ایران: لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ
15 جنوری 2026
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈيا ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں لوگوں کو پھانسی دینے کا "کوئی منصوبہ نہیں ہے۔"
انہوں نے "اسپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر" کے پروگرام میں کہا، "پھانسی دینے کا تو کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے" اور اس بات پر زور دیا کہ "آج یا کل" کسی کو بھی موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔
عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ انہیں "دوسری طرف کے نہایت اہم ذرائع" سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہلاکتیں رک چکی ہیں اور منصوبہ بند سزائیں نافذ نہیں کی جائیں گی۔"
تاہم ٹرمپ نے حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے باعث ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز ایران کی عدلیہ نے عندیہ دیا تھا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف فوری مقدمات کی سماعت کے بعد سزائے موت دی جا سکتی ہیں۔
ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی حکام نے اعلان کیا کہ گرفتار کیے گئے مظاہرین کے خلاف مقدمات کو تیز کیا جائے گا، اور اس کے بعد سزاؤں پر عملدرآمد بھی کیا جائے گا۔
عصام سلطانی کی سزائے موت پر عمل نہیں
اس دوران ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ کرج شہر میں احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے ایک 26 سالہ شخص کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں حقوق انسانی کی تنظیم ہینگاؤ نے اطلاع دی تھی کہ کاراج شہر میں مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 26 سالہ عصام سلطانی کو بدھ کو پھانسی دی جانی تھی۔
تاہم، جمعرات کو ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ سلطانی پر "ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف ملی بھگت اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ سرگرمیوں" میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، لیکن اگر عدالت سے ان الزامات کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے، تو بھی ایسے الزامات پر سزائے موت کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔
ایران میں کئی ہفتوں سے جاری بدامنی کے دوران اب تک 3,400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسلامی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنے اقتدار کو درپیش سب سے بڑے خطرے کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔
پیر کے روز صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کو قتل کرتے رہے تو امریکہ "نہایت سخت اقدام" کرے گا۔ گزشتہ ہفتے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکام نے صدر ٹرمپ کے لیے سفارتی اقدامات سے لے کر فوجی حملوں تک مختلف آپشنز پر غور کرنے کے لیے ملاقاتیں شروع کی تھیں۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا اور کہا، "ہم دیکھیں گے کہ یہ عمل کس سمت جاتا ہے۔"
کچھ پروازیں تہران کی جانب بھی رواں
دریں اثنا ایرانی فضائی حدود کی بندش کی مدت ختم ہونے کے بعد کچھ پروازیں تہران کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایرانی فضائی حدود کی بندش کی مدت ختم ہونے کے بعد کچھ پروازیں تہران کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
ایران نے ابتدائی طور پر امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے شائع کردہ نوٹس میں اپنی فضائی حدود بیشتر پروازوں کے لیے شام ساڑھے سات بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اس بندش کو بڑھا کر رات 10:30 بجے تک کر دیا گیا تھا۔
اس عارضی فضائی بندش کے باعث متعدد ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا یا پھر انہیں منسوخ کرنا پڑا۔
قطر میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سفری ہدایت
ادھر دوحہ میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے اور قطر میں موجود تمام امریکی شہریوں کو العدید ایئر بیس کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس اڈے پر امریکی فضائیہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج بھی موجود ہیں۔
سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "قطر میں امریکی مشن صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت امریکی سفارت خانے کے عملے اور کارروائیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور قونصلر خدمات بھی معمول کے مطابق جاری ہیں۔"
اس سے قبل خبروں میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مشرق وسطیٰ میں واقع اپنے اہم فوجی اڈوں سے، جن میں قطر بھی شامل ہے، اپنے فوجیوں کی واپسی شروع کر دی ہے۔
ادارت: جاوید اختر