ایندھن مہنگا ، رائیڈرز کا کام زیادہ پیسے کم
19 مارچ 2026
چند ہفتے قبل تک 23 سالہ محمد محسن روزانہ تقریباً 1500 روپے کما لیتا تھا۔ اب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے پیٹرول کی قیمت 320 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، اور محسن کی آمدنی کم ہو کر تقریباً 1100 روپے یومیہ رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ''پہلے کمائی کا بڑا حصہ میرا ہوتا تھا، اب اس کا بڑا حصہ پیٹرول میں چلا جاتا ہے۔‘‘
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان کے کم آمدنی والے شہری مزدوروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور بہت سے رائیڈرز بمشکل اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں نصف درجن سے زائد رائیڈرز سے بات کی اور ان سب کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عید سے پہلے ان کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے، حالانکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ عموماً زیادہ کمائی کر لیتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد کم ہوئی تھی۔ مگر اب دوبارہ اس میں تقریباً سات فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک، کرایہ اور یوٹیلیٹی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ بہت سے فری لانس یا ایپ کے ذریعے کام کرنے والے مزدور ماہانہ کم از کم 32,000 روپے تک کم کماتے ہیں، گو کہ انہیں کوئی مستقل تنخواہ یا مراعات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔
حکومتی کفایت شعاری، اسکولوں کی بندش اور گھروں سے کام کرنے کے رجحان نے سفر کی ضرورت کو کم کر دیا ہے، جس سے رائیڈ ہیلنگ سروسز کی آمدنی میں کمی آئی ہے، حالانکہ افطار اور عید کے باعث ڈیلیوری کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
ان رائیڈرز پر انحصار کرنے والی فوڈ ڈیلیوری ایپس کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں میں ردوبدل اور دیگر اقدامات کے ذریعے رائیڈرز کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم ان رائیڈرز کے مطابق یہ اقدامات بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہیں اور انہیں اب زیادہ دیر تک سڑکوں پر رہنا پڑتا ہے۔
26 سالہ ڈیلیوری رائیڈر حزب اللہ نے کہا، ''ہم کپڑے یا جوتے بھی نہیں خرید سکتے۔‘‘
بہت سے ڈرائیوروں کے لیے، جو عید عام طور پر خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے، اب ایک مشکل حساب کتاب بن گیا ہے کہ انہیں خوشی منانے کے لیے کتنے گھنٹے مزید کام کرنا پڑے گا۔