ایران کی جانب سے ’نئے رویوں‘ کا عندیہ
29 اکتوبر 2013
ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری پروگرام، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات کو ’’انتہائی کارآمد اور تعمیری‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے امانو کو نئے امکانات کی پیشکش کی ہے جس کا آئی اے ای اے اور ایران کے ماہرین تفصیل سے جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر تکنیکی نوعیت کے جنوری دو ہزار بارہ کے بعد یہ بارہویں مذاکرات تھے۔ ان تکنیکنی مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کا احیا بھی ہو رہا ہے۔
عراقچی کا امانو سے ملاقات اور مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا، ’’میں بہت پر امید ہوں کہ ایک اچھا نتیجہ نکلنے جا رہا ہے۔‘‘
مغربی ممالک کا ایران پر الزام ہے کہ وہ جوہری ہتھیار سازی کر رہا ہے اور اس نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بہت سی معلومات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی سے مخفی رکھی ہیں۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین، ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے درمیان ان مذاکرات کو ممکن بنانے کے کوشش کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا شامل ہیں۔
تاہم حالیہ صدارتی انتحابات میں اصلاح پسند رہنما حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے سے بہتری کی کچھ امید پیدا ہو چلی ہے۔ یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ شاید مذاکرات کی میز پر اس تنازعے کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ صدر روحانی نے اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ جلد مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ایران کے قریب سمجھے جانے والے ملک روس نے بھی مذاکرات کے جلد آغاز کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی امور کے ماہر امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ یہ پابندیاں ایران پر اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے لگائی گئی ہیں۔ بین الاقوامی براداری، بالخصوص مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔