1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران و شام پر مزید پابندیاں: یورپی یونین متفق

16 اکتوبر 2012

ایران کے جوہری پروگرام کے باعث عالمی برادری کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز اپنے ایک اجلاس میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔

تصویر: picture alliance/ZUMA Press

لکسمبرگ میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شورش زدہ عرب ملک شام کی صورت حال پر بھی غور و فکر کیا گیا۔ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے وفادار اور اہم افراد پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزرائے خارجہ نے متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام میں مذاکرات میں کسی پیش رفت کے نہ پیدا ہونے پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔ اسی مناسبت سے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر بھی اصولی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس لکسمبرگ میں جاری ہےتصویر: dapd

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے مزید افراد پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت اسد حکومت کے وفادار مزید اٹھائیس افراد کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ ان پر سفری پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ ان افراد پر پابندیوں کے بعد اسد حکومت کے کل 181 افراد ایسی پابندیوں کے زمرے میں آ جائیں گے۔ اس کے علاوہ شام کی دو بڑی کمپنیوں کو بھی بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے۔ اب تک یورپی یونین کی جانب سے شام کی کل 55 کمپنیاں پابندیوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے بھی اجلاس میں شریک ہیںتصویر: dapd

ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے حوالے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد بھی ایران پر مزید دباؤ بڑھانا ہے تا کہ وہ بات چیت کے عمل میں مثبت رویہ ظاہر کرے۔ ولیم ہیگ کے مطابق ایران پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے گا اور یہ اگلے مہینوں میں بھی بڑھتا رہے گا تاوقتیکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل نہیں کر لی جاتی۔

یورپی یونین کی جانب سے نئی پابندیاں ایرانی بینکوں، کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت اور گیس کی امپورٹ کے ساتھ منسلک افراد، اداروں اور ممالک پر لگائی جا سکتی ہیں۔ اس مناسبت سے پابندیوں کی تفصیلات یونین کی جانب سے آج منگل کے روز باقاعدہ منظوری کے بعد جاری کی جائیں گے۔

امریکی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں پر اصولی اتفاق رائے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس عمل سے ایرانی حکومت پر دباؤ کے علاوہ اسے تنہا کرنے کے عمل کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار سازی سے روکنا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہے۔ جے کارنی کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک تہران حکومت نے مذاکرات میں جوہری پروگرام سے دستبرداری کے حوالے سے کسی ارادے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

(ah / ab (AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں