1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایندھن مہنگا ، رائیڈرز کا کام زیادہ پیسے کم

عاطف توقیر روئٹرز | ادارت | کشور مصطفیٰ
19 مارچ 2026

جیسے جیسے عیدالفطر قریب آ رہی ہے، کراچی کی سڑکوں پر کام کرنے والے ڈیلیوری رائیڈرز زیادہ دیر تک کام کرتے نظر آ رہے ہیں مگر کما کم رہے ہیں اور وجہ ہے ایندھن کی بلند قیمتیں۔

ایک ڈیلیوری رائیڈر
ڈیلیوری رائیڈرز اب کام زیادہ کر رہے ہیں مگر آمدن کم ہےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

چند ہفتے قبل تک 23 سالہ محمد محسن روزانہ تقریباً 1500 روپے کما لیتا تھا۔ اب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے پیٹرول کی قیمت 320 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، اور محسن کی آمدنی کم ہو کر تقریباً 1100 روپے یومیہ رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ''پہلے کمائی کا بڑا حصہ میرا ہوتا تھا، اب اس کا بڑا حصہ پیٹرول میں چلا جاتا ہے۔‘‘

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان کے کم آمدنی والے شہری مزدوروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور بہت سے رائیڈرز بمشکل اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پا رہے ہیں۔

پاکستان میں فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں نصف درجن سے زائد رائیڈرز سے بات کی اور ان سب کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عید سے پہلے ان کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے، حالانکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ عموماً زیادہ کمائی کر لیتے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد کم ہوئی تھی۔ مگر اب دوبارہ اس میں تقریباً سات فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک، کرایہ اور یوٹیلیٹی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ بہت سے فری لانس یا ایپ کے ذریعے کام کرنے والے مزدور ماہانہ کم از کم 32,000 روپے تک کم کماتے ہیں، گو کہ انہیں کوئی مستقل تنخواہ یا مراعات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔

حکومتی کفایت شعاری، اسکولوں کی بندش اور گھروں سے کام کرنے کے رجحان نے سفر کی ضرورت کو کم کر دیا ہے، جس سے رائیڈ ہیلنگ سروسز کی آمدنی میں کمی آئی ہے، حالانکہ افطار اور عید کے باعث ڈیلیوری کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

مصر، فوڈ ڈیلیوری کرنے والی خواتین روایت توڑ رہی ہیں

01:36

This browser does not support the video element.

ان رائیڈرز پر انحصار کرنے والی فوڈ ڈیلیوری ایپس کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں میں ردوبدل اور دیگر اقدامات کے ذریعے رائیڈرز کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم ان رائیڈرز کے مطابق یہ اقدامات بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہیں اور انہیں اب زیادہ دیر تک سڑکوں پر رہنا پڑتا ہے۔

26 سالہ ڈیلیوری رائیڈر حزب اللہ نے کہا، ''ہم کپڑے یا جوتے بھی نہیں خرید سکتے۔‘‘

بہت سے ڈرائیوروں کے لیے، جو عید عام طور پر خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے، اب ایک مشکل حساب کتاب بن گیا ہے کہ انہیں خوشی منانے کے لیے کتنے گھنٹے مزید کام کرنا پڑے گا۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں