1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران پر پابندیوں کے اثرات

شامل شمس25 اگست 2013

نئے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ ایران پر مغربی ممالک کی پابندیوں کے باعث اس اسلامی ملک کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس کے باوجود ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کو بند کرنے پر راضی دکھائی نہیں دے رہا۔

Iran Präsident Rohani Kabinettsitzung
تصویر: Mehr

ایرانی امور کے ماہر امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ یہ پابندیاں ایران پر اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے لگائی گئی ہیں۔ بین الاقوامی براداری، بالخصوص مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی جان ہوپکنز یونی ورسٹی کے پروفیسر اسٹیو ہینک کا کہنا ہے کہ ایران پابندیوں کو بہت دیر تک برداشت کر سکتا ہے، جس کی وجہ ایران کا تیل کی دولت سے مالا مال ہونا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایران کے جوہری ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ رائیگاں ہوں گی کیوں کہ ماہرین آپ کو بتا سکتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار دو برس کے اندر تیار کر سکتا ہے۔‘‘

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہےتصویر: picture-alliance/AP Photo

ماہرین کے مطابق اگر پابندیاں ناکام ہوتی ہیں تو مغرب خاصا مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ یا تو اسے ایک جوہری ایران کو تسلیم کرنا پڑے گا یا پھر عسکری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ مغربی ممالک کے لیے یہ بات ہضم کرنا آسان نہ ہوگا کہ ایک ایسا ملک جہاں ملاؤں کی حکومت ہو وہ جوہری ہتھیار بھی رکھتا ہو۔

تاہم حالیہ صدارتی انتحابات میں اصلاح پسند رہنما حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے سے بہتری کی کچھ امید پیدا ہو چلی ہے۔ یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ شاید مذاکرات کی میز پر اس تنازعے کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ صدر روحانی نے اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ جلد مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ایران کے قریب سمجھے جانے والے ملک روس نے بھی مذاکرات کے جلد آغاز کا عندیہ دیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں