ایک سوویں تبتی کی خود سوزی
14 فروری 2013
امریکا میں قائم ریڈیو فری ایشیا نے جمعرات کے روز خود سوزی کرنے والے ایک تبتی کی موت کو رپورٹ کیا ہے۔ ہلاک ہونے والے تبتی نے تقریباً ایک ہفتہ قبل خود کو آگ لگائی تھی۔ آج جمعرات کے روز جس شخص کی ہلاکت کو عام کیا گیا ہے، اس کا نام لوبسانگ نامگیال (Lobsang Namgyal) بتایا گیا ہے۔
ریڈیو فری ایشیا کے مطابق لوبسانگ نامگیال نے گزشتہ ہفتے خود سوزی کا ارتکاب کیا تھا۔ اس نے خود کو آگ لگانے کا فعل جنوبی چین کے سِچُوان صوبےکےانتظامی ضلع آبا (Aba) کے ایک تھانے کے قریب انجام دیا تھا۔ لوبسانگ نامگیال کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ تبتی بدھ مت کے اہم اور مشہور راہب خانے کیرتی کا سابقہ راہب بتایا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق خود کو آگ لگانے کے بعد جلتے ہوئے شعلوں کے ساتھ لوبسانگ نامگیال نے پولیس اسٹیشن کی طرف بھاگنا شروع کردیا تھا۔ وہ بھاگتے ہوئے چینی حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کر رہا تھا۔ پولیس اسٹیشن کے قریب پہنچ کر وہ شدید جھلسنے کے باعث گر گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس نے اس کی نعش کو جلانے کے بعد راکھ اس کے ورثا کے حوالے کر دی تھی۔
لوبسانگ نامگیال کی عمر 37 برس بتائی گئی ہے۔ اس کو پولیس نے گزشتہ برس حراست میں رکھ کرہراساں اور ڈرایا دھمکایا بھی تھا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم انٹرنیشنل کمپین برائے تبت نے بتایا ہے کہ لوبسانگ نامگیال ایک مذہبی اسکالر تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ سن 2009 میں جس پہلے شخص نے خود سوزی کی تھی، اس کا تعلق بھی کیرتی راہب خانے سے تھا۔
تبت پر چینی حکومت کے قبضے اور حکومت کے خلاف احتجاجاً خود سوزی کا جو سلسلہ سن 2009 سے شروع ہے، اس میں جمعرات کے روز جس راہب کی ہلاکت کا بتایا گیا ہے وہ ایک سوواں فرد ہے۔ تبت پر چین کے قبضے کے خلاف خود سوزی کرنے والوں کی مجموعی تعداد101 تک پہنچ گئی ہے کیونکہ کل بُدھ کے روز نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک جلد وطن تبتی نے بھی خود سوزی کر کے موت کو گلے لگا لیا تھا۔
چین کے زیر انتظام تبت کی بیشتر آبادی کا کہنا ہے کہ ان کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے انتظامی جبر کا سامنا کرنے کے علاوہ ان کے ثقافتی ورثے کی پامالی اور تلف کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لندن میں قائم ایک دوسری غیر سرکاری تنظیم فری تبت کے ڈائریکٹر اسٹیفنی بریگڈن (Stephanie Brigden) کا کہنا ہے کہ تبت میں جاری بحران پر چینی حکومت کی سردمہری کے علاوہ عالمی لیڈرشپ کا نامناسب رویہ باعث شرم ہے۔ اسیٹفنی بریگڈن کا مزید کہنا ہے کہ تبت میں چین کی جانب سے ظالمانہ جبر کا نظام رائج کے ساتھ ساتھ منفی پراپیگنڈا اور رشوت ستانی کا بازار گرم ہے اور تبتی عوام کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک ان کے آزادی کے حق کا چین انکار کرتا رہے گا۔
دوسری جانب چین ایسے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تبت میں ہر قسم کی مذہبی آزادی تبتی عوام کو حاصل ہے۔ چین نے تبت میں ایک بڑی سرمایہ کاری کا عمل شروع کر رہا ہے۔ بیجنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تبت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عمل جاری ہے اور اس سے عام لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہو رہا ہے۔
(ah/zb(AFP