بالٹک کی ایک اور ریاست یورو زون میں شامل
9 جولائی 2013
لیٹویا کے وزیراعظم والدیزڈومبروفسکیس نے یورو زون کے ممبر ممالک کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا،’ یہ لیٹویا کے لیے ایک بڑا خوش آئند دن ہے اور یورو زون کے لیے بھی ایک غیر معمولی دن ہے۔ یہ فیصلہ دونوں کے لیے بہت اچھا ثابت ہو گا‘۔ یورپی اتحاد ای یو کی کونسل ECOFIN میں یورپی یونین کے 28 ممبر ممالک کے وزرائے اقتصادیات و مالیات شامل ہیں۔ لیٹویا کو یورو زون میں شامل کرنے کا فیصلہ اس کونسل کی رسمی منظوری سے کیا گیا ہے۔
آج اس فیصلے کے اعلان کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیٹویا کے وزیراعظم نے کہا،’ ہم یکم جنوری 2014 ء سے یورو زون میں شامل ہو جائیں گے‘۔ لیٹویا سابق سوویت ریاست رہ چکی ہے۔ اسے 2004 ء میں یورپی یونین کی رکنیت ملی تھی۔ تب سے یہ ملک یورو زون میں شمولیت کی کوششیں کر رہا تھا اور آخر کار طویل مسافت طے کر کہ یہ چھوٹی سی ریاست یورو زون کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق برسلز میں جمع یورپی یونین کے وزرائے خزانہ نے آج اپنے اجلاس میں اُن متعدد قانونی دستاویزات کی منظوری دے دی، جن کے نتیجے میں یورو زون میں اس ملک کی شمولیت ممکن ہو گئی ہے۔ اُدھر لیٹویا کے دارالحکومت ریگا سے ملنے والی خبروں میں ایک تازہ سروے کے نتائج بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لیٹویا کے نصف سے زیادہ شہری اپنے ہاں یورو کرنسی کے اجراء کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس سروے کے 53 فیصد شرکاء نے یورو کے خلاف جبکہ صرف 22 فیصد نے اس کے حق میں ووٹ دیے۔
دریں اثناء لیٹویا کے وزیراعظم والدیز ڈومبروفسکیس نے یورو زون کے تمام رکن ممالک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یورو زون کے موجودہ بحران کے باوجود تمام رکن ممالک ملک کر اس زون اس کے لیے فائدے فراہم کریں گے۔ اُن کا اشارہ سود کی کم شرح، کرنسی کے تبادلے پر آنے والے کم اخراجات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی طرف تھا۔
اُدھر لیٹویا کے وزیر خارجہ اڈگارس رینکے وکس نے کہا کہ اُن کی حکومت کواب بھی بہت کچھ کرنا ہوگا اپنے عوام کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ یہ ایک صحیح فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا،’ میں اس امر سے پوری طرح مطمئن اور خوش نہیں ہوں کہ ملک کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ یورو پر یقین نہیں رکھتا اور اس کی مخالفت کر رہا ہے‘۔ انہوں نے یہ بیان خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیا۔
دریں اثناء یورپی کمشنر برائے اقتصادیات و مالی امور ’اولی ریہن‘ نے اس امر پر زور دیا کہ ایک بالٹک ریاست کی شمولیت یورو زون کے لیے فائدہ مند ثابت ہو چُکی ہے۔ یعنی ایستونیا، جسے 2011 ء میں یورو زون کی رکنیت ملی تھی، کے اس سنگل کرنسی میں شامل ہونے سے اس زون کو فائدہ پہنچا ہے۔’اولی ریہن‘ کے بقول،’ تجربہ بتاتا ہے کہ جو ممالک میکرو یا مفصل اقتصادی عدم توازن سے بچتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں اور انہیں یورو سے فائدہ حاصل ہوتا ہے‘۔