1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا ایک گائے خود سے اوزاروں کا استعمال کر سکتی ہے؟

شکور رحیم ارلا بلائیکر
26 جنوری 2026

آسٹریا میں ایک گائے کو اوزار استعمال کرتے دیکھا گیا، ایک ایسا رویہ جس کا مویشیوں میں پہلی بار مشاہدہ کیا گیا۔ کیا ہم اب تک ان نرم خو مویشیوں کو کم عقل سمجھتے رہے ہیں؟

13 سالہ ویرونیکا ایک سوئس براؤن نسل کی گائے ہے، جسے دودھ یا گوشت کے لیے نہیں بلکہ ایک مقامی کسان نے پالتو جانور کے طور پر رکھا ہوا ہے
13 سالہ ویرونیکا ایک سوئس براؤن نسل کی گائے ہے، جسے دودھ یا گوشت کے لیے نہیں بلکہ ایک مقامی کسان نے پالتو جانور کے طور پر رکھا ہوا ہےتصویر: Antonio J Osuna Mascaró

آسٹریا کے جنوبی علاقے میں کارنتھیا کے پہاڑوں کے دامن میں واقع خاموش گاؤں نوئچ میں زندگی سست رفتار سے گزرتی ہے۔ سرسبز چراگاہیں دور تک پھیلی ہیں، چرچ کی گھنٹیاں دن کے اوقات کا احساس دلاتی ہیں اور گائیں ایک ایسے منظر میں چرتی دکھائی دیتی ہیں، جو وقت میں منجمد محسوس ہوتا ہے۔ مگر یہی گاؤں ایک ایسی گائے کا مسکن بھی ہے، جو جانوروں کی ذہانت کے بارے میں سائنس دانوں کے تصورات کو بدل رہی ہے۔

ویرونیکا کی دنیا

ملیے ویرو نیکا سے! یہ 13 سالہ سوئس براؤن نسل کی گائے ہے، جسے دودھ یا گوشت کے لیے نہیں بلکہ ایک مقامی کسان نے پالتو جانور کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ دیگر مویشیوں کے برعکس ویرو نیکا کو اپنی چراگاہ میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہے اور وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو سکون اور تجسس کے ساتھ دریافت کرتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہی آزادی اسے ایک غیرمعمولی کام کرنے کا موقع دیتی ہے، ایسا کام جو اس سے قبل کسی گائے میں سائنسی طور پر ریکارڈ نہیں ہوا تھا۔

بہت سے پالتو جانوروں کی طرح ویرو نیکا کو بھی اپنی پیٹھ کھجوانا پسند ہے۔ جب انسان موجود ہوں تو وہ خوشی سے ان کے ہاتھوں کا سہارا لیتی ہے۔ لیکن جب کوئی آس پاس نہ ہو تو مسئلہ نہیں ہوتا۔ ویرو نیکا خود برش یا لکڑی کا ڈنڈا استعمال کر کے اپنی پیٹھ کھجاتی ہے۔

محققین نے ویگیلے خاندان کے ساتھ قیام کیا اور قریب سے ویرونیکا کا مشاہدہ کیاتصویر: Antonio J Osuna Mascaró

’ایمبڈیڈ ٹولنگ‘ کا استعمال

یہی عمل اسے پہلی ایسی گائے بناتا ہے جس میں ''ایمبڈیڈ ٹولنگ‘‘ یعنی اپنے جسم پر آلہ استعمال کرنے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جب اسے ایک ڈیک برش دیا گیا تو ویرو نیکا نے اس کے دونوں سِرے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے، اس بات پر منحصر کہ وہ جسم کے کس حصے کو کھجانا چاہتی تھی۔ اس رویے کو ''ملٹی پرپز ٹول یوز‘‘ یعنی کسی اوزار کا کثیر الحہتی استعمال کہا جاتا ہے، جو اس سے قبل صرف انسانوں اور وسطی افریقہ کے چمپینزیوں میں دیکھا گیا تھا۔

اے آئی یا پھر اصل گائے؟

یہ دریافت ویانا کی یونیورسٹی آف ویٹرنری میڈیسن سے تعلق رکھنے والی جانوروں کے رویے کی ماہر ایلس آؤئرزپرگ اور ان کے ساتھی انتونیو اوسونا ماسکارو نے کی۔ انہوں نے ویرو نیکا کے رویے کو ریکارڈ کیا، اس کا تجزیہ کیا اور اپنی تحقیق 19 جنوری 2026 کو سائنسی جریدے کرنٹ بائیالوجی میں شائع کی۔

تحقیق شروع ہونے سے پہلے ایک بنیادی سوال تھا: کیا ویرو نیکا واقعی ایک حقیقی گائے ہے؟

مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک ویڈیوز اور غلط معلومات کے دور میں آؤئرزپرگ محتاط تھیں۔ فروری 2025 میں جانوروں کی جدت پر اپنی کتاب شائع کرنے کے بعد انہیں لوگوں کے بے شمار پیغامات موصول ہوئے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے پالتو جانوروں میں غیرمعمولی رویے دیکھے ہیں۔ زیادہ تر دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں تھی۔

تاہم ایک ویڈیو نے ان کی توجہ حاصل کر لی۔ اس میں ایک بھوری گائے ایک پرانے برش کے ذریعے اپنی پیٹھ کھجاتی دکھائی دے رہی تھی، اور پس منظر میں ایک ایسا آسٹریائی گاؤں تھا جو بقول آؤئرزپرگ ''دی ساؤنڈ آف میوزک‘‘ جیسا لگتا تھا۔ دلچسپی کے باوجود انہوں نے شک کو برقرار رکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر گائے کو دیکھیں گی۔

آؤئرزپرگ نے کہا، ''ہم محض کسی روایت یا قصے پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ آج کل ڈیپ فیک بنانا آسان ہے یا پھر کسی رویے کو سخت تربیت کے ذریعے سکھایا جا سکتا ہے۔‘‘ چنانچہ وہ اور اوسونا ماسکارو نوئچ پہنچے۔

وہاں انہیں کوئی ڈرامائی منظر نہیں بلکہ ایک پُرسکون گائے ملی، جو غیرمعمولی حد تک بھرپور زندگی گزار رہی تھی۔ ویرو نیکا کے مالک وٹکار ویگیلے اس سے پہلے اس کی ماں کو بھی پالتو جانور کے طور پر رکھ چکے تھے۔ ویرو نیکا خود بھی اپنے مالک کو دیکھتے ہی زور زور سے ڈکارتی ہے، جو اس کے انسانوں سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

ستر تجربات

محققین نے ویگیلے خاندان کے ساتھ قیام کیا، سیب کی اشٹرُوڈل (ویانا کی معروف ترین سیب سے بنی پیسٹری) کھائیں  اور ویرو نیکا کا اس کی چراگاہ میں غور سے مشاہدہ کیا۔ چند دن بعد آؤئرزپرگ ویانا واپس لوٹ گئیں لیکن اوسونا ماسکارو کئی ہفتوں تک وہیں رہے تاکہ منظم انداز میں مشاہدہ کر سکیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 70 تجربات کیے۔

ان تجربات میں ویرو نیکا بار بار ملٹی پرپز ٹول یوز کا مظاہرہ کرتی رہی۔ جب اسے ڈیک برش دیا گیا تو اس نے واضح طور پر برش والے سرے کو ترجیح دی اور اسے ہینڈل کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ استعمال کیا۔ وہ اس سرے سے اپنے جسم کے پچھلے اور اوپری حصوں کو لمبی اور ہموار حرکات کے ساتھ کھجاتی تھی۔ لیکن ہینڈل کو اس نے نظرانداز نہیں کیا۔

 اوسونا ماسکارو نے کہا، ''ابتدا میں ہمیں لگا کہ ہینڈل کا استعمال محض ایک غلطی ہے، مگر ایسا نہیں تھا۔‘‘

ویرو نیکا نے ہینڈل کو دانستہ طور پر جسم کے ان حصوں کو کھجانے کے لیے استعمال کیا، جہاں جلد زیادہ نرم اور حساس ہوتی ہے، جیسے تھن، ناف کے قریب کا حصہ اور پیٹ۔ ان مواقع پر اس کی حرکات بھی بدل جاتیں، وہ لمبی جنبشوں کے بجائے نہایت محتاط اور کنٹرول انداز میں ہینڈل استعمال کرتی۔

اوسونا ماسکارو کے لیے ویرو نیکا کو جاننا ایک گہرا  تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا، ''کبھی کبھی گائیں بلیوں جیسا رویہ دکھاتی ہیں، وہ کتوں کی طرح فوراً انسان کے پاس نہیں آتیں۔ ان کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے۔‘‘ یہی اعتماد اور باریک بینی شاید اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اس طرح کا رویہ اتنے عرصے تک کیوں نظر انداز ہوتا رہا۔

جانوروں کی ذہانت پر تحقیق عموماً چمپینزیوں، ڈولفنز یا کووں جیسے نسبتاً غیرمعمولی جانوروں پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے برعکس گائیں دنیا کے سب سے عام جانوروں میں شمار ہوتی ہیں۔ تقریباً دس ہزار سال قبل انہیں پالتو بنایا گیا، وہ ہر جگہ موجود ہیں اور اسی وجہ سے اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔

’’اس لیبارٹری سے کوئی جانور زندہ واپس نہیں جاتا۔۔۔‘‘

02:53

This browser does not support the video element.

’گایوں کی آئین اسٹائن‘

آؤئرزپرگ نے کہا، ''ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ گائیں بیوقوف ہوتی ہیں، یہ مویشی ہیں، ہم ان سے جدت کی توقع نہیں رکھتے۔‘‘ ویرو نیکا اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہے۔

محققین کا خیال نہیں کہ وہ کوئی غیرمعمولی ذہین گائے ہے۔ آؤئرزپرگ نے کہا ''ہم نہیں سمجھتے کہ ویرو نیکا کوئی گایوں کی آئن اسٹائن ہے۔‘‘  ان کے مطابق اصل فرق ویرو نیکا کے ماحول نے پیدا کیا۔

زیادہ تر گایوں کے برعکس ویرو نیکا محدود جگہ میں قید نہیں، نہ ہی اسے کم عمری میں ذبح کیا گیا۔ وہ 13 برس کی عمر تک زندہ رہی ہے، ایک ایسی عمر جس تک اکثر گائیں نہیں پہنچ پاتیں۔ اسے گھومنے پھرنے کی آزادی ملی، چیزوں سے تعامل کا موقع ملا اور انسانوں نے اسے ایک فرد کے طور پر دیکھا، نہ کہ محض پیداوار کا ذریعہ۔

اس کے مالک کے مطابق ویرو نیکا کو لکڑیوں اور برش کے استعمال میں مہارت حاصل کرنے میں کئی برس لگے۔ سیکھنے کے لیے  ایسا طویل  وقت بیشتر مویشیوں کو کبھی میسر نہیں آتا: ''ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ گائیں بیوقوف جانور ہیں۔ یہ صلاحیت اگر اتنے عرصے تک نظر نہیں آئی تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم ان جانوروں کو کس طرح رکھتے ہیں۔‘‘

نتیجہ بے چین کرنے والا  اور گہرا بھی

اگر مناسب حالات میں گائیں آلے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو پھر اور ان کی  کون سی ذہنی صلاحیتیں  انسانوں کے مہیا کیے گئے نظام کے باعث چھپی رہتی ہیں؟ اور کتنے ہی عام سمجھے جانے والے جانور غیرمعمولی رویوں کے حامل ہو سکتے ہیں، اگر انہیں وقت، آزادی اور توجہ دی جائے؟

فی الحال ویرو نیکا نوئچ کی چراگاہ میں سکون سے چر رہی ہے اور کبھی کبھار خارش ہونے پر برش اٹھا لیتی ہے۔ وہ اس سائنسی بحث سے بے خبر ہے، جو اس نے چھیڑ دی ہے اور شاید یہی اس کہانی کی سب سے خوبصورت بات ہے۔

بعض اوقات سب سے بڑی دریافتیں کسی جنگل یا جدید لیبارٹری میں نہیں بلکہ ایک خاموش میدان، ایک تجسس بھری گائے اور تلاش کی آزادی سے جنم لیتی ہیں۔

ادارت: افسر اعوان

خاص صلاحیتوں کے حامل نئی دہلی کے بندر بھگانے والے

02:05

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں