ایران میں مظاہرے
مرکزی شہر اصفہان میں ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور یزد، زنجان نیز النا جیسے شہروں کے اداروں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑےتصویر: Social Media/ZUMA/IMAGO

ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاج اور بدامنی پر مبنی ہڑتال اب تیسرے روز دارالحکومت تہران سے کئی دیگر شہروں تک پھیل چکی ہے۔

ایران کے نیم سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف جو احتجاج تاجروں نے شروع کیا تھا، اب وہ کئی یونیورسٹیوں تک پھیل چکا ہے۔ طلبہ بھی کرنسی کی قدر میں کمی اور اخراجات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دکانداروں اور تاجروں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق، منگل کے روز دارالحکومت تہران کی چار یونیورسٹیوں میں سینکڑوں طلباء نے مظاہرہ کیا۔ بعض دوسرے میڈيا اداروں کے مطابق سات تعلیمی اداروں میں طلبہ نے مظاہرہ کیا۔

ایران کے خبر رساں ادارے ارنا (آئی آر  این اے) کے مطابق مرکزی شہر اصفہان میں ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور یزد، زنجان نیز النا جیسے شہروں کے اداروں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

سوشل میڈیا ایکس پر امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی زبان کے اکاؤنٹ نے بھی ایران میں ہونے والے احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ "ان کی ہمت کی تعریف کرتا ہے" اور برسوں کی ناکام پالیسیوں اور معاشی بدانتظامی کے بعد امریکہ "وقار اور بہتر مستقبل" کے خواہاں افراد کے ساتھ کھڑا ہے۔

صدر کی احتجاجی رہنماؤں سے بات چیت کا وعدہ

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے تہران میں جاری بڑے مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا پر یہ اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے "جائز مطالبات" پر بات کرنے اور حکومت کے ردعمل پر کام کرنے کے لیے مذاکرات کا اہتمام کریں۔

صدر نے ایران کے مرکزی بینک کے گورنر محمد رضا فرزین کا استعفیٰ بھی قبول کر لیا ہے اور ان کی جگہ سابق وزیر اقتصادیات عبدالناصر ہمتی کو نامزد کیا ہے۔

سن 2018 میں امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد سے ایران کی معیشت برسوں سے مشکلات کا شکار رہی ہے اور اس سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہےتصویر: Fars News Agency/ZUMA/IMAGO

رواں برس کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر تقریباً نصف تک کم ہونے کے بعد صدر پزیشکیان نے کہا، "ہمارے پاس مالی اور بینکنگ کے نظام میں اصلاحات اور لوگوں کی قوت خرید کو محفوظ رکھنے کے ایجنڈے پر بنیادی اقدامات موجود ہیں۔"

امریکی اور یورپی پابندیوں کے دباؤ اور پھر جون میں اسرائیلی حملوں کے بعد خطرات کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس سے دسمبر میں افراط زر کی شرح 42.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ایرانی میڈیا نے منگل کے روز حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے حوالے سے اطلا دی کہ حکام مظاہرین کو "تسلیم کرتے" ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ان کی آوازیں سنتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سب لوگوں کی روزی روٹی پر پڑنے والے قدرتی دباؤ سے پیدا ہوتا ہے۔"

اس دوران حکومت حامی مظاہرین نے بھی منگل کے روز دارالحکومت تہران میں بڑا ہجوم جمع کیا اور پرچم لہرا کر حکومت کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے بعد بڑا مظاہرہ

اسرائیل کے ساتھ جون کی مختصر جنگ کے بعد ایران میں یہ حکومت مخالف پہلے بڑے مظاہرے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ مختصر جنگ کے دوران ایران میں حب الوطنی کے ساتھ ہی وسیع پیمانے پر عوامی یکجہتی کے جذبات دیکھے گئے تھے۔

سن 2018 میں امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد سے ایران کی معیشت برسوں سے مشکلات کا شکار رہی ہے۔ پھر ستمبر میں جوہری تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کی ناکامی کے بعد، اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے سے اس پر مزید دباؤ میں اضافہ ہوا۔

پرائیویٹ ایکسچینج پلیٹ فارمز کے مطابق منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی تقریباً 1.4 ملین ریال پر آ گئی، جبکہ اس برس کے آغاز پر ایک امریکی ڈالر 817,500  ریال کا تھا۔

ایران کو ایک بار پھر شدید مظاہروں کا سامنا

ایران میں حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کی تاریخ رہی ہے، حالانکہ عام طور پر حکومت اور سیکورٹی فورسز انہیں دبانے کا کام کرتی ہیں اور عموماً انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ایسی حالیہ مثالوں میں مئی 2022 میں روزی روٹی سمیت بنیادی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مظاہرے شامل ہیں۔

پھر اس کے بعد 2022 کے اواخر میں بھی اسی طرز کی بدامنی شروع ہوئی، جو 2023 کے اوائل میں ختم ہوئی تھی۔ اس احتجاج کا آغاز ایران کی نام نہاد "اخلاقی پولیس" کی تحویل میں ایک نوجوان ایرانی کرد خاتون، مہسا امینی کی موت سے ہوا تھا۔

ادارت: رابعہ بگٹی

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش سے ملکی معیشت متاثر

01:42

This browser does not support the video element.

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں