ایران نے برطانوی ٹینکر پکڑ لیا، کشیدگی مزید بڑھتی ہوئی
20 جولائی 2019
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے سے تہران اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ لندن حکومت نے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔
اشتہار
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسدران کے گارڈز نے اہم تجارتی آبی راستے آبنائے ہرمز سے ایک برطانوی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا جب کہ برطانیہ ہی کے ایک اور بحری جہاز کو کچھ دیر کے روکا۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے ہفتے کے دن بتایا کہ اس برطانوی آئل ٹینکر کا ماہی گیروں کی ایک کشتی کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا تھا، جس کے بعد اسے رکنے کے لیے کہا گیا لیکن اس نے وارننگ نہ سنی۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد ایرانی گارڈز نے اس پکڑ لیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس ٹینکر کو بندر عباس کی بندر گاہ پہنچا دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس ٹینکر اور عملے کے ارکان کو مکمل تحقیقات تک نہیں چھوڑا جائے گا۔
مئی میں مغربی ممالک اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا تاہم ان تازہ واقعات کے بعد اس تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال میں اطراف کے مابین کسی غلط فہمی کے نتیجے میں جنگ کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
ایران نے جمعے کے دن برطانوی آئل ٹینکر پر قبضہ کیا تھا۔ صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ کن حالات میں رونما ہوا۔ تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ برطانوی آئل ٹینکر سٹینا ایمپریو نے 'بین الاقوامی میری ٹائم کے قوانین اور ضوابط‘ کی خلاف ورزی کی۔
ایرانی اسلامی انقلاب کے چالیس برس
سید روح اللہ موسوی خمینی کی قیادت میں مذہبی رہنماؤں نے ٹھیک چالیس برس قبل ایران کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔ تب مغرب نواز شاہ کے خلاف عوامی غصے نے خمینی کا سیاسی راستہ آسان کر دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/FY
احساسات سے عاری
خمینی یکم فروری سن 1979 کو اپنی جلا وطنی ختم کر کے فرانس سے تہران پہنچے تھے۔ تب ایک صحافی نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس مذہبی رہنما کا جواب تھا، ’’کچھ نہیں۔ مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا‘۔ کچھ مبصرین کے مطابق خمینی نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ وہ ایک ’روحانی مشن‘ پر تھے، جہاں جذبات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Images
شاہ کی بے بسی
خمینی کے وطن واپس پہنچنے سے دو ماہ قبل ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو چکے تھے۔ مختلف شہروں میں تقریبا نو ملین افراد سڑکوں پر نکلے۔ یہ مظاہرے پرامن رہے۔ تب شاہ محمد رضا پہلوی کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ خمینی کی واپسی کو نہیں روک سکتے اور ان کی حکمرانی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/UPI
خواتین بھی آگے آگے
ایران میں انقلاب کی خواہش اتنی زیادہ تھی کہ خواتین بھی خمینی کی واپسی کے لیے پرجوش تھیں۔ وہ بھول گئی تھیں کہ جلا وطنی کے دوران ہی خمینی نے خواتین کی آزادی کی خاطر اٹھائے جانے والے شاہ کے اقدامات کو مسترد کر دیا تھا۔ سن 1963 میں ایران کے شاہ نے ہی خواتین کو ووٹ کا حق دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/IMAGNO/Votava
’بادشاہت غیر اسلامی‘
سن 1971 میں شاہ اور ان کی اہلیہ فرح دیبا (تصویر میں) نے ’تخت جمشید‘ میں شاہی کھنڈرات کے قدیمی مقام پر ایران میں بادشاہت کے ڈھائی ہزار سال کی سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔ تب خمینی نے اپنے ایک بیان میں بادشاہت کو ’ظالم، بد اور غیر اسلامی‘ قرار دیا تھا۔
تصویر: picture alliance/akg-images/H. Vassal
جلا وطنی اور آخری سفر
اسلامی انقلاب کے دباؤ کی وجہ سے شاہ چھ جنوری سن 1979 کو ایران چھوڑ گئے۔ مختلف ممالک میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے کے بعد سرطان میں مبتلا شاہ ستائیس جنوری سن 1980 کو مصری دارالحکومت قاہرہ میں انتقال کر گئے۔
تصویر: picture-alliance/UPI
طاقت پر قبضہ
ایران میں اسلامی انقلاب کے فوری بعد نئی شیعہ حکومت کے لیے خواتین کے حقوق مسئلہ نہیں تھے۔ ابتدا میں خمینی نے صرف سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ کرنا شروع کیا۔
تصویر: Tasnim
’فوج بھی باغی ہو گئی‘
سن 1979 میں جب خمینی واپس ایران پہنچے تو ملکی فوج نے بھی مظاہرین کو نہ روکا۔ گیارہ فروری کو فوجی سربراہ نے اس فوج کو غیرجانبدار قرار دے دیا تھا۔ اس کے باوجود انقلابیوں نے فروری اور اپریل میں کئی فوجی جرنلوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/EPU
نئی اسلامی حکومت
ایران واپسی پر خمینی نے بادشات، حکومت اور پارلیمان کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ تب انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک نئی حکومت نامزد کریں گے کیونکہ عوام ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ایرانی امور کے ماہرین کے مطابق اس وقت یہ خمینی کی خود التباسی نہیں بلکہ ایک حقیقت تھی۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/FY
انقلاب کا لبرل رخ
اسکالر اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن مہدی بازرگان شاہ حکومت کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک میں آگے آگے تھے۔ خمینی نے انہیں اپنا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا۔ تاہم بازرگان اصل میں خمینی کے بھی مخالف تھے۔ بازرگان نے پیرس میں خمینی سے ملاقات کے بعد انہیں ’پگڑی والا بادشاہ‘ قرار دیا تھا۔ وہ صرف نو ماہ ہی وزیرا عظم رہے۔
تصویر: Iranian.com
امریکی سفارتخانے پر قبضہ
نومبر سن 1979 میں ’انقلابی طالب علموں‘ نے تہران میں قائم امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ تب سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ یہ انقلابی خوفزدہ تھے کہ امریکا کی مدد سے شاہ واپس آ سکتے ہیں۔ خمینی نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور اپنے مخالفین کو ’امریکی اتحادی‘ قرار دے دیا۔
تصویر: Fars
خمینی کا انتقال
کینسر میں مبتلا خمینی تین جون سن 1989 میں چھیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کو تہران میں واقع بہشت زہرہ نامی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تصویر: tarikhirani.ir
علی خامنہ ای: انقلاب کے رکھوالے
تین جون سن 1989 میں سپریم لیڈر خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای کو نیا رہنما چنا گیا۔ انہتر سالہ خامنہ ای اس وقت ایران میں سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہیں اور تمام ریاستی ادارے ان کے تابع ہیں۔
تصویر: Reuters/Official Khamenei website
12 تصاویر1 | 12
اس آئل ٹینکر کی مالک کمپنی سٹینا بلک نے کہا ہے کہ اس کا اس ٹینکر کے عملے سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ ایک بیان کے مطابق کچھ کشتیوں اور ایک ہیلی کاپٹر نے اس ٹینکر کو بین الاقوامی پانیوں سے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ اس کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق، 'یہ ٹینکر نیوی گیشن کے تمام بین الاقوامی قوانین کی پاسداری‘ کر رہا تھا‘۔ اس ٹینکر پر عملے کے تئیس افراد سوار ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لیا گیا تھا تاہم ایک ٹینکر کو کچھ دیر بعد چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے اس پیش رفت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے دوسرے ٹینکر کو بھی نہ چھوڑا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ہنٹ کے مطابق آج ہفتے کے دن ان کی حکومت اس حوالے سے خصوصی میٹنگ بھی کرے گی۔ جس ٹیبکر کو ایران نے چھوڑ دیا ہے اس پر لائبیریا کا جھنڈا نصب تھا۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق وہ اس تناظر میں کسی فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ سفارتی ذرائع سے حل کر لیا جائے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی طرف سے اس ٹینکر کے پکڑنے کے عمل کو 'ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ تہران کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ چار جولائی کو جبرالٹر میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو پکڑا تھا، جس میں برٹش رائل میرینز نے مقامی فورسز کو تعاون فراہم کیا تھا۔ برطانوی زیر انتظام اس علاقے میں ایرانی آئل ٹینکر کے پکڑے جانے پر ایران نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایرانی ٹینکر غیر قانونی طور پر شام تک تیل پہنچانے کی کوشش میں تھا۔ تاہم تہران ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
ع ب / ش ح (روئٹرز، اے پی، ڈی پی اے)
ایران پر امریکی پابندیوں کا نفاذ، کیا کچھ ممکن ہے!
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر پابندیوں کے پہلے حصے کا نفاذ کر دیا ہے۔ بظاہر ان پابندیوں سے واشنگٹن اور تہران بقیہ دنیا سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔پابندیوں کے دوسرے حصے کا نفاذ نومبر میں کیا جائے۔
تصویر: Reuters/TIMA/N. T. Yazdi
ٹرمپ نے پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے
پابندیوں کے صدارتی حکم نامے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ اگست کو دستخط کیے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پر اقتصادی دباؤ انجام کار اُس کی دھمکیوں کے خاتمے اور میزائل سازی کے علاوہ خطے میں تخریبی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع حل کی راہ ہموار کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق جو ملک ایران کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو ختم نہیں کرے گا، اُسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تصویر: Shealah Craighead
رقوم کہاں جائیں گی؟
پانچ اگست کو جاری کردہ پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد سات اگست سے شروع ہو گیا ہے۔ اس پابندی کے تحت ایران کی امریکی کرنسی ڈالر تک رسائی کو محدود کرنا ہے تاکہ تہران حکومت اپنی بین الاقوامی ادائیگیوں سے محروم ہو کر رہ جائے اور اُس کی معاشی مشکلات بڑھ جائیں۔ اسی طرح ایران قیمتی دھاتوں یعنی سونا، چاندی وغیرہ کی خریداری بھی نہیں کر سکے گا اور اس سے بھی اُس کی عالمی منڈیوں میں رسائی مشکل ہو جائے گی۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Kenare
ہوائی جہاز، کاریں اور قالین
سات اگست سے نافذ ہونے والی پابندیوں کے بعد ایران ہوائی جہازوں کے علاوہ کاریں بھی خریدنے سے محروم ہو گیا ہے۔ ایران کی امپورٹس، جن میں گریفائٹ، ایلومینیم، فولاد، کوئلہ، سونا اور بعض سوفٹ ویئر شامل ہیں، کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو گی۔ جرمن کار ساز ادارے ڈائملر نے ایران میں مرسیڈیز بینز ٹرکوں کی پروڈکشن غیر معینہ مدت کے لیے معطّل کر دی ہے۔
تصویر: picture alliance/AP Photo
جلتی آگ پر تیل ڈالنا
ایران پر پابندیوں کے دوسرے حصے کا نفاذ رواں برس پانچ نومبر کو ہو جائے گا۔ اس پابندی سے ایران کی تیل کی فروخت کو کُلی طور پر روک دیا جائے گا۔ تیل کی فروخت پر پابندی سے یقینی طور پر ایرانی معیشت کو شدید ترین دھچکا پہنچے گا۔ دوسری جانب کئی ممالک بشمول چین، بھارت اور ترکی نے عندیہ دے رکھا ہے کہ وہ توانائی کی اپنی ضروریات کے مدِنظر اس پابندی پر پوری طرح عمل نہیں کر سکیں گے۔
تصویر: Reuters/R. Homavandi
نفسیاتی جنگ
ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی پابندیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اُن کے ملک کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کر دی ہے تا کہ اُس کی عوام میں تقسیم کی فضا پیدا ہو سکے۔ روحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں چین اور روس پر تکیہ کرتے ہوئے اپنے تیل کی فروخت اور بینکاری کے شعبے کو متحرک رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے ایران میں امریکی مداخلت سے پہنچنے والے نقصان کا تاوان بھی طلب کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف فیڈیریکا موگیرینی کا کہنا ہے کہ اُن کا بلاک ایران کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تہران سن 2015 کی جوہری ڈیل کے تحت دی گئی کمٹمنٹ کو پورا نہ کرنے پر بھی شاکی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین یورپی تاجروں کے تحفظ کا خصوصی قانون متعارف کرا رکھا رکھا ہے۔