باغیوں سے براہ راست مذاکرات ناممکن، یوکرائن
19 نومبر 2014
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یوکرائنی دارالحکومت کییف سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر اعظم آرسینی یاٹسینی یُک نے مشرقی علاقوں میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کی کوششوں کے لیے وہاں فعال روس نواز باغیوں سے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ بدھ کے دن انہوں نے کہا، ’’ہم روسی دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔‘‘ کابینہ کی ایک میٹنگ میں وزیر اعظم آرسینی یاٹسینی یُک نے ماسکو حکومت پر زور دیا کہ وہ ستمبر میں بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کا احترام کرے۔
یوکرائنی وزیر اعظم نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ماسکو حکومت کی طرف سے باغیوں کو قانونی حیثیت دلانے کی کوشش ترک کی جانا چاہیے۔ مغرب نواز یاٹسینی یُک کا یہ کہنا بھی تھا کہ روس دراصل مشرقی یوکرائن میں دراندازی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اسے ان حرکتوں سے باز آ جانا چاہیے۔
کییف اور مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ماسکو حکومت یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں فعال باغیوں کی حمایت کرتے ہوئے اس علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔ تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن ان الزامات کو مسترد کرتے رہتے ہیں۔
ایک اور پیشرفت میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے بدھ کے دن ہی دعویٰ کیا کہ کییف حکومت کی طرف سے مشرقی علاقوں کو بجٹ کی رقوم فراہم نہ کرنا، اس تنازعے کو مزید شدید بنا سکتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ کییف حکومت نے باغیوں کے زیر تسلط مشرقی علاقوں کے لیے ملکی بجٹ کی 2.6 بلین یورو کے برابر رقوم منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روسی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ یوکرائنی حکومت کی طرف سے مشرقی علاقوں کو بجٹ کی رقوم فراہم نہ کرنے سے ’ایک نئی جنگ‘ شروع ہو سکتی ہے، ’’یوں کییف حکومت ایک ایسی صورتحال کو جنم دے رہی ہے، جس میں اس مالی معاملے کو حل کرنے کے لیے عسکری طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے اصرار کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کییف اور باغیوں کو براہ راست مذاکرات کرنا ہوں گے۔ لاوروف کے بقول اس تنازعے میں روس فریق نہیں بننا چاہتا۔
یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے درجنوں فوجی ٹرک، آرٹیلری اور دیگر بھاری اسلحہ جات دیکھے گئے ہیں۔ نیٹو کے مطابق روس نے اپنے ہمسایہ ملک کے مشرقی علاقوں میں ممکنہ طور پر فوج کشی کی ہے، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں مارچ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے نتیجے میں کم ازکم ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس بحران کے حل کے لیے عالمی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن قیام امن کے لیے ابھی تک کوئی اہم پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خبردار کیا ہے کہ یوکرائن کا تنازعہ یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔