جو بائیڈن نےامریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوٹن کے ساتھ منگل کے روز پہلی مرتبہ فون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماوں نے باہمی تعلقات میں کشیدگی کا سبب بننے والے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی صدر نے اپنے روسی ہم منصب سے انتخابات میں مداخلت، افغانستان میں روس کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں کے سر کی قیمت مقرر کرنے، الیکسی ناوالنی کی گرفتاری اور سائبر حملوں کے متعلق بات کی جب کہ روسی صدر نے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے باہمی معاہدے (نیو سٹارٹ) میں توسیع کی بائیڈن کی تجویز پر توجہ مرکوز کی۔
دونوں ملکوں کی دارالحکومتوں سے جاری کردہ بیانات میں مختلف امور پر زور دیا گیا ہے لیکن دونوں اس بات پر متفق تھے کہ بائیڈن انتظامیہ کے کم از کم ابتدائی دنوں میں امریکا۔ روس تعلقات کے حوالے سے کسی طرح کا نقصان نا ہو تاہم جو نقصانات ہوچکے ہیں ان کودور کرنے کرنے کی کوئی جلد بازی بھی نہیں ہے۔
نیو اسٹارٹ معاہدے کی توسیع پر متفق
دونوں صدور اس بات پر متفق تھے کہ ان کی ٹیمیں جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے باہمی معاہدے(نیو سٹارٹ) کے اگلے پانچ سال تک توسیع کے سلسلے میں تیزی سے کام کریں گی۔ یہ معاہدہ اگلے ماہ ختم ہونے والا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کو ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدے سے الگ کرلیا تھا اور اس کی معیاد کے ختم ہونے کے منتظر تھے۔
دونوں رہنما جوہری معاہدے کی توسیع کے سلسلے میں گو کہ مل کر کام کرنے پر رضامند ہیں تاہم وائٹ ہاوس نے کہا کہ بائیڈن یوکرین کی خود مختاری کے معاملے میں امریکی حمایت کے حوالے سے اپنے عہد پر قائم ہے جبکہ روس ملک کے مشرق میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔
صدر بائیڈن نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا”میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں اپنے ملکوں کے باہمی فوائد کے لیے نیو سٹارٹ معاہدے پر کام کر سکتے ہیں اور روس کو یہ واضح انداز میں بتا سکتے ہیں کہ ہم ان کے رویے، چاہے یہ ناوالنی سے متعلق ہو، سولر ونڈز یا افغانستان میں امریکیوں کی سر کی قیمت مقرر کرنے جیسے معاملات ہوں، کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔"
سپری کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن جوہری صلاحیت رکھنے والے نو ممالک اپنے ایٹم بموں کو جدید اور مزید مہلک بھی بنا رہے ہیں۔ کس ملک کے پاس کتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں؟
تصویر: Getty Images/AFP/J. Samad
روس
سپری کے مطابق 6,375 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ روس سب سے آگے ہے۔ روس نے 1,570 جوہری ہتھیار نصب بھی کر رکھے ہیں۔ سابق سوویت یونین نے اپنی طرف سے پہلی بار ایٹمی دھماکا سن 1949ء میں کیا تھا۔ سن 2015 میں روس کے پاس آٹھ ہزار جوہری ہتھیار تھے، جن میں سے متروک ہتھیار ختم کر دیے گئے۔ سپری کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اور امریکا جدید اور مہنگے جوہری ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Anotonov
امریکا
سن 1945 میں پہلی بار جوہری تجربے کے کچھ ہی عرصے بعد امریکا نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کیے تھے۔ سِپری کے مطابق امریکا کے پاس اس وقت 5,800 ایٹمی ہتھیار ہیں، جن میں 1,750 تعنیات شدہ بھی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ جوہری ہتھیاروں کی تجدید کر رہی ہے اور امریکا نے 2019 سے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے بارے میں معلومات عام کرنے کی پریکٹس بھی ختم کر دی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/C. Riedel
چین
ایشیا کی اقتصادی سپر پاور اور دنیا کی سب سے بڑی بری فوج والے ملک چین کی حقیقی فوجی طاقت کے بارے میں بہت واضح معلومات نہیں ہیں۔ اندازہ ہے کہ چین کے پاس 320 ایٹم بم ہیں اور سپری کے مطابق چین اس وقت جوہری اسلحے کو جدید تر بنا رہا ہے۔ نصب شدہ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں معلوات دستیاب نہیں ہیں۔ چین نے سن 1964ء میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔
تصویر: picture alliance/Xinhua/L. Bin
فرانس
یورپ میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار فرانس کے پاس ہیں۔ ان کی تعداد 290 بتائی جاتی ہے جن میں سے 280 نصب شدہ ہیں۔ فرانس نے 1960ء میں ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کی تھی۔ سپری کے مطابق فرانس کسی حد تک اب بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں معلومات عام کر رہا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J.-L. Brunet
برطانیہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ سن 1952ء میں کیا تھا۔ امریکا کے قریبی اتحادی ملک برطانیہ کے پاس 215 جوہری ہتھیار ہیں، جن میں سے 120 نصب ہیں۔ برطانیہ نے اپنا جوہری ذخیرہ کم کر کے 180 تک لانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Poa/British Ministry of Defence/T. Mcdonal
پاکستان
پاکستان کے پاس 160 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ سپری کے مطابق سن 1998 میں ایٹم بم تیار کرنے کے بعد سے بھارت اور پاکستان نے اپنے ہتھیاروں کو متنوع بنانے اور اضافے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مطابق ان کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر اب ان ہمسایہ ممالک کے مابین کوئی جنگ ہوئی تو وہ جوہری جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP
بھارت
سن 1974 میں پہلی بار اور 1998 میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کرنے والے ملک بھارت کے پاس 150 ایٹم بم موجود ہیں۔ چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے پہلے کوئی جوہری حملہ نہیں کرے گا۔ بھارت اور پاکستان اپنے میزائل تجربات کے بارے میں تو معلومات عام کرتے ہیں لیکن ایٹمی اسلحے کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم ی جاتی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Swarup
بھارت
سن 1974ء میں پہلی بار اور 1998ء میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کرنے والے ملک بھارت کے پاس نوے سے ایک سو دس تک ایٹم بم موجود ہیں۔ چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے پہلے کوئی جوہری حملہ نہیں کرے گا۔
تصویر: Reuters
اسرائیل
سن 1948ء سے 1973ء تک تین بار عرب ممالک سے جنگ لڑ چکنے والے ملک اسرائیل کے پاس مبیبہ طور پر قریب 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسرائیل اب بھی اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی بھی معلومات عام نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تصویر: Reuters/M. Kahana
اسرائیل
سن 1948ء سے 1973ء تک تین بار عرب ممالک سے جنگ لڑ چکنے والے ملک اسرائیل کے پاس قریب 80 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسرائیلی ایٹمی پروگرام کے بارے میں بہت ہی کم معلومات دستیاب ہیں۔
تصویر: Reuters/B. Ratner
شمالی کوریا
شمالی کوریا 30 سے 40 جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کے بعد شمالی کوریا نے میزائل اور جوہری تجربات روکنے کا اعلان کیا تھا، لیکن پھر اس پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ شمالی کوریا کا اصل تنازعہ جنوبی کوریا سے ہے تاہم اس کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس کمیونسٹ ریاست نے سن 2006ء میں بھی ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/AP Photo/KCNA/Korea News Service
شمالی کوریا
ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کم از کم بھی چھ جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ شمالی کوریا کا اصل تنازعہ جنوبی کوریا سے ہے تاہم اس کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود اس کمیونسٹ ریاست نے سن 2006ء میں ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔
تصویر: Reuters
12 تصاویر1 | 12
تعلقات بہتر کرنے کی جلد بازی نہیں
بائیڈن نے اپنی گفتگو سے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی کہ وہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بے قرار نہیں ہیں بلکہ اختلافات کے حل کیے بغیر اور تعلقات کو بہتر بنائے بغیر بھی معاملات کو درست رکھنا چاہتے ہیں۔
بائیڈن نے سولر ونڈز سائبر ہیکنگ کا معاملہ اٹھایا جس میں مبینہ طور پر روس پر ملو ث ہونے کا الزام ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے سروں پر روس کی جانب سے قیمت رکھنے کی مبینہ خبروں، سن 2020 کے امریکی انتخابات میں مداخلت، ناوالنی کو زہر دینے اور ناوالنی کے حامیوں کے خلاف گزشتہ دنوں کارروائی کرنے جیسے معاملات پر بھی روسی صدر سے بات کی۔
وائٹ ہاوس کے مطابق”صدر بائیڈن نے واضح طور پر کہا کہ امریکا اپنے قومی مفادات کا مضبوطی کے ساتھ دفاع کرے گا اور اگر روس نے اسے یا اس کے حلیفوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف اقدامات کرے گا۔"
اشتہار
کریملن کا بیان
بائیڈن اور پوٹن کے درمیان گفتگو کے بعد کریملن کی طرف سے جاری بیان میں دونوں ملکوں کے مابین بیشتر متنازعہ معاملات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے 'باہمی اور بین الاقوامی امور سے متعلق سنگین مسائل" پر تبادلہ خیال کیا۔
کریملن سے جاری بیان میں اسے ”کاروباری نوعیت اور بے تکلفانہ" قرار دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ”دونوں رہنماوں نے مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔“
کریملن نے بیان میں کہا کہ پوٹن نے بائیڈن کو امریکا کا صدر بننے پر مبارک باد دی اور کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان تعلقات معمول پر آنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ دونوں رہنماوں نے کورونا وائرس کی وبا، ایران جوہری معاہدہ، یوکرین اور تجارت اور معیشت کے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
الیکسی نوالنی کون ہیں؟
02:54
This browser does not support the video element.
ناوالنی کا مسئلہ
صدر بائیڈن اور پوتن کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب چند دنوں قبل ہی روس کے ایک سو سے زائد شہروں میں پوتن مخالف رہنما ناوالنی کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے۔ جس کے بعد حکومت نے تقریباً چار ہزار افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے مظاہرین کے خلاف اس کارروائی کی شدید مذمت کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا”ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آفاقی حقوق پر عمل کرنے والے افراد کو رہا کرے اور ناوالنی کو غیر مشروط اور فوری رہائی کو یقینی بنائے۔"
ساکی نے روس سے اگست 2020 میں ناوالنی کو زہر دیے جانے کے معاملے پر ایک بین الااقوامی تحقیقات میں تعاون کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا اور اپنے ایک شہری پر کیمیائی ہتھیار نوی چوک کے استعمال کی 'قابل اعتبار وضاحت‘پیش کرنے کا کہا۔
روسی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
جو بائیڈن امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ولادیمیر پوٹن سے پہلے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدرایمانوئل میکروں اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے فون پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔
ج ا / ص ز (اے پی، روئٹرز)
گزشتہ صدی کے دوران خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو زہر دینے کے متعدد واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ روسی صدر پوٹن کے ناقد الیکسی ناوالنی کا ہے۔
تصویر: Imago Images/Itar-Tass/S. Fadeichev
الیکسی ناوالنی
روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کو ماسکو جانے والی پرواز میں اچانک علیل ہونے پر فوری لینڈنگ کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا ہے۔ روسی صدر پوٹن کے بڑے ناقد چوالیس سالہ سابقہ وکیل ناوالنی نے سائبیریا کے علاقے اومسک کے ایئر پورٹ پر ایک کپ چائے پی تھی۔
تصویر: Getty Images/AFP/K. Kudrayavtsev
پیوٹر ورزیلوف
سن 2018 میں انسانی حقوق کے روسی نژاد کینیڈین کارکن پیوٹر ورزیلوف کو نازک حالت میں ماسکو کے ایک ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔ انہیں مبینہ طور پر زہر اس وقت دیا گیا جب انہوں نے ایک انٹرویو میں روسی عدالتی نظام پر تنقید کی تھی۔ وہ روسی میوزیکل بینڈ ’پُوسی رائٹ‘ کے غیر سرکاری ترجمان تھے۔ انہیں بعد میں برلن کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں زہر دینے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Tass/A. Novoderezhkin
سیرگئی اسکریپل
66 سالہ سابقہ روسی جاسوس سیرگئی اسکریپل کو برطانوی شہر سالسبری کے ایک شاپنگ مال کے باہر بینچ پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا۔ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ اعصاب معطل کرنے والے ایجنٹ نوویچوک کے ذریعے انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ فوری طبی امداد سے بچ گئے تھے۔ روسی حکومت نے اسکریپل کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور واقعے پر لاعلمی ظاہر کی تھی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Tass
کِم جونگ نام
جنوبی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کِم جونگ نام کو 13 فروری سن 2008 کے دن چہرے پر اعصاب معطل کرنے والے ایجنٹ وی ایکس کے اسپرے سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ چہرے پر اسپرے کا واقعہ ملائیشیائی دارالحکومت کوالالم پور کے ہوائی اڈے پر ہوا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Kambayashi
الیگزینڈر لِیٹویننکو
روسی خفیہ ادارے FSB کے سابق ایجنٹ الیگزینڈر لِیٹویننکو نے منحرف ہو کر برطانیہ میں پناہ لے لی تھی۔ وہ 23 نومبر سن 2006 کو مختصر بیماری کے بعد ہلاک ہو گئے۔ بیمار ہونے سے قبل انہوں نے سابقہ سوویت یونین کے دو ایجنٹوں سے ملاقات کی تھی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ انہیں تابکار پولونیم دینے سے مارا گیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Kaptilkin
وکٹور کلاشنیکوف
نومبر سن 2010 کو برلن کے شاریٹے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے روسی منحرف کلاشنیکوف جوڑے کے جسموں میں پارے کی بھاری مقدار کا پتہ چلایا تھا۔ وکٹور کلاشنیکوف ایک فری لانس صحافی بننے سے قبل سابقہ سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی میں کرنل متعین تھے۔ انہوں نے جرمن جریدے فوکس کو بتایا تھا کہ ماسکو حکومت نے انہیں زہر دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/RIA Novosti
وکٹور یوشچینکو
یوکرائنی اپوزیشن لیڈر یوشچینکو ستمبر سن 2004 میں بیمار ہو گئے۔ لیبارٹری ٹیسٹس سے پتہ چلا کہ بیماری کی بنیادی وجہ لبلبے میں زہریلے کیمیائی مواد کی موجودگی ہے۔ اس بیماری سے ان کے چہرے پر سیاہ نشان پیدا ہو گئے تھے۔ یوشچنکو کے مطابق انہیں حکومتی ایجنٹوں نے زہر دیا تھا۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Leodolter
خالد مشعل
پچیس ستمبر سن 1997 کو اسرائیلی خفیہ ادارے نے انتہا پسند فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مشعل کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ مشعل کو قتل کرنے کا حکم اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دیا تھا۔ اسرائیلی ایجنٹوں نے حماس کے لیڈر پر زہریلا اسپرے اردنی دارالحکومت عَمان میں کیا۔ مشعل اس حملے میں بچ گئے تھے۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Sazonov
جیورجی مارکوف
سن 1978 میں بلغاریہ کے منحرف جیورجی مارکوف برطانوی نشریاتی ادارے میں کام کرنے کے بعد بس اسٹاپ پر انتظار کر رہے تھے کہ ان کی ران میں اچانک کوئی نوک دار شے گُھس گئی۔ انہیں قریب ہی ایک چھتری پکڑے شخص دکھائی دیا۔ وہ چار دن بعد دم توڑ گئے۔ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ نوک دار شے کے ذریعے ان کے جسم میں خطرناک زہر ڈالا گیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/epa/Stringer
گریگوری راسپوٹین
تیس دسمبر سن 1916 کو راہب اور روحانی علاج کے ماہر راسپوٹین سینٹ پیٹرز برگ میں واقع یوسوپوف پیلس پرنس فیلکس کی دعوت پر پہنچے۔ شہزادے نے راسپوٹین کو سنکھیے زہر والا کیک کھانے کو دیا۔ اسی محفل میں انہیں سنکھیے والی شراب بھی دی گئی اور پھر بھی وہ زندہ رہے۔ بعد میں راسپوٹین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔