1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایران

ایسا کیا ہو کہ امریکہ ایران پر ممکنہ حملہ کرنے سے باز رہے!

عاطف بلوچ روئٹرز، اے ایف پی کے ساتھ | ادارت | امتیاز احمد
21 فروری 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے حالانکہ ان کے مشیروں کا کہنا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن سے قبل وہ ووٹرز کی معاشی پریشانیوں پر زیادہ توجہ دیں۔

امریکی فوج
امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہےتصویر: ABACA/picture alliance

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی قوت میں بڑے پیمانے پر اضافہ اور ایران پر ممکنہ فضائی حملے کی تیاریوں کا حکم دیا ہے، جو کئی ہفتوں تک جاری رہنے کا خطرہ بھی ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے عوام کو تفصیل سے نہیں بتایا کہ وہ سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے خلاف امریکہ کی سب سے جارحانہ کارروائی میں ملک کو کیوں جھونک رہے ہیں؟

ایران پر ٹرمپ کی شدید توجہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ خارجہ پالیسی ان کی دوسری مدت کے پہلے 13 ماہ میں ان کے ایجنڈے پر کس حد تک غالب رہی۔ اس تناظر میں وہ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں امریکہ کے اندرونی مسائل، جیسے مہنگائی اور معاشی دباؤ پس منظر میں چلے گئے ہیں، حالانکہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام کے لیے یہ زیادہ فوری ترجیحات ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ کے سخت بیانیے کے باوجود ان کی انتظامیہ میں ایران پر حملے کے لیے ''یکساں حمایت‘‘ موجود نہیں ہے۔

اس اہلکار کے مطابق ٹرمپ کے مشیر اس بات سے آگاہ ہیں کہ معیشت کے بارے میں فکرمند غیر فیصلہ کن ووٹرز کو ''غلط تاثر‘‘ نہیں جانا چاہیے، اس لیے انہیں محتاط رہنا ہو گا۔ اس اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر روئٹرز سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مشیروں اور ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم چلانے والے ماہرین کا اصرار ہے کہ ٹرمپ کو معیشت پر توجہ دینا چاہیے۔ اس ہفتے کابینہ کے متعدد وزراء کے ساتھ ہونے والی ایک نجی بریفنگ میں بھی یہی بات زور دے کر کہی گئی، اگرچہ ٹرمپ وہاں موجود نہیں تھے۔

روئٹرز کے سوالات کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے ''امریکی عوام کے لیے براہ راست خطرات پیدا کیے ہیں۔‘‘

اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ''صدر کے تمام اقدامات 'امریکہ فرسٹ‘ کے اصول کے تحت ہیں، چاہے وہ دنیا کو محفوظ بنانا ہو یا ملک کے لیے معاشی فوائد لانا ہوں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، فائل فوٹوتصویر: Nathan Howard/Getty Images/AFP

نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن سے طے ہو گا کہ آیا ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے؟ ایک یا دونوں ایوان ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں چلے گئے تو ٹرمپ کی صدارت کے باقی برسوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ری پبلکن اسٹریٹیجسٹ روب گاڈفری کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ طویل تنازعہ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کے لیے بڑا سیاسی خطرہ ہو گا۔

انہوں نے کہا، ''صدر کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ جس سیاسی بنیاد نے انہیں مسلسل تین بار ری پبلکن نامزدگی تک پہنچایا، وہ بیرونی مداخلت کے خلاف ہے اور 'جاری جنگوں‘ کا خاتمہ ٹرمپ کا واضح انتخابی وعدہ تھا۔‘‘

ری پبلکنز اگلے انتخابات میں گزشتہ سال کے انفرادی ٹیکس میں کمی، رہائش اور ادویات کے اخراجات میں کمی کے پروگراموں پر مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وینیزویلا کے مقابلے میں مشکل دشمن

کچھ اختلافات کے باوجود ٹرمپ کی ''امریکہ کو عظیم بناؤ‘‘ تحریک کے کئی ارکان نے گزشتہ ماہ وینیزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو ہٹانے کے لیے کیے جانے والی کارروائی کی حمایت کی تھی۔

لیکن ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں ٹرمپ کو زیادہ مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کہیں زیادہ طاقتور دشمن تصور کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہیں کرتا تو امریکہ فوجی کارروائی کرے گا۔ جمعہ کو بھی انہوں نے کہا کہ تہران کو ''منصفانہ معاہدے‘‘ پر مذاکرات کرنا ہوں گے۔

امریکی فوج ایران کے جوہری مقامات کو جون میں نشانہ بنا چکی ہے تاہم اب کسی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران نے سخت انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سن 2024 میں مہنگائی کم کرنے اور بیرونی جنگوں سے بچنے کے وعدے کے ساتھ دوسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کی تھی، لیکن عوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مہنگائی کم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس کے باوجود ری پبلکن اسٹریٹیجسٹ لارن کولی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حمایتی ایران کے خلاف ''فیصلہ کن اور محدود‘‘ فوجی کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ''وائٹ ہاؤس کو واضح طور پر یہ دکھانا ہو گا کہ کوئی بھی کارروائی امریکی سلامتی اور اندرون ملک اقتصادی استحکام کے لیے ضروری تھی۔‘‘

تاہم عوام میں نئی جنگ کے لیے خواہش کم ہی دیکھی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے معاشی مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے میں مشکلات کے باعث ایران کے ساتھ کوئی بھی کشیدگی بڑا سیاسی خطرہ بن سکتی ہے۔

اس بات کا اعتراف صدر ٹرمپ ایک حالیہ انٹرویو میں خود بھی کر چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، فائل فوٹوتصویر: Office of the Supreme Leader of Iran/Handout/Getty Images

جنگ کی مبہم وجوہات

تاریخی طور پر خارجہ پالیسی وسط مدتی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتی۔ لیکن مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر فوجی سازوسامان تعینات کر کے ٹرمپ خود کو ایسے مقام پر لے آئے ہیں، جہاں انہیں فوجی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایسے کسی ممکنہ عسکری تصادم کے خطرات اسی وقت ٹل سکتے ہیں، جب ایران کوئی بڑا سمجھوتہ کرے، جس کے آثار فی الحال نظر نہیں آتے۔

ٹرمپ کی جنگ کے ممکنہ جواز کے حوالے سے اب تک دلائل مبہم رہے ہیں۔ جنوری میں انہوں نے ایران کے ملک گیر مظاہروں پر حکومت کے کریک ڈاؤن کے جواب میں حملے کی دھمکی دی تھی لیکن پھر پیچھے ہٹ گئے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے دھمکیوں کو ایران کے جوہری پروگرام اور ’’رجیم چینج‘‘ کی بات سے جوڑ دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ محدود فضائی حملے اس مقصد کو کیسے حاصل کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق ٹرمپ ''واضح کر چکے ہیں کہ وہ سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران وقت سے پہلے معاہدہ کرے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ صدر کا مؤقف ہے کہ ایران ''جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا نہ ہی اسے تیار کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے اور یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘

بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ غیر واضح پالیسی سن 2003 کی عراق جنگ کے برعکس ہے، جب صدر جارج ڈبلیو بش نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا واضح جواز پیش کیا تھا، اگرچہ بعد میں وہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔

اسٹریٹیجسٹ گاڈفری کے مطابق انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے آزاد ووٹرز گہری نظر رکھیں گے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے کو کیسے سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''مڈ ٹرم الیکشن کے ووٹرز اور ٹرمپ کا بنیادی ووٹ بینک صدر سے واضح موقف جاننے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘

ایران پر حملہ امریکہ کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

01:53

This browser does not support the video element.

امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں