1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

’اے ایف ڈی مشتبہ انتہا پسند گروہ‘ عدالتی فیصلہ برقرار

13 مئی 2024

جرمن عدالت نے انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت متبادل برائے جرمنی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک داخلی انٹیلی جنس ایجنسی حق بجانب ہے کہ وہ اس پارٹی مشکوک اداروں کی فہرست میں شامل کرے۔

Deutschland Berlin 2024 | Demonstration für Demokratie und gegen Gewalt | Schild AfD-Verbot
تصویر: Liesa Johannssen/REUTERS

مؤنسٹر میں واقع جرمن انتظامی عدالت نے اپنے ایک حکم میں کہا ہے کہ سیاسی جماعت متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) کو دائیں بازو کی انتہا پسند 'مشکوک‘ آرگنائزیشن قرار دیے جانے کا فیصلہ درست ہے۔ اے ایف ڈی مشتبہ انتہا پسند گروہ کلاسیفائی کرنے کے نتیجے میں اس پارٹی کے ممبران کی نگرانی کے علاوہ ان سے تفتیش بھی ممکن ہو جائے گی۔

جرمن شہر کولون کی ایک ذیلی عدالت نے سن 2022 میں بھی اے ایف ڈی کی ایک اپیل کو مسترد کیا تھا۔ شکوک کی بنیاد پر ملک داخلی انٹیلی جنس ایجنسی BfV نے اے ایف ڈی کو اس فہرست میں شامل کیا تھا۔

تاہم مہاجرت مخالف اے ایف ڈی نے مؤنسٹر کی انتظامی عدالت میں اپیل دائر کر دی تھی۔ تاہم اس ناکامی کے بعد اے ایف ڈی نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں اپیل دائر کرے گی۔

چین کے لیے جاسوسی کا الزام، یورپی پارلیمنٹ میں جرمن عملے کا رکن گرفتار

دائیں بازو کے ایک جرمن سیاستدان سے امریکی ایف بی آئی کی پوچھ گچھ

جرمنی کی عوامیت پسند سیاسی پارٹی اے ایف ڈی سن 2013 میں بنائی گئی تھی۔ مختصر وقت میں ہی اس سیاسی جماعت نے عوامی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔

کیا جرمنی میں تارکین وطن اور اسلام کے خلاف منفی جذبات بڑھ رہے ہیں؟

06:07

This browser does not support the video element.

ابتدا میں اس پارٹی نے یورو زون کے ایسے رکن ممالک کے لیے جاری کیے جانے والے بیل آؤٹ پیکج کے خلاف عوامی مہم شروع کی تھی سن 2015 میں اس نے مہاجرت مخالف بیانیہ اختیار کر لیا تھا۔

تب سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کی بڑی تعداد کو جرمنی آنے کی اجازت دی تھی تاہم اے ایف ڈی نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور اسی بیانیے پر لوگوں کی حمایت حاصل کی۔ گزشتہ الیکشن میں یہ پارٹی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری تھی۔

شدت پسندی جرمن ترقی کے لیے خطرہ ہے، مرکزی بینک کے سربراہ

کیا نوجوان جرمن ووٹر دائیں بازو کی سیاست میں پھنس سکتے ہیں؟

تاہم جنوری میں ایسی خبروں کے بعد اے ایف ڈی کی عوامی حمایت میں کمی دیکھی گئی کہ انتہاپسندوں نے ایک ملاقات میں ایک ایسے متنازعہ منصوبے پر بات چیت کی ، جس کے مطابق تارکین وطن پس منظر کے حامل افراد کو ملک بدر کر دیا جانا چاہیے۔ اس میٹنگ میں اے ایف ڈی کے ممبران بھی شریک ہوئے تھے۔

ان خبروں کے بعد جرمنی بھر میں مظاہرے بھی کیے گئے۔ ان مظاہروں میں اے ایف ڈی کی انتہا پسندانہ طرز سیاست کو مسترد کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت دائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کی خاطر ایکشن لے۔

ع ب، ع ت (روئٹرز، اے ایف پی)

کئی دہائیوں سے مفرور سابق جرمن دہشت گرد گرفتار

01:46

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں