ایمن الظواہری کا نيا ويڈيو پيغام
27 اکتوبر 2012
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دہشت گرد نيٹ ورک القاعدہ کے سربراہ کی جانب سے دو حصوں پر مبنی اس نئے ويڈيو پيغام کے بارے ميں اطلاع شدت پسندوں کی سائٹس کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے SITE نے دی۔ رواں ہفتے بدھ کے روز اسلام پسندوں کی ويب سائٹس پر جاری کيے جانے والے دو حصوں پر مبنی اس پيغام کا مجموعی دورانيہ دو گھنٹے اور بارہ منٹ بتايا گيا ہے۔
ایمن الظواہری نے اپنے اس پيغام ميں کہا، ’ہم اللہ کی مدد سے مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے ممالک کے باشندوں کو اغواء کر رہے ہيں اور ديگر مسلمانوں کو بھی يہی کوشش کرنی چاہيے تاکہ ہم اپنے قيديوں کو رہا کروا سکيں‘۔ اس موقع پر الظواہری نے گزشتہ سال پاکستان ميں اغواء کيے جانے والے 71 سالہ امريکی امدادی کارکن وارن وائن اسٹائن کے بارے ميں ذکر کيا اور ان کے اغواء کو سراہا۔
القاعدہ کے سربراہ نے اپنے اس پيغام ميں شام کے موضوع پر عالمی برادری کو تنقيد کا نشانہ بنايا۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنيشنل کميونٹی نے شام کے صدر بشار الاسد کو باغی تحريک کچلنے کے نام پر ’قتل عام کی اجازت‘ دے رکھی ہے۔ روئٹرز کے مطابق شام ميں جاری حکومت مخالف تحريک ميں اسلام پسند گروپس بھی شامل ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ الظواہری نے اپنے پيغام ميں مسلمانوں پر زور ديا کہ وہ شام ميں بشار الاسد کے خلاف جاری تحريک کا ساتھ ديں۔
مصر کے موضوع پر بات کرتے ہوئے الظواہری نے مصری صدر محمد مرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ملک ميں مقيم مسيحی آبادی، اسرائيل اور شرعی نظام کے نفاذ کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ان کے بقول مصر ميں سيکولر خيالات رکھنے والی اقليت، جو مسيحی کميونٹی کے ساتھ ہے اور جسے ملکی مسلح افواج کی سرپرستی حاصل ہے، کا مقابلہ اکثريتی مسلمان آبادی سے ہے، جو مصر ميں اسلامی شرعی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔
القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے اپنے اس تازہ ترين پيغام ميں امريکی صدر باراک اوباما کو بھی تنقيد کا نشانہ بنايا اور انہيں ’جھوٹا‘ اور ’اسرائيل کا سب سے بڑا حامی‘ قرار ديا۔
as / at (Reuters)