ایک ماہ کا شیر خوار بچہ اچانک غائب ہونے کے اگلے روز مل گیا
2 ستمبر 2022
جرمنی میں پولیس کو صرف تقریباﹰ ایک ماہ کی عمر کا وہ شیر خوار بچہ بحفاظت مل گیا ہے، جو ایک روز قبل مشرقی شہر لائپزگ میں اچانک غائب ہو گیا تھا۔ یہ شیر خوار لڑکا پولیس کو مشرقی جرمن صوبے برانڈن برگ میں ایک گھر سے ملا۔
جمعہ دو ستمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ جمعرات یکم ستمبر کی سہ پہر جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ کے ایک شاپنگ سینٹر میں پیش آیا تھا۔ اس بچے کی والدہ اسے ایک بچہ گاڑی میں ڈالر کر شاپنگ کے لیے آئی تھی اور اس نے کچھ ہی دیر کے لیے یہ بچہ اپنی ایک جاننے والی خاتون کی حفاظت میں اس لیے دے دیا تھا کہ خود جلدی جلدی کچھ خریداری کر سکے۔
فوری طور پر ملک بھر میں تلاش
جب یہ خاتون شاپنگ کر کے واپس آئی، تو اس نے اپنے بچے اور کی دیکھ بھال کرنے والی اپنے شناسا خاتون کو وہاں نہ پایا، جہاں وہ ان دونوں کو چھوڑ کر گئی تھی۔ اس جرمن خاتون نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع کر دی اور پولیس نے اس بچے کو تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس تلاش میں جرمنی کی وفاقی پولیس اپنے جاسوس کتوں کے ساتھ اور پولیس کے ریزور دستے بھی شامل ہو گئے تھے۔
یہ تلاش رات بھر جاری رہی اور بالآخر اس شیر خوار کی والدہ کو پولیس کی طرف سے یہ خوش خبری سننے کو ملی کہ اس کے بیٹے کو جرمنی کے ایک اور مشرقی شہر برانڈن برگ میں اسی خاتون کے گھر سے بحفاظت تلاش کر لیا گیا ہے، جس کے حوالے اس شیر خوار کو اس کی والدہ نے کیا تھا۔
لائپزگ پولیس نے بعد ازاں جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ''یہ بچہ اتنا ہی خوش اور مطمئن تھا، جتنا اس عمر کا کوئی بھی بچہ اپنے ارد گرد کے حالات واقعات سے بے خبر رہتے ہوئے ہو سکتا تھا۔ جن ریکسیو کارکنوں نے اس شیر خوار کو بچایا، انہوں نے اس کا طبی معائنہ بھی کیا، یہ بچہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اور اسے لائپزگ میں اس کی والدہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔‘‘
پولیس نے بتایا کہ اسے شروع سے ہی یہ شبہ نہیں تھا کہ اس شیر خوار کو اس کی کچھ دیر کے لیے نگرانی کرنے والی خاتون نے اغوا کر لیا تھا۔ لیکن دوسری طرف یہ بات بھی واضح نہیں کہ یہ خاتون اس بچے کو اس کی ماں سے دور اور بغیر بتائے ہوئے لائپزگ سے کافی دور برانڈن برگ شہر میں کیوں لے گئی تھی اور اس نے اس لڑکے کو اس کی والدہ کو بتائے بغیر اپنے گھر میں کیوں رکھ ہوا تھا۔
پولیس کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا، ''اس شیر خوار بچے کی والدہ کی شکایت یہ تھی کہ اس کا تقریباﹰ ایک ماہ کی عمر کا بیٹا لاپتہ ہو گیا ہے۔ اس خاتون نے مبینہ اغوا کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔‘‘
اشتہار
محرک غیر واضح
لائپزگ پولیس کی ترجمان نے بتایا، ''اب اس بچے کو برانڈن برگ لے جانے والی خاتون کے خلاف ایک شیر خوار کو دانستہ طور پر اس کی والدہ سے دور کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔‘‘
تفتیش کاروں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اب تک کی چھان بین کے نتائج کے مطابق مشتبہ ملزمہ اس بچے کو ایک دوسرے شہر میں اپنے گھر کیوں لے گئی تھی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس خاتون نے پولیس کو اپنے اس اقدام کی کیا وجہ بتائی۔
'لاپتہ‘ شیر خوار 'برآمد‘ کیے جانے کے وقت مشتبہ ملزمہ کے گھر میں پرسکون تھا اور اسے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی تھی۔
م م / ع ا (ڈی پی اے، اے ایف پی)
بعض بچے انتہائی خوش تو کچھ خوفزدہ، مگر کوئی بھی بچہ اس سے بچ نہیں سکتا۔ جرمنی میں اسکول کا پہلا دن مختلف رسومات سے بھرپور ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض تو صدیوں پُرانی ہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa/P. Steffen
تحائف سے بھری کون
جرمنی میں کسی بھی بچے کے اسکول کے پہلے دن کی سب سے اہم بات، ’شُول ٹیوٹے‘ یا اسکول کون ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح کی علامت ہوتی ہے کہ اسکول میں بچے کے اگلے 12 یا 13 برسوں کا ہر ایک دن میٹھا رہے گا اور اس کے لیے تحائف لائے گا۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو انیسویں صدی کے آغاز سے چلی آ رہی ہے۔ مخروطی شکل کی گتے کی بنی اس بڑی سی کون میں تحفے، اسکول میں استعمال کی جانے والی چیزیں اور مٹھائیاں ہوتی ہیں۔
تصویر: imago/Kickner
ایک نئے مرحلے کا آغاز
اسکول کے پہلے سال کے پڑھائی کا آغاز اگست یا ستمبر میں ہوتا ہے اور داخلے کے لیے بچی کی عمر چھ سال ہونی چاہیے۔ ان کی اکثریت پہلے ہی ڈے کیئر سنٹر یا کنڈرگارٹن میں کچھ برس بِتا چکے ہوتے ہیں جو پبلک اسکول کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ جرمنی میں بہت سے بچوں اور والدین کے لیے بھی پہلا سال ایک نیا مرحلہ ہوتا ہے اور بہت مختلف بھی۔
تصویر: Getty Images/AFP/S.Khan
ضرورت کے عین مطابق بستہ
اسکول کے پہلے دن سے قبل ہی والدین اپنے بچے کے لیے بیگ پیک یا کمر پر لادا جانے والا بستہ خریدتے ہیں جسے ’شول رانزن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر چوکور شکل کا ہوتا ہے تاکہ اس میں نہ تو کاغذ یا کتابیں مڑیں اور نہ ہی کھانے کی چیزیں پھیلیں۔ بچوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نئے ڈیزائن اور خوبصورت ترین بیگ پیک خریدیں۔ رواں برس ’اسٹار وار‘ کے ڈیزائن والے بیگ زیادہ مقبول ہیں جبکہ سپر مین ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
اسکول کے لیے ضروری اشیاء
چوکور شکل کے بستے کی خریداری کے بعد اسکول کے پہلے روز سے قبل ہی اس میں ڈالنے کے لیے چیزوں مثلاﹰ پینسلیں، پین، فٹے اور فولڈرز وغیرہ کی خریداری کا مرحلہ آتا ہے۔ جرمنی میں نو عمر طلبہ عام طور پر اسکول میں لنچ نہیں کرتے۔ اس کی بجائے بریک کے دوران کھانے کے لیے گھر پر تیار کردہ ہلکے پھلکے کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جاتے ہیں اور اس کے لیے مناسب بوُکس یا ڈبے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/F. Gentsch
زندگی بھر یاد رہنے والا دن
دنیا بھر میں ہی تقریباﹰ ہر بچے کی اسکول کے پہلے دن تصویر ضرور اُتاری جاتی ہے۔ جرمنی میں بچے اس موقع پر اپنے ’شُول ٹیوٹے‘ کے ساتھ تصویر بنواتے ہیں، جو بعض اوقات ان کے اپنے قد سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ مگر بچوں کے لیے عام طور پر یہ مصروفیت ان کے اسکول کے پہلے دن کی سب سے اہم بات نہیں ہوتی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R. Hirschberger
دعاؤں کے ساتھ آغاز
جرمنی میں اسکول کا پہلا دن دراصل اسکول سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ ایک خصوصی تقریب سے اس کا آغاز ہوتا ہے جس میں بچوں کے والدین اور دیگر رشتہ دار بھی مدعو ہوتے ہیں۔ چرچ میں دعائیہ تقریب بھی عام طور پر اس روایت کا حصہ ہوتی ہے تاکہ نیا تعلیمی سلسلہ شروع کرنے پر بچوں کو دعاؤں سے نوازا جائے۔ بعض اسکول مسلمان بچوں کے لیے بین المذاہب تقریب کا اہمتام بھی کرتے ہیں۔ مسلمان بچوں کے لیے چرچ جانا ضروری نہیں ہوتا۔
تصویر: picture-alliance/dpa
تجربہ کار لوگوں کی طرف سے رہنمائی
تقریب کے دوران اسکول کی بڑی کلاسوں کے طلبہ یا اساتذہ کی طرف سے نئے آنے والے بچوں کو پرفارمنس کے ذریعے یہ بتایا جاتا ہے کہ اسکول کی مصروفیات کیا ہوں گی یا اسکول میں کن چیزوں کا خیال رکھنا ہے۔ بعض اسکولوں میں ہر نئے آنے والے بچے کو تیسری یا چوتھی کلاس کا ایک بچہ اپنے ساتھ لے جا کر کلاس رُوم وغیرہ دکھاتا ہے۔
تصویر: picture alliance/dpa/P. Steffen
اسکول کی عمارت کا تعارفی دورہ
پہلے روز کی مصروفیات میں بچوں کو اسکول کی عمارت کا ایک تعارفی دورہ بھی شامل ہوتا ہے اور پہلی کلاس میں آنے والے بچوں کو ان کی کلاسیں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ اس تصویر میں نئے آنے والے بچوں کے لیے کلاس میں خوش آمدید لکھا ہوا نظر آ رہا ہے۔
تصویر: picture alliance/dpa/G. Kirchner
فیملی گیٹ ٹو گیدر
اسکول میں ہونے والی تقریب کے بعد خاندان اپنے طور پر اس اہم دن کو منانے کا اہتمام کرتے ہیں جس میں دادا، دادی، نانا، نانی، خاندان کے دیگر افراد اور دوستوں وغیرہ کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر خصوصی کھانے اور کیک وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں۔ مہمان اور خاندان کے افراد کی طرف سے بچے کو تحائف بھی ملتے ہیں۔
تصویر: picture alliance/R. Goldmann
اسکول کا دوسرا دن
اسکول کی تقریب، کیک اور خصوصی کھانوں وغیرہ اور ’شُول ٹیوٹے‘ کھولے جانے کے ساتھ ہی عموماﹰپہلا دن تمام ہوتا ہے۔ اسکول کے دوسرے دن پہلی کلاس میں آنے والے یہ بچے اپنا پہلا سبق شروع کرتے ہیں۔ جرمنی میں ایلیمنٹری اسکول پہلی سے چوتھی تک ہوتا ہے۔ جس کے بعد وہ اپنی کارکردگی کی بناء پر تین مختلف طرح کے اسکولوں میں سے کسی ایک میں چلے جاتے ہیں۔